ستھرا پنجاب اتھارٹی کا تنظیمی ڈھانچہ مکمل تیار، یکم فروری کو فعال کیا جائے گا
اشاعت کی تاریخ: 12th, January 2026 GMT
لاہور(نیوز ڈیسک) ستھرا پنجاب اتھارٹی نے صوبہ بھر میں صفائی کے نظام کو مؤثر بنانے کیلئے اتھارٹی اور اس کے ماتحت ایجنسیز کا مکمل تنظیمی ڈھانچہ تیار کر لیا۔
لاہور سمیت صوبے کی تمام سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کمپنیوں کو 31 جنوری 2026 تک مکمل طور پر غیر فعال کرنے کی ڈیڈ لائن دے دی گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق ستھرا پنجاب اتھارٹی اور صوبے کے 41 اضلاع میں قائم ایجنسیز کو یکم فروری 2026 سے باقاعدہ طور پر فعال کر دیا جائے گا، جبکہ اسی روز سالڈ ویسٹ ایجنسیز کو ڈپٹی کمشنرز کے حوالے کر دیا جائے گا۔
تنظیمی ڈھانچے کے تحت ستھرا پنجاب اتھارٹی میں ڈائریکٹر جنرل کی سیٹ کو فعال کیا گیا ہے، جبکہ 3 ایڈیشنل ڈی جی، 17 ڈائریکٹرز، 16 ڈپٹی ڈائریکٹرز اور 38 اسسٹنٹ ڈائریکٹرز تعینات کئے جائیں گے۔
اسی طرح صوبہ بھر میں ستھرا پنجاب اتھارٹی کے ماتحت 41 ایجنسیز کیلئے بھی تنظیمی ڈھانچہ تشکیل دے دیا گیا ہے، جن میں 41 مینیجنگ ڈائریکٹرز، 41 ڈپٹی ڈائریکٹرز، 205 اسسٹنٹ ڈائریکٹرز اور 205 تحصیل مینیجرز تعینات کئے جائیں گے، نان کارپوریٹ سٹاف کے طور پر 2189 فیلڈ مانیٹرنگ افسران جبکہ 41 مانیٹرنگ افسران کی تعیناتی بھی عمل میں لائی جائے گی۔
انتظامی امور کے حوالے سے فیصلہ کیا گیا ہے کہ ستھرا پنجاب اتھارٹی کے ذمہ داران سیکریٹری بلدیات پنجاب کے ماتحت ہوں گے، جبکہ اضلاع میں سالڈ ویسٹ کے ذمہ داران ڈپٹی کمشنرز کے ماتحت کام کریں گے۔
مالی اختیارات کے تحت اتھارٹی کا بجٹ سیکریٹری لوکل گورنمنٹ پنجاب منظور کرے گا جبکہ اضلاعی ایجنسیز کا سالانہ بجٹ متعلقہ ڈپٹی کمشنرز کی منظوری سے پاس کیا جائے گا، نئے نظام کے نفاذ سے صوبے بھر میں صفائی کے انتظامات مزید مؤثر، شفاف اور مربوط بنائے جا سکیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔