نکسن آٹو نے جائیکو جے5 کی قیمتوں اور خصوصیات کا اعلان کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 12th, January 2026 GMT
نشاط گروپ کی ذیلی کمپنی نکسن آٹو نے سب سے زیادہ انتظار کی جانے والی گاڑی جائیکو جے5 ایس ایچ ایس ایچ ای وی کی ابتدائی قیمتوں اور مکمل تکنیکی خصوصیات کا اعلان کر دیا ہے۔
یہ گاڑی اپنے کامیاب پیشرو جایکو جے7 کے بعد سب کمپیکٹ ہائبرڈ ایس یو وی سیکشن میں متعارف ہو رہی ہے اور مقامی طور پر اسمبل شدہ یونٹ کے ساتھ صارفین کو مناسب قیمت پر پرمیئم ٹیکنالوجی فراہم کرے گی۔
یہ بھی پڑھیے: کیا اب بیرون ملک مقیم پاکستانی اپنی گاڑیاں پاکستان لا سکیں گے؟
شعبے کے تجزیہ کاروں کو حیران کرتے ہوئے، جے5 کی قیمتیں کافی پرکشش رکھی گئی ہیں۔ کمپنی کے مطابق جائیکو جے5 کمفرٹ کی قیمت 6,699,000 روپے اور پریمیئم ویرینٹ کی قیمت 7,699,000 روپے مقرر کی گئی ہے، یہ قیمتیں 10 مارچ 2026 تک برقرار رہیں گی۔
بیس ویرینٹ کی قیمت ٹویوٹا کرولا آلٹس سی وی ٹی 1.
دونوں ویرینٹس میں ایک 1.5 لیٹر ٹربوچارجڈ ہائبرڈ پاور ٹرین موجود ہے، جو 221 ہارس پاور اور 295 نیوٹن میٹر ٹارک فراہم کرتی ہے۔ اس کی بدولت گاڑی 0 سے 100 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار صرف 7.9 سیکنڈز میں حاصل کر سکتی ہے۔ 1.83 کلو واٹ فی گھنٹہ ہائبرڈ بیٹری کے ساتھ، جے5 کا دعویٰ شدہ فیول اکانومی 18.8 کلومیٹر فی لیٹر ہے، جو شہری اور طویل فاصلے کے سفر کے لیے بہترین انتخاب بناتی ہے۔
جایکو J5 کے ڈیزائن اور جہتیں بھی متاثر کن ہیں۔ اس کی لمبائی 4,380 ملی میٹر، چوڑائی 1,860 ملی میٹر اور اونچائی 1,650 ملی میٹر ہے، جبکہ وہیل بیس 2,620 ملی میٹر ہے۔ یہ سائز گاڑی کو ہونڈا اور ٹویوٹا کرولا کراس کے براہِ راست مقابلہ میں رکھتا ہے۔ بیرونی ڈیزائن میں ‘واٹر فال’ فرنٹ گرل اور 18 انچ کے الائے وہیلز شامل ہیں، جبکہ اندرونی حصے میں مینیمالسٹ “نیچر-انسپائرڈ” ڈیزائن، 13.2 انچ کا ٹچ اسکرین انفوٹینمنٹ سسٹم، 8 انچ ڈیجیٹل کلستر اور آٹھ اسپیکر پرمیئم آڈیو سسٹم موجود ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: بڑی خوشخبری، حکومت نے سستی الیکٹرک گاڑیاں فراہم کرنے کا منصوبہ تیار کرلیا
حفاظتی اور ٹیکنالوجی کے لحاظ سے، ٹاپ ویرینٹ پریمیئم میں ایڈوانس ڈرائیور اسسٹنس سسٹمز جیسے ایڈاپٹیو کروز کنٹرول اور بلائنڈ اسپاٹ ڈٹیکشن، 540 ڈگری پینورامک کیمرہ، چھ ایئر بیگز، ایکوسٹک گلاس اور اینٹی پنچ ونڈوز، وینٹیلیٹڈ فرنٹ سیٹس اور وائرلیس چارجنگ شامل ہیں۔
گاڑی کی باضابطہ بکنگ اب کھل چکی ہے، جس کے لیے جزوی ادائیگی 1,500,000 روپے کی گئی ہے۔ کمپنی کے مطابق پہلی بیچ کی ڈیلیوری فروری 2026 میں متوقع ہے۔ پاکستان میں ہائبرڈ مارکیٹ کے بڑھتے ہوئے رجحان کے ساتھ، جایکو جے5 اپنی فیول اکانومی اور پرمیئم خصوصیات کی وجہ سے نمایاں ہے، اور صارفین کو ‘ایک کروڑ’ روپے کے بجٹ کے بغیر لگژری تجربہ فراہم کرتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ذریعہ
ذریعہ: WE News
پڑھیں:
چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد:حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔
سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔
دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔
وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔