کھیلوں کی ترقی کے لیے اہم پیشرفت، مظفرآباد میں جدید ہاکی ایسٹرو ٹرف کا افتتاح جلد متوقع
اشاعت کی تاریخ: 12th, January 2026 GMT
مظفرآباد میں ہاکی کے فروغ کے لیے ایک خوش آئند اقدام اٹھایا گیا ہے اور اگلے چند دنوں میں یہاں جدید ہاکی ایسٹرو ٹرف کا باضابطہ افتتاح کیا جائے گا۔
پاکستان اسپورٹس بورڈ اور وزارت کھیل و تفریح نے اس منصوبے کی تکمیل میں کلیدی کردار ادا کیا ہے جس کا مقصد آزاد جموں و کشمیر میں کھیلوں کی ترقی اور نوجوان کھلاڑیوں کے لیے جدید سہولیات فراہم کرنا ہے۔
Very good news for hockey players of AJK.
— Hamid Mir حامد میر (@HamidMirPAK) January 12, 2026
سوشل میڈیا صارفین کا کہنا ہے کہ اس ٹرف کی تنصیب سے نہ صرف ہاکی کے کھیل کے معیار میں بہتری آئے گی بلکہ علاقے میں کھیلوں کی مقبولیت میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہوگا۔
اس جدید سہولت کے ذریعے نوجوان کھلاڑی اپنی تربیت عالمی معیار کے مطابق مکمل کر سکیں گے اور مستقبل میں قومی اور بین الاقوامی مقابلوں میں حصہ لینے کے مواقع بھی بڑھیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان ہاکی ٹیم کا منیجر دورانِ پرواز سگریٹ نوشی پر برازیل میں جہاز سے آف لوڈ
یہ اقدام آزاد کشمیر میں کھیلوں کے فروغ کے لیے جاری حکومتی کوششوں کا حصہ ہے جس سے نہ صرف کھیلوں کے شعبے کو مضبوطی ملے گی بلکہ نوجوانوں میں صحت مند اور مثبت سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی بھی ہوگی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
کشمیر کھیل کے میدان مظفرآباد میں جدید ہاکی ایسٹرو ٹرف ہاکی
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: کھیل کے میدان مظفرآباد میں جدید ہاکی ایسٹرو ٹرف ہاکی کے لیے
پڑھیں:
آزاد کشمیر میں 47 روز بعد میرپور میں انٹرنیٹ سروس جزوی بحال، دیگر علاقوں میں بحالی کا انتظار
آزاد جموں و کشمیر کے شہر میرپور اور اس سے ملحقہ علاقوں میں گزشتہ 47 روز سے معطل انٹرنیٹ سروس جزوی طور پر بحال ہونا شروع ہو گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق ابتدائی مرحلے میں صرف موبائل انٹرنیٹ بحال کیا گیا ہے، جبکہ وائی فائی انٹرنیٹ سروس بلنگ کا عمل مکمل ہونے کے بعد بحال کی جائے گی۔
یاد رہے کہ آزاد کشمیر میں 5 جون 2026 کو انٹرنیٹ سروسز معطل کر دی گئی تھیں۔ یہ اقدام اس وقت کیا گیا تھا جب جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جیک) نے اپنے مطالبات کے حق میں احتجاجی تحریک شروع کرتے ہوئے 9 جون کو مظفرآباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کیا تھا۔
بعد ازاں 5 جون کو ایکشن کمیٹی کے ایک مرکزی رکن پر مبینہ حملے اور مظاہرین و سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں کے بعد حکومت نے کمیٹی کو کالعدم قرار دے دیا تھا، جبکہ اسی روز پورے آزاد کشمیر میں بغیر پیشگی اطلاع انٹرنیٹ سروس بھی معطل کر دی گئی تھی۔
اس سے قبل پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں پیپلز پارٹی آزاد کشمیر اور الیکشن کمیشن کی جانب سے انٹرنیٹ بحالی کے لیے کی جانے والی کوششوں کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی تھی کہ میرپور میں سروس جلد بحال ہو جائے گی۔ انہوں نے یہ توقع بھی ظاہر کی کہ مظفرآباد اور دیگر علاقوں میں بھی انٹرنیٹ سروس جلد بحال کر دی جائے گی۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب آزاد کشمیر میں قانون ساز اسمبلی کے انتخابات قریب ہیں۔ الیکشن کمیشن پہلے ہی سکیورٹی اور انتخابی انتظامات کو مؤثر بنانے کے لیے انتخابات تین مراحل میں کرانے کا اعلان کر چکا ہے۔
شیڈول کے مطابق پہلے مرحلے میں 27 جولائی کو میرپور ڈویژن، دوسرے مرحلے میں 2 اگست کو مظفرآباد ڈویژن اور مہاجرین کی نشستوں، جبکہ تیسرے اور آخری مرحلے میں 10 اگست کو پونچھ ڈویژن میں پولنگ ہوگی۔دوسری جانب کالعدم ایکشن کمیٹی کا راولاکوٹ میں احتجاج تاحال جاری ہے۔ کمیٹی کے اہم مطالبات میں مہاجرینِ مقبوضہ کشمیر کے لیے آزاد کشمیر اسمبلی میں مختص 12 نشستوں کے خاتمے سمیت دیگر آئینی اور انتظامی امور شامل ہیں۔