رحیم یار خان، خواجہ سرا کے قتل کا معمہ حل، پولیس نے 2 روز میں ملزمان گرفتار کر لیے
اشاعت کی تاریخ: 12th, January 2026 GMT
صادق آباد میں خواجہ سرا کے قتل کا معمہ حل ہو گیا ہے۔ ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) عرفان سموں کے مطابق پولیس نے دو روز قبل قتل ہونے والے خواجہ سرا کے قاتلوں کو گرفتار کر لیا ہے۔
ڈی پی او عرفان سموں نے بتایا کہ واقعے کے بعد پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے جدید تفتیشی ذرائع استعمال کیے، جس کے نتیجے میں ملزمان کی شناخت ممکن ہوئی اور انہیں گرفتار کر لیا گیا۔
گرفتار ملزمان سے مزید تفتیش جاری ہے جبکہ قتل میں استعمال ہونے والے شواہد بھی برآمد کر لیے گئے ہیں۔
مزید پڑھیںپشاور؛ ورسک روڈ پر فائرنگ، خواجہ سرا قتل
بھتیجے کی شادی میں ہنگامہ؛ راکیش روشن خواجہ سرا سے الجھ پڑے، ویڈیو وائرل
ڈی پی او کے مطابق پولیس عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے اور سنگین جرائم میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی جاری رکھی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ ملزمان کو قانون کے مطابق سزا دلوانے کے لیے تمام قانونی تقاضے پورے کیے جائیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: خواجہ سرا
پڑھیں:
سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 202659 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔
اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔
سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔