اب چاند پر بھی وقت ناپا جاسکے گا، چین نے سوفٹ ویئر تیار کرلیا
اشاعت کی تاریخ: 12th, January 2026 GMT
چینی سائنس دانوں نے دنیا کا پہلا تیار ایسا سوفٹ ویئر کرلیا ہے جو چاند پر وقت ناپنے گا۔
یہ بھی پڑھیں: ’۔۔۔ ہم ہیں تیار چلو‘، ناسا نے چاند پر گاؤں اور مریخ پر قدم جمانے کا وقت بتادیا
ماہرین کے مطابق یہ پیشرفت مستقبل کے قمری مشنز کی نیویگیشن اور کمیونیکیشن کے طریقوں میں نمایاں تبدیلی لا سکتی ہے۔
سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ چاند پر وقت کا تعین زمین کی طرح سادہ نہیں جس کی وجہ یہ ہے کہ چاند پر گھڑیاں زمین کے مقابلے میں تیز چلتی ہیں۔
ماہرین کے مطابق چاند پر وقت روزانہ تقریباً 5 کروڑ 60 لاکھواں حصے (56 مائیکرو سیکنڈ) زیادہ تیزی سے گزرتا ہے۔ یہ فرق البرٹ آئن اسٹائن کے نظریہ اضافیت کے مطابق ہے۔ بظاہر یہ فرق بہت معمولی لگتا ہے لیکن درست نیویگیشن، لینڈنگ اور خلائی مشنز میں یہی مائیکرو سیکنڈز انتہائی اہم ثابت ہوتے ہیں۔
مزید پڑھیے: زحل کے چاند اینسیلاڈس پر زندگی کے آثار کے مزید شواہد مل گئے
چینی محققین کا کہنا ہے کہ اگر قمری مشنز میں زمین کے وقت کے بجائے ’چاند کے وقت‘ کے مطابق منصوبہ بندی کی جائے تو خلائی جہازوں کی درستگی اور رابطے کے نظام کو مزید بہتر بنایا جا سکتا ہے جس سے مشنز کی کامیابی کے امکانات بڑھ جائیں گے۔
مزید پڑھیں: آرٹیمس 2: ناسا نے 50 سال بعد دوبارہ چاند پر انسان بھیجنے کا اعلان کردیا
ماہرین کے مطابق یہ نیا سافٹ ویئر مستقبل میں چاند پر مستقل تحقیقی اسٹیشنز اور طویل المدتی انسانی موجودگی کی بنیاد رکھنے میں بھی مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
چاند چاند پر گھڑی چاند پر وقت ماپنے والا سوفٹ ویئر چاند کا وقت چین.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: چاند چاند پر گھڑی چاند کا وقت چین چاند پر وقت کے مطابق
پڑھیں:
ماہرینِ صحت کی دوپہر کے کھانے میں غذائیت سے بھرپور سلاد کو معمول کا حصہ بنانے کی سفارش
کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 24 جولائی2026ء) ماہرینِ صحت نے دوپہر کے کھانے میں غذائیت سے بھرپور سلاد کو معمول کا حصہ بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ عادت نہ صرف متوازن غذا کی جانب اہم قدم ہے بلکہ بھوک پر قابو پانے، توانائی برقرار رکھنے اور مجموعی صحت کو بہتر بنانے میں بھی مؤثر کردار ادا کر سکتی ہے۔ماہرین کے مطابق صحت مند طرزِ زندگی کا مقصد صرف تیزی سے وزن کم کرنا نہیں بلکہ ایسی پائیدار غذائی عادات اپنانا ہے جن پر طویل عرصے تک آسانی سے عمل کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ دوپہر کے کھانے میں متوازن سلاد شامل کرنے سے جسم کو فائبر، وٹامنز، منرلز اور دیگر ضروری غذائی اجزا بیک وقت حاصل ہوتے ہیں، جو بہتر صحت کے لیے نہایت اہم ہیں۔انہوں نے بتایا کہ ایک مکمل اور متوازن سلاد صرف سبز پتوں تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اس میں ثابت مونگ دال، چنے، کھیرا، ٹماٹر، پیاز، گاجر، شملہ مرچ، کینوا، ایووکاڈو، مالٹے کے قتلے، انار کے دانے اور کچے آم جیسے غذائیت سے بھرپور اجزا بھی شامل کیے جا سکتے ہیں۔(جاری ہے)
ذائقے کے لیے نمک، کالی مرچ، لیموں کا رس یا سرکہ استعمال کیا جا سکتا ہے، جبکہ پروٹین کی ضرورت پوری کرنے کے لیے گرل کیا ہوا پنیر، سویا یا دیگر صحت بخش پروٹین ذرائع شامل کرنے کی بھی تجویز دی گئی ہے۔ماہرین نے کہا کہ اگر ایک ہی قسم کا سلاد روزانہ کھایا جائے تو وقت کے ساتھ اکتاہٹ پیدا ہو سکتی ہے، اس لیے مختلف سبزیوں، پھلوں اور دیگر اجزا میں تبدیلی کرتے رہنا چاہیے تاکہ ذائقے کے ساتھ غذائی تنوع بھی برقرار رہے۔طبی ماہرین کے مطابق دوپہر کے کھانے میں سلاد شامل کرنے سے زیادہ دیر تک پیٹ بھرنے کا احساس رہتا ہے، غیر ضروری اسنیکس اور بار بار کھانے کی خواہش میں کمی آتی ہے، جبکہ دوپہر کے کھانے کے بعد محسوس ہونے والی سستی بھی کم ہو سکتی ہے۔ اس کے نتیجے میں روزمرہ سرگرمیوں کے لیے جسمانی توانائی اور چستی برقرار رکھنے میں مدد ملتی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ وزن میں کمی کا عمل ہر فرد میں مختلف ہو سکتا ہے، تاہم متوازن غذا کو مستقل معمول بنانے سے جسمانی ساخت میں مثبت تبدیلیاں آ سکتی ہیں، کپڑوں کی فٹنگ بہتر محسوس ہو سکتی ہے اور مجموعی صحت میں بتدریج بہتری آتی ہے۔ماہرین نے کہا کہ صحت بخش غذائی عادات نہ صرف جسمانی بلکہ ذہنی صحت پر بھی مثبت اثرات مرتب کرتی ہیں اور انسان کے اعتماد میں اضافہ کرتی ہیں۔ ان کے مطابق صحت مند طرزِ زندگی کا مطلب پسندیدہ کھانوں سے مکمل پرہیز نہیں بلکہ اعتدال، توازن اور مستقل مزاجی کے ساتھ غذائیت سے بھرپور خوراک کو روزمرہ معمول کا حصہ بنانا ہے۔