data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران میں گزشتہ دو ہفتوں سے جاری مظاہروں کے دوران ہلاکتوں کے بعد مظاہرین کی حمایت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اسرائیلی میڈیا کے مطابق صدر ٹرمپ نے ایران میں احتجاجی مظاہرین کی مدد کے حوالے سے اصولی فیصلہ کر لیا ہے۔ ادھر امریکی ٹی وی رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ ایران میں حالات کے تناظر میں صدر کو مختلف فوجی آپشنز پر بریفنگ دی گئی، جن میں ایرانی سکیورٹی فورسز کو نشانہ بنانے کے امکانات پر بھی غور شامل ہے۔

امریکی میڈیا کے مطابق ایران کے خلاف سائبر کارروائیوں، نئی پابندیوں کے نفاذ اور اسٹار لنک کے ذریعے ایران میں انٹرنیٹ سروس بحال کرنے جیسے آپشنز پر بھی زیر غور ہے۔

دوسری جانب ایران نے اتوار کے روز امریکی صدر کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی بھی امریکی جارحیت کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے پارلیمنٹ سے خطاب میں کہا کہ اگر امریکا نے کسی بھی قسم کا حملہ کیا تو ایران جوابی کارروائی میں اسرائیل اور خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو ’’جائز اہداف‘‘ قرار دے کر نشانہ بنائے گا۔

ایران میں ممکنہ امریکی مداخلت کے خدشات کے پیش نظر اسرائیل نے بھی ہائی الرٹ نافذ کر دیا ہے۔

ویب ڈیسک مقصود بھٹی.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ایران میں

پڑھیں:

امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار

امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی اور مذاکرات سے متعلق غیر یقینی صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار رہیں۔

منگل کے روز برینٹ خام تیل 95.04 ڈالر فی بیرل جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) 91.99 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوا۔ دونوں بینچ مارکس گزشتہ سیشن میں 5 فیصد سے زائد اضافے کے بعد مستحکم رہے۔

سرمایہ کاروں کی توجہ خاص طور پر آبنائے ہرمز کی ممکنہ بحالی اور مشرق وسطیٰ کی کشیدگی پر مرکوز ہے۔ امریکی صدر نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور جلد کسی معاہدے کی امید ہے تاہم ایرانی میڈیا کے مطابق بات چیت میں تعطل بھی سامنے آیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں موجود اتار چڑھاؤ کا دارومدار امریکا-ایران مذاکرات اور خطے کی صورتحال پر ہے۔ دوسری جانب لبنان میں حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان جزوی جنگ بندی کو کشیدگی کم کرنے کی محدود کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔

یاد رہے کہ خلیجی علاقے میں کشیدگی کے باعث تیل اور ایل این جی کی عالمی ترسیل متاثر ہوئی جس سے قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار