لاہور(نیوز ڈیسک) ستھرا پنجاب اتھارٹی نے صوبہ بھر میں صفائی کے نظام کو مؤثر بنانے کیلئے اتھارٹی اور اس کے ماتحت ایجنسیز کا مکمل تنظیمی ڈھانچہ تیار کر لیا۔

لاہور سمیت صوبے کی تمام سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کمپنیوں کو 31 جنوری 2026 تک مکمل طور پر غیر فعال کرنے کی ڈیڈ لائن دے دی گئی ہے۔

ذرائع کے مطابق ستھرا پنجاب اتھارٹی اور صوبے کے 41 اضلاع میں قائم ایجنسیز کو یکم فروری 2026 سے باقاعدہ طور پر فعال کر دیا جائے گا، جبکہ اسی روز سالڈ ویسٹ ایجنسیز کو ڈپٹی کمشنرز کے حوالے کر دیا جائے گا۔

تنظیمی ڈھانچے کے تحت ستھرا پنجاب اتھارٹی میں ڈائریکٹر جنرل کی سیٹ کو فعال کیا گیا ہے، جبکہ 3 ایڈیشنل ڈی جی، 17 ڈائریکٹرز، 16 ڈپٹی ڈائریکٹرز اور 38 اسسٹنٹ ڈائریکٹرز تعینات کئے جائیں گے۔

اسی طرح صوبہ بھر میں ستھرا پنجاب اتھارٹی کے ماتحت 41 ایجنسیز کیلئے بھی تنظیمی ڈھانچہ تشکیل دے دیا گیا ہے، جن میں 41 مینیجنگ ڈائریکٹرز، 41 ڈپٹی ڈائریکٹرز، 205 اسسٹنٹ ڈائریکٹرز اور 205 تحصیل مینیجرز تعینات کئے جائیں گے، نان کارپوریٹ سٹاف کے طور پر 2189 فیلڈ مانیٹرنگ افسران جبکہ 41 مانیٹرنگ افسران کی تعیناتی بھی عمل میں لائی جائے گی۔

انتظامی امور کے حوالے سے فیصلہ کیا گیا ہے کہ ستھرا پنجاب اتھارٹی کے ذمہ داران سیکریٹری بلدیات پنجاب کے ماتحت ہوں گے، جبکہ اضلاع میں سالڈ ویسٹ کے ذمہ داران ڈپٹی کمشنرز کے ماتحت کام کریں گے۔

مالی اختیارات کے تحت اتھارٹی کا بجٹ سیکریٹری لوکل گورنمنٹ پنجاب منظور کرے گا جبکہ اضلاعی ایجنسیز کا سالانہ بجٹ متعلقہ ڈپٹی کمشنرز کی منظوری سے پاس کیا جائے گا، نئے نظام کے نفاذ سے صوبے بھر میں صفائی کے انتظامات مزید مؤثر، شفاف اور مربوط بنائے جا سکیں گے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: کے ماتحت جائے گا

پڑھیں:

خانیوال پل حادثے کی انکوائری مکمل‘پاکستان ریلویز نے دو افسران کو ملازمت سے فارغ کر دیا

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 02 جون2026ء) پاکستان ریلویز نے خانیوال پل حادثے کی انکوائری مکمل ہونے کے بعد ذمہ دار افسران کے خلاف سخت کارروائی کرتے ہوئے دو افسران کو ملازمت سے فارغ کر دیا ہے۔ریلوے حکام کے مطابق سابق ڈویژنل انجینئر(ڈی ای این)ملتان عابد رزاق کو ملازمت سے برطرف کر دیا گیا ہے جبکہ سابق اسسٹنٹ انجینئر (اے ای این)خانیوال راجا یوسف کو بھی سروس سے برخاست کر دیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ خانیوال پل حادثے میں ایک شخص جاں بحق جبکہ متعدد افراد زخمی ہوئے تھے۔ واقعے کے بعد وفاقی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کا اعلان کرتے ہوئے واضح کیا تھا کہ عوامی جانوں کے نقصان پر کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔وزیر ریلوے کی ہدایت پر حادثے کی جامع انکوائری شروع کی گئی تھی۔

(جاری ہے)

انکوائری رپورٹ میں متعلقہ افسران کی غفلت اور ذمہ داری کا تعین کیا گیا جس کی روشنی میں محکمانہ کارروائی عمل میں لائی گئی۔

ریلوے حکام کے مطابق وفاقی وزیر ریلوے اپنے زیرو ٹالرنس مقف پر قائم رہے اور حادثے کا کیس منطقی انجام تک پہنچایا گیا۔ وزارت ریلوے کا کہنا ہے کہ احتساب کا عمل جاری رہے گا اور غفلت، لاپروائی یا نااہلی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ مسافروں کے جان و مال کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا اور ذمہ دار عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی جاری رہے گی۔

متعلقہ مضامین

  • بلاول کل چلاس جبکہ آصفہ بھٹو ہنزہ میں خطاب کریں گی
  • گلگت بلتستان کی سڑکوں کی خستہ حالی دیکھ کر شدید دکھ ہوا، نواز شریف
  • مردان: گھر سے خاتون سمیت 3 افراد کی لاشیں برآمد
  • کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
  • فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
  • کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان
  • خانیوال پل حادثے کی انکوائری مکمل‘پاکستان ریلویز نے دو افسران کو ملازمت سے فارغ کر دیا
  • سوات: گھر کی چھت اور ہوٹل کا کمرہ گرنے سے بچیوں سمیت 3 افراد جاں بحق
  • لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی
  • گوگل کا ’گڈ مچھر بیڈ مچھر‘ نظریہ، امریکا میں لوہے کو لوہے سے کاٹنے کے لیے ’فورس‘ تیار