پاکستان، عمان بحریہ کی مشترکہ مشقیں، سمندری حدود کے تحفظ کیلئے نیوی ہر وقت تیار: خواجہ آصف
اشاعت کی تاریخ: 12th, January 2026 GMT
اسلام آباد‘مسقط (خبر نگار خصوصی +نوائے وقت رپورٹ) پاک بحریہ کے جہازوں راہ نورد، مددگار اور پاکستان میری ٹائم سکیورٹی ایجنسی کے جہاز کشمیر نے پورٹ سلطان قابوس، مسقط، عمان کا دورہ کیا۔ بندرگاہ پہنچنے پر عمانی حکام کی جانب سے جہازوں کا پرتپاک استقبال کیا گیا۔ دورے کے دوران مشن کمانڈر کموڈور عامر اقبال نے کمانڈنگ افسرز کے ہمراہ عمان کی بحری قیادت سے ملاقاتیں کیں۔ مشن کمانڈر نے رائل نیوی آف عمان کے قائم مقام کمانڈر، ڈی جی آپریشنز اینڈ پلانز، کمانڈر میری ٹائم سکیورٹی سینٹر، کمانڈر سید بن سلطان نیول بیس اور کمانڈنٹ سلطان قابوس نیول اکیڈمی سے ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں کے دوران باہمی دلچسپی کے امور، بحری افواج کے مابین روابط اور میری ٹائم سکیورٹی میں تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ رائل نیوی آف عمان کے آفسرز اور مڈ شپ مین نے جہازوں کا دورہ بھی کیا اور پاک بحریہ کے افسران کے ساتھ باہمی دلچسپی کے موضوعات پر تبادلہ خیال کیا۔ بندرگاہ پر قیام کے دوران عمان کے عسکری حکام اور عام شہریوں نے پاک بحریہ کے جہازوں کا دورہ کیا جس میں بڑی تعداد پاکستانی کمیونٹی اور پاکستان سکول مسقط کے طلباء کی تھی۔ بندرگاہ کے دورے کے بعد پاک بحریہ اور پاکستان میری ٹائم سکیورٹی ایجنسی کے جہازوں نے رائل نیوی آف عمان کے جہاز خصب (KHASAB ) کے ساتھ بحری مشق کی۔ اس مشق کا مقصد دونوں بحری افواج کے درمیان باہمی تعاون کو بڑھانا اور بحری مشقوں کے دو طرفہ انعقاد کے ذریعے سیکھنے کے مشترکہ مواقع کو فروغ دینا تھا۔ پاکستان اور عمان سمندری پڑوسی ہیں اور دونوں ممالک کے مابین اعلیٰ حکام کے ساتھ ساتھ بحری جہازوں کی پورٹ کالز اور مشترکہ مشقیں باقاعدگی سے منعقد کی جاتی ہیں۔ پاک بحریہ اور پاکستان میری ٹائم سکیورٹی ایجنسی کے جہازوں کے اس دورے سے دونوں بحری افواج کے درمیان دوطرفہ تعلقات مزید مضبوط ہوں گے۔ وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے پاک بحریہ کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ترجمان وزارتِ دفاع کے مطابق وزیر دفاع خواجہ آصف نے شمالی بحیرہ عرب میں جامع بحری مشق کے کامیاب انعقاد پر پاک بحریہ کے افسران اور جوانوں کو دلی مبارکباد پیش کی ہے۔وزیر دفاع نے مشقوں کے دوران پاک بحریہ کی اعلی آپریشنل تیاری، جنگی استعداد اور پیشہ ورانہ مہارت کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاک بحریہ کسی بھی چیلنج سے نمٹنے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے۔ پاک بحریہ ملکی سمندری حدود اور اہم بحری مفادات کے تحفظ کے لیے ہر وقت تیار ہے۔وزیر دفاع نے اس بات پر زور دیا کہ ایسی مشقیں قومی سلامتی کو مزید مضبوط بنانے اور خطے میں امن و استحکام کے فروغ میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران کریملن کے ترجمان کا کہنا تھا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ روس یوکرین تنازع کے حل کے لیے مذاکرات پر آمادہ ہے، تاہم یورپی ممالک کی جانب سے کیف حکومت کی مسلسل حوصلہ افزائی کے باعث روس اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے ہوئے ہے۔ روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران دیمتری پیسکوف نے کہا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ روسی افواج خصوصی فوجی آپریشن کے دوران مثبت پیش رفت حاصل کر رہی ہیں اور میدانِ جنگ میں صورتحال حوصلہ افزا ہے۔
کریملن کے ترجمان نے بتایا کہ یوکرین کے معاملے پر روس اور امریکا کے درمیان رابطے برقرار ہیں، تاہم اس مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ تنازع کے حل کی کوششوں میں کوئی نمایاں پیش رفت یا تیزی آئی ہے۔ دیمتری پیسکوف نے کہا کہ موجودہ ورکنگ چینلز کے ذریعے امریکا کے ساتھ رابطے جاری ہیں اور امید ہے کہ امریکی مذاکرات کار اپنی مصروفیات مکمل ہونے کے بعد ماسکو کا دورہ کریں گے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا جا سکے۔
جوہری عدم پھیلاؤ کے حوالے سے روس کے مؤقف پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ماسکو جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کی روک تھام کے اصول پر قائم ہے، تاہم ہر ملک کو پُرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہونا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ روس کا مؤقف جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ سے متعلق ہے، جبکہ ایران، سعودی عرب اور دیگر ممالک کو پُرامن جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہے اور اس حق کی ضمانت دی جانی چاہیے۔