فلسطینیوں کیساتھ، اسرائیل نے صومالیہ کی خودمختاری پر حملہ کیا: اسحاق ڈار
اشاعت کی تاریخ: 12th, January 2026 GMT
جدہ (نوائے وقت رپورٹ+ این این آئی) نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ اسرائیل نے صومالی لینڈ کو تسلیم اور وزیر خارجہ بھیج کر صومالیہ کی بین الاقوامی تسلیم شدہ سرحدوں پر براہ راست حملہ کیا ہے۔ پاکستان صومالیہ کی خودمختاری کا احترام اور حمایت کرتا ہے۔ اسلامی تعاون تنظیم کی وزرائے خارجہ کونسل کے غیر معمولی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ اسرائیل کا صومالی لینڈ کو تسلیم کرنا اور اسرائیلی وزیرخارجہ کے صومالی لینڈ جانے کی غیرقانونی اور غیرحقیقی کارروائی کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ پاکستان صومالیہ کی خودمختاری، وحدت اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت کرتا ہے۔ اسرائیلی وزیر خارجہ کا صومالی لینڈ کا دورہ انتہائی تشویشناک ہے۔ اسرائیلی اقدام ہارن آف افریقہ اور بحیرہ احمر میں امن و سلامتی کے لیے خطرہ ہے۔ صومالیہ کی ترقی اور استحکام کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ نائب وزیراعظم نے زور دیا کہ پاکستان فلسطینی عوام کے حق خودارادیت کے ساتھ کھڑا ہے۔ غزہ میں جنگ کے خاتمے اور انسانی امداد کی فراہمی کے لیے کوششیں ضروری ہیں، پاکستان او آئی سی اور عرب ممالک کے ساتھ فلسطینی حق خود ارادیت کیلئے تعاون کرے گا۔ اسحاق ڈار نے او آئی سی وزراء خارجہ کونسل کے غیر معمولی اجلاس کے موقع پر او آئی سی کے سیکرٹری جنرل حسین ابراہیم طلٰحہ سے ملاقات کی۔ نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ نے او آئی سی کے سیکرٹری جنرل پر زور دیا کہ وہ کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کے حصول کے لیے اپنی کوششوں کو مزید تیز کریں۔ او آئی سی کے سیکرٹری جنرل نے مسلم اْمہ کے بنیادی مسائل کی حمایت میں او آئی سی کے پلیٹ فارم پر پاکستان کے مستقل اور تعمیری کردار کو سراہا۔ ادھر وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے جدہ میں او آئی سی کانفرنس کے موقع پر مالدیپ کے ہم منصب ڈاکٹر عبداللہ خلیل سے ملاقات کی۔ ملاقات میں پاکستان اور مالدیپ کے دوستانہ اور تعاون پر مبنی تعلقات پر اطمینان کا اظہار کیا۔ دفتر خارجہ کے مطابق دونوں ممالک کا دو طرفہ تعلقات مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔ ملاقات میں علاقائی اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اسحاق ڈار نے سعودی عرب کے نائب وزیر خارجہ ولید بن عبدالکریم الخریجی سے ملاقات کی۔ ملاقات میں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان سٹرٹیجک شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ او آئی سی فریم ورک کے تحت قریبی تعاون کی بھی توثیق کی گئی۔ دفتر خارجہ کے مطابق اسحاق ڈار نے بنگلہ دیشی کے مشیر برائے خارجہ امور ایم توحید حسین نے ملاقات کی اور دہ طرفہ تعاون کے مختلف شعبوں پر گفتگو کی گئی۔ دریں اثناء وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے گزشتہ روز مکہ مکرمہ میں عمرہ ادائیگی کی ۔ پاکستان اور امت مسلمہ کی بھلائی ترقی اور اتحاد کے لئے خصوصی دعا بھی کی۔ اسحاق ڈار نے جدہ میں آذربائیجان کے نائب وزیر خارجہ یلچن رفیعف سے ملاقات کی۔ ملاقات او آئی سی کے غیر معمولی وزرائے خارجہ اجلاس میں ہوئی، دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور آذریائیجان کے درمیان اعلیٰ سطح روابط پر اطمینان کا اظہار کیا۔ دونوں ممالک کی قیادت نے دو طرفہ تعلقات مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔ ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور اور تعاون کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: او ا ئی سی کے اسحاق ڈار نے سے ملاقات کی صومالی لینڈ پاکستان اور ملاقات میں صومالیہ کی پاکستان او او آئی سی
پڑھیں:
پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل عرفان سومرو نے کہا ہے کہ تجارتی ڈپلومیسی حکومت پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے اور پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ محض تجارتی حجم بڑھانے کا خواہاں نہیں بلکہ مضبوط اور پائیدار معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے۔
فیڈریشن ہاؤس کراچی میں فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے زیر اہتمام ڈی ایٹ چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (D-8 CCI) کی پاکستان نیشنل کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے دائریکٹر جنرل وزارت خارجہ عرفان سومرو نے کہا کہ ڈی ایٹ کے قیام کو تین دہائیاں گزر چکی ہیں، اب وقت آ گیا ہے کہ اس وژن کو عملی اقدامات میں تبدیل کیا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ ڈی ایٹ ممالک کی مشترکہ معیشت تقریباً 5 ہزار ارب ڈالر پر مشتمل ہے اور ایک ارب سے زائد آبادی مشرق بعید سے افریقہ تک پھیلی ہوئی ہے، جو باہمی تجارت اور سرمایہ کاری کے بے شمار مواقع فراہم کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ زراعت، معدنیات، سیاحت اور نوجوان افرادی قوت ڈی ایٹ ممالک کے اہم اثاثے ہیں، تاہم مختلف مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) پر مؤثر عمل درآمد نہ ہونے کے باعث رکن ممالک اپنی حقیقی معاشی صلاحیت سے بھرپور فائدہ نہیں اٹھا پا رہے۔
ڈی جی وزارت خارجہ کے مطابق پاکستان کی ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ سالانہ تجارت تقریباً 11 ارب ڈالر ہے، جس میں 8 ارب ڈالر درآمدات جبکہ 2.8 ارب ڈالر برآمدات شامل ہیں، اس عدم توازن کو کم کرنے اور برآمدات میں اضافے کی ضرورت پر زور دیا۔
عرفان سومرو نے کہا کہ پاکستان کی بندرگاہیں اور نوجوان آبادی ملکی معیشت کے لیے قیمتی اثاثہ ہیں، کاروباری برادری پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ پاکستانی سفارت خانوں کے ساتھ روابط بڑھائے تاکہ نئی منڈیوں تک رسائی اور سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت بین الاقوامی معاہدے اور سازگار پالیسی فریم ورک فراہم کر سکتی ہے، تاہم تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینا نجی شعبے کی ذمہ داری ہے، اس سلسلے میں ایف پی سی سی آئی کا کردار انتہائی اہم ہے۔
ڈائریکٹر جنرل وزارت خارجہ نے خواتین اور نوجوان کاروباری افراد پر زور دیا کہ وہ علاقائی تجارت اور اقتصادی سرگرمیوں میں بھرپور کردار ادا کریں، پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
اس موقع پر ایف پی سی سی آئی کے صدر عاطف اکرام شیخ نے قاہرہ میں منعقدہ چوتھی ڈی ایٹ ٹریڈ منسٹر کونسل کے فیصلوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے استنبول میں ترکیہ کی تنظیم TOBB کی سرپرستی میں ڈی ایٹ چیمبرز کے مستقل سیکرٹریٹ کے قیام کو اہم پیش رفت قرار دیا۔
ڈی ایٹ سیکریٹری جنرل سہیل محمود نے اپنے خصوصی پیغام میں رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ حلال معیشت، مالیاتی انضمام اور علاقائی تجارت کے مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔
ایف پی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگوں نے کہا کہ ڈی ایٹ ممالک کے درمیان اندرونی تجارت میں نمایاں اضافہ وقت کی اہم ضرورت ہے اور فیڈریشن پریفرینشل ٹریڈ ایگریمنٹ (پی ٹی اے) کو ناگزیر سمجھتی ہے۔
اجلاس میں انڈونیشیا، ترکیہ، ایران، مصر، ملائیشیا، نائجیریا، آذربائیجان اور بنگلہ دیش کے قونصل جنرلز، سینئر سفارت کاروں، ایف پی سی سی آئی کے نائب صدور امان پراچہ، آصف سخی، سابق صدر زبیر طفیل، سابق نائب صدور خالد تواب، حنیف گوہر، شبیر منشا، ناہید مسعود، نازلی عابد، ماہین خان اور دیگر کاروباری رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔