data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

سردیوں کا موسم آتے ہی جسم پر ٹھنڈی ہواؤں کے اثرات نمایاں ہونے لگتے ہیں، ایسے میں صحت مند رہنے کے لیے خوراک کا درست انتخاب بے حد اہم ہو جاتا ہے۔

مشرقی طب اور قدیم حکمت صدیوں سے اس بات پر زور دیتی آئی ہے کہ قدرتی اور دیسی غذائیں نہ صرف جسم کو توانائی فراہم کرتی ہیں بلکہ اندرونی حرارت کو برقرار رکھنے میں بھی مؤثر کردار ادا کرتی ہیں۔ یہی غذائیں خون کی گردش کو بہتر بنا کر سردی کے اثرات کم کرتی ہیں اور جسم کو متوازن رکھتی ہیں۔

دیسی غذاؤں میں گھی کو ہمیشہ سردیوں کی غذا کا بادشاہ قرار دیا جاتا رہا ہے۔ گھی میں موجود مفید چکنائیاں جسم کو فوری توانائی فراہم کرتی ہیں اور اندر سے گرم رکھنے میں مدد دیتی ہیں۔ روٹی، دال یا کھچڑی میں معمولی مقدار میں گھی شامل کرنے سے ہاضمہ بہتر ہوتا ہے، جو سرد موسم میں عموماً سست پڑ جاتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جب نظامِ ہاضمہ درست رہے تو جسم قدرتی طور پر سردی کا مقابلہ بہتر انداز میں کر پاتا ہے۔

اجوائن بھی سردیوں میں خاص اہمیت رکھتی ہے اور گھریلو نسخوں میں اس کا استعمال عام ہے۔ اجوائن معدے کو فعال بناتی ہے اور جسم کے اندرونی درجہ حرارت کو متوازن رکھنے میں مدد دیتی ہے۔ اسی لیے اجوائن والے پراٹھے یا اجوائن کا نیم گرم پانی سرد موسم میں بدہضمی اور ٹھنڈک سے بچانے کے لیے مفید سمجھا جاتا ہے۔ بزرگوں کے مطابق اجوائن کا باقاعدہ استعمال جسم میں جمع ہونے والی اضافی نمی کو بھی کم کرتا ہے۔

اسی طرح تل کو بھی گرم غذاؤں میں نمایاں مقام حاصل ہے۔ تل سے بنے لڈو، چکّی یا چٹنی سردیوں میں نہ صرف جسم کو توانائی فراہم کرتے ہیں بلکہ جلد کی خشکی اور جسمانی تھکن کو بھی دور کرتے ہیں۔

دیسی روایات میں تل کو سرد موسم کی خاص خوراک اسی لیے مانا جاتا ہے کہ یہ جسم میں دیرپا حرارت پیدا کرتا ہے۔ اسی طرح باجرے کی روٹی سردیوں کی پہچان سمجھی جاتی ہے، کیونکہ یہ دیر سے ہضم ہوتی ہے اور جسم کو زیادہ توانائی خرچ کرنی پڑتی ہے، جس سے قدرتی حرارت پیدا ہوتی ہے۔

ادرک بھی ہر گھر کی لازمی ضرورت سمجھی جاتی ہے، خاص طور پر سردیوں میں۔ چاہے اسے چائے میں شامل کیا جائے یا سالن میں، ادرک خون کی روانی بہتر بناتی ہے اور ہاتھ پاؤں کی ٹھنڈک دور کرنے میں مدد دیتی ہے۔  اس کے علاوہ مونگ کی دال، اگرچہ ہلکی غذا تصور کی جاتی ہے، مگر جب اسے گھی اور گرم مصالحوں کے ساتھ پکایا جائے تو یہ جسم کو سکون اور حرارت فراہم کرتی ہے۔

دیسی غذاؤں پر مشتمل یہ آزمودہ حکمت آج بھی اتنی ہی مؤثر ہے، کیونکہ قدرتی غذائیں نہ صرف سردی کی شدت کم کرتی ہیں بلکہ صحت کو دیرپا فوائد بھی پہنچاتی ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کرتی ہیں اور جسم جاتا ہے جسم کو ہے اور

پڑھیں:

بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟

امریکہ کی ریاست ایڈاہو کے ایک خاموش اور خوبصورت پہاڑی علاقے سن ویلی(Sun Valley) میں ہر سال جولائی کے مہینے میں ایک ایسی تقریب ہوتی ہے جہاں دنیا کے امیر ترین اور بااثر افراد اکٹھے ہوتے ہیں۔

اس خاص اور خفیہ محفل کو غیر رسمی طور پر ”ارب پتیوں کا سمر کیمپ“ کہا جاتا ہے۔ یہاں دنیا کے نامور اور طاقتور لوگ جیسے جیف بیزوس، مارک زکربرگ، بل گیٹس اور ایلن مسک بغیر کسی دکھاوے کے ایک ساتھ وقت گزارتے ہیں۔

یہ سلسلہ 1983 سے چلا آ رہا ہے جسے ایلن اینڈ کمپنی نامی ایک معاشی ادارہ منعقد کرواتا ہے۔ اس تقریب میں شامل ہونے کے لیے کوئی ٹکٹ نہیں خریدی جا سکتی اور نہ ہی انٹرنیٹ پر کوئی رجسٹریشن ہوتی ہے۔ یہاں صرف وہی لوگ آ سکتے ہیں جنہیں ذاتی طور پر دعوت نامہ بھیجا جاتا ہے۔ منتظمین کی طرف سے اس تقریب کی کوئی باقاعدہ مہمانوں کی فہرست یا شیڈول جاری نہیں کیا جاتا۔ اس سال یہ تقریب 7جولائی سے 11 جولائی 2026 تک منعقد ہوئی۔

اس کانفرنس کی سب سے بڑی بات یہ ہے کہ یہ روایتی دفتری میٹنگز کی طرح نہیں ہوتی۔ یہاں نہ طویل اجلاس ہوتے ہیں اور نہ ہی بڑی بڑی پریزنٹیشنز۔

امیر ترین شخصیات سوٹ بوٹ پہننے کے بجائے عام جوتوں اور آرام دہ کپڑوں میں نظر آتی ہیں۔ لوگ دن کے وقت پہاڑوں پر سیر کرتے ہیں، گولف کھیلتے ہیں، سائیکل چلاتے ہیں، مچھلی پکڑتے ہیں اور شام کو مل کر کھانا کھاتے ہیں۔

مزیدپڑھیں:عالمی منڈی میں سونے کی قیمت میں کمی

اس سال کی ملاقات میں جدید ترین ٹیکنالوجی اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس یعنی اے آئی کا موضوع سب سے زیادہ چھایا رہا۔ اس تقریب میں ٹیکنالوجی اور کاروبار کی دنیا کے کئی بڑے نام شامل ہوئے۔

اگرچہ اس کیمپ میں میڈیا اور کیمروں کی اجازت نہیں ہوتی اور نہ ہی کوئی بڑا باضابطہ اعلان کیا جاتا ہے، لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا کے کئی بڑے کاروباری معاہدوں کی بنیاد اسی خاموش جگہ پر رکھی جاتی ہے جو بعد میں دنیا کے سامنے آتے ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ بہت سے شرکا اپنے اہلِ خانہ کو بھی ساتھ لاتے ہیں، جس کی وجہ سے یہ تقریب ایک کاروباری اجلاس سے زیادہ ایک پُرتعیش خاندانی تعطیلات کا منظر پیش کرتی ہے۔ تاہم، اس کے باوجود دنیا بھر کی نظریں ہر سال اس خفیہ سمر کیمپ پر لگی رہتی ہیں، کیونکہ یہاں ہونے والی ملاقاتیں مستقبل کی عالمی معیشت اور ٹیکنالوجی کی سمت کا تعین بھی کر سکتی ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی میں ہواؤں کی رفتار کم ہوگئی، درجہ حرارت بڑھنے کا امکان
  • بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟
  • جاپان نے شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے ‘انسانی ریفریجریٹر’ تیار کرلیا