مصرکے سرکاری اسپتال سے جعلی ڈاکٹر گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 11th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
قاہرہ: مصر کے سرکاری اسپتال میں ملازمت کرنے والا جعلی ڈاکٹر کو گرفتار کر لیا گیا۔
عالمی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق مصر کے سرکاری اسپتال میں ایک ایسے ڈاکٹر کو گرفتار کیا گیا ہے جو2 سال تک جعلی ڈگری کی بنیاد پر ملازمت کرتا رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق البحیرہ میں29 سالہ شخص جو محض سائنس گریجویٹ تھا 2 برس تک سرکاری اسپتال میں ڈاکٹر بن کر مریضوں کا علاج کر تا رہا۔ حکام کے مطابق علاقے میں رہنے والے 2 جڑواں بھائی جن میں ایک سند یافتہ ڈاکٹر جبکہ دوسرا محض سائنس گریجویٹ تھا، جو ایک دوسرے سے خاصے ہمشکل تھے۔ مقامی میڈیا کے مطابق ڈاکٹر بھائی کمشنری کے طبی مرکز شبراخیت میں ملازم تھا جبکہ دوسرا بے روزگارتھا۔
دلچسپ تفصیلات کے مطابق ڈاکٹر بھائی نے بغیر تنخواہ کے لمبی چھٹی کی درخواست دی مگر ریجنل ڈائریکٹر صحت نے اس کی چھٹی مسترد کردی۔ چھٹی کی درخواست مسترد ہونے پر دونوں بھائیوں نے اپنی یکساں شکل و قامت کا فائدہ اٹھا کر فیصلہ کیا کہ ڈاکٹربھائی نئی نوکری جوائن کرے جبکہ دوسرا اس کی جگہ سرکاری اسپتال میں ڈاکٹر کے طور پر خدمات انجام دے جو کہ دونوں نے اس فیصلے پر بخوبی عمل پیرا بھی ہوئے۔ جڑواں بھائیوں کے ہمشکل پن میںاس قدر مماثلت تھی کہ اسپتال کا عملہ اور مریض کوئی بھی مذکورہ فرق کو محسوس نہ کر سکا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سرکاری اسپتال میں کے مطابق
پڑھیں:
خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق
صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطاق 19 جولائی سے اب تک خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں بارشوں اور فلش فلڈز سے مجموعی طور پر 9 مرد، 10 بچے اور تین خواتین جاں بحق ہوئیں۔ اسلام ٹائمز۔ خیبر پختونخوا میں ہونے والی بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 5 روز کے دوران 22 شہری جاں بحق جبکہ 23 زخمی ہوگئے۔ صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطاق 19 جولائی سے اب تک خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں بارشوں اور فلش فلڈز سے مجموعی طور پر 9 مرد، 10 بچے اور تین خواتین جاں بحق ہوئیں۔ اعلامیے کے مطابق زخمیں میں 11 مرد، 5 خواتین 7 بچے شامل ہیں جبکہ تیز بارشوں اور فلش فلڈ کے باعث مجموعی طور پر 37 گھروں کو نقصان پہنچا جس میں 29 گھروں کو جزوی جبکہ 8 گھر مکمل منہدم ہوگئے۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق حادثات پشاور، نوشہرہ، خیبر، مردان , بونیر، باجوڑ، شانگلہ، صوابی، چترال لوئر، دیر لوئر اور اپر، ایبٹ آباد، مانسہرہ،ہری پور، ٹانک، تور غر اور کرم اور شمالی و جنوبی وزیرستان میں پیش آئے۔
اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ پی ڈی ایم اے، ریسکیو 1122، ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ اداراے آپس میں رابطے میں اور امدادی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں جبکہ متاثرہ اضلاع کی انتظامیہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ متاثرین میں جلد امدادی سامان تقسیم کردے۔ ڈی جی پی ڈی ایم اے نے ضلعی انتظامیہ کو امدادی سرگرمیاں تیز کرنے اور متاثرین کو فوری معاونت فراہم کرنے کی ہدایت کی اور بتایا کہ صوبہ کے تمام دریاؤں اور ندی نالوں میں پانی کی سطح اور بہاو معمول کے مطابق ہے۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق تیز بارشوں کا یہ سلسلہ آج تک وقفے وقفے سے جاری رہنے کا امکان ہے۔ پی ڈی ایم اے نے عوام سے اپیل کی کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور حساس سیاحتی مقامات کا رخ نہ کریں جبکہ حکومتی اداروں کی جانب سے الرٹس/ اور ایڈوائزری پر عمل کریں۔
ڈی جی پی ڈی ایم اے کے مطابق ایمرجنسی آپریشن سینٹر مکمل طور پر فعال ہے، عوام کسی بھی نا خوشگوار واقعے کی اطلاع ، موسمی صورتحال سے آگائی اور معلومات کے لیے فری ہیلپ لائن 1700 پر رابطہ کریں۔