data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران میں گزشتہ دو ہفتوں سے جاری مظاہروں کے دوران ہلاکتوں کے بعد مظاہرین کی حمایت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اسرائیلی میڈیا کے مطابق صدر ٹرمپ نے ایران میں احتجاجی مظاہرین کی مدد کے حوالے سے اصولی فیصلہ کر لیا ہے۔ ادھر امریکی ٹی وی رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ ایران میں حالات کے تناظر میں صدر کو مختلف فوجی آپشنز پر بریفنگ دی گئی، جن میں ایرانی سکیورٹی فورسز کو نشانہ بنانے کے امکانات پر بھی غور شامل ہے۔

امریکی میڈیا کے مطابق ایران کے خلاف سائبر کارروائیوں، نئی پابندیوں کے نفاذ اور اسٹار لنک کے ذریعے ایران میں انٹرنیٹ سروس بحال کرنے جیسے آپشنز پر بھی زیر غور ہے۔

دوسری جانب ایران نے اتوار کے روز امریکی صدر کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی بھی امریکی جارحیت کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے پارلیمنٹ سے خطاب میں کہا کہ اگر امریکا نے کسی بھی قسم کا حملہ کیا تو ایران جوابی کارروائی میں اسرائیل اور خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو ’’جائز اہداف‘‘ قرار دے کر نشانہ بنائے گا۔

ایران میں ممکنہ امریکی مداخلت کے خدشات کے پیش نظر اسرائیل نے بھی ہائی الرٹ نافذ کر دیا ہے۔

ویب ڈیسک مقصود بھٹی.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ایران میں

پڑھیں:

علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق

ایرانی صدر سے ملاقات میں عراقی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ عراق اور ایران کی سلامتی ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے اور عراق اپنی سرزمین ایران کے خلاف کسی بھی کارروائی کے لیے استعمال نہیں ہونے دے گا۔ اسلام ٹائمز۔ امریکا کے دورے کے بعد عراقی وزیراعظم علی الزیدی نے ایران کا اہم دورہ کیا، جہاں انہوں نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور اعلیٰ ایرانی قیادت سے ملاقاتیں کیں۔خبر ایجنسی کے مطابق ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور عراقی وزیراعظم کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں دوطرفہ تعلقات، اقتصادی تعاون، توانائی، تجارت اور علاقائی سلامتی سمیت مختلف امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں ممالک نے اقتصادی تعاون اور مشترکہ سرمایہ کاری کو فروغ دینے پر اتفاق کیا، جبکہ نقل و حمل اور شہری تعاون سے متعلق نئے معاہدے بھی طے پائے۔
عراقی وزیراعظم علی الزیدی نے اس موقع پر کہا کہ عراق اور ایران کی سلامتی ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے اور عراق اپنی سرزمین ایران کے خلاف کسی بھی کارروائی کے لیے استعمال نہیں ہونے دے گا۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ ایران اور عراق کے درمیان تاریخی، مذہبی اور ثقافتی رشتے نہایت مضبوط ہیں، جبکہ خطے کا استحکام دونوں ممالک کی ترقی اور خوشحالی کے لیے ناگزیر ہے۔ خبر ایجنسی کے مطابق دورے کے اختتام پر منعقدہ دستخطی تقریب میں ایرانی اور عراقی وزراء نے مختلف تعاون کے معاہدوں کا تبادلہ بھی کیا۔

متعلقہ مضامین

  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم