امریکا نے حملہ کیا تو اسرائیل اور امریکی اڈے محفوظ نہیں رہیں گے، ایران کی ٹرمپ کو دھمکی
اشاعت کی تاریخ: 11th, January 2026 GMT
ایران سمیت مختلف بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق تہران نے امریکا کو سخت انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہدایت پر ایران پر حملہ کیا گیا تو اس کے جواب میں اسرائیل اور خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا جائے گا۔
بین الاقوامی میڈیا اور ایرانی ذرائع کے مطابق ایران نے امریکا کو واضح پیغام دیا ہے کہ کسی بھی فوجی کارروائی کا بھرپور اور فوری جواب دیا جائے گا۔ رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ ایرانی حکام نے خبردار کیا ہے کہ امریکی حملے کی صورت میں ردعمل صرف ایران تک محدود نہیں رہے گا بلکہ اسرائیل اور مشرقِ وسطیٰ میں موجود امریکی مفادات بھی اس کی زد میں آ سکتے ہیں۔
ایرانی میڈیا کے مطابق یہ وارننگ ایسے وقت سامنے آئی ہے جب امریکا میں ایران کے خلاف ممکنہ کارروائی پر بحث جاری ہے اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سخت بیانات دیے جا رہے ہیں۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ خطے میں کسی بھی قسم کی مہم جوئی پورے مشرقِ وسطیٰ کو ایک نئی اور خطرناک کشیدگی کی طرف دھکیل سکتی ہے۔
رپورٹس کے مطابق ایران نے یہ بھی مؤقف اختیار کیا ہے کہ وہ اپنی خودمختاری اور سلامتی کے دفاع کا پورا حق رکھتا ہے اور کسی بیرونی جارحیت کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران کی یہ وارننگ خطے میں پہلے سے موجود تناؤ میں مزید اضافے کا سبب بن سکتی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ایران، امریکا اور اسرائیل کے تعلقات شدید دباؤ کا شکار ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
پڑھیں:
امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
امریکا کے ریپبلکن اکثریتی ایوان نمائندگان (ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز) نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیاں روکنے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کر لی جسے کانگریس کی جانب سے صدر ٹرمپ کے لیے ایک اور علامتی پیغام قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آبنائے ہرمز میں کسی بھی جہاز پر حملہ ہوا تو ایران کا بنیادی ڈھانچہ تباہ کردیں گے، ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکی
قرارداد 214 کے مقابلے میں 208 ووٹوں سے منظور ہوئی جبکہ چار ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیتے ہوئے اس کی حمایت کی۔
یہ قرارداد واشنگٹن سے تعلق رکھنے والی ڈیموکریٹ رکن پرامیلا جے پال نے پیش کی جس میں صدر ٹرمپ کو ہدایت دی گئی ہے کہ کانگریس کی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف امریکی مسلح افواج کی کارروائیاں بند کی جائیں۔
تاہم ماہرین کے مطابق اس قرارداد کی حیثیت زیادہ تر علامتی ہے، کیونکہ حالیہ مہینوں میں بھی کانگریس اس نوعیت کی متعدد قراردادیں منظور کر چکی ہے مگر ان کے نتیجے میں جنگی کارروائیاں نہیں رک سکیں۔
مزید پڑھیے: ایران مذاکرات کے لیے بے تاب، لیکن بامعنی بات چیت ہی ہوگی، ڈونلڈ ٹرمپ
قرارداد کی حمایت کرنے والے چار ریپبلکن ارکان میں ٹام بیریٹ (مشی گن)، برائن فٹزپیٹرک (پنسلوانیا)، وارن ڈیوڈسن (اوہائیو) اور تھامس میسی (کینٹکی) شامل ہیں۔
Today, the House PASSED my bipartisan War Powers Resolution to end the war in Iran by a vote of 214-208.
This is a big victory for the vast majority of Americans who want President Trump to end this illegal war and focus on their lives right here at home. pic.twitter.com/ZaE3NtTJdP
— Rep. Pramila Jayapal (@RepJayapal) July 23, 2026
اگرچہ ریپبلکن پارٹی کو ایوان نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں معمولی برتری حاصل ہے تاہم اس قرارداد کی منظوری کو صدر ٹرمپ کی پالیسیوں پر اپنی ہی جماعت کے بعض ارکان کے تحفظات کی علامت بھی قرار دیا جا رہا ہے۔
ادھر امریکی سینیٹ میں بھی ایران سے متعلق ایک علیحدہ مگر ملتی جلتی قرارداد پر ووٹنگ متوقع تھی۔
یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب صدر ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں مزید شدت لانے کا اعلان کیا ہے اور امریکی فوجیوں کی ہلاکتوں کی بھی تصدیق کی ہے۔
مزید پڑھیں: ایران کو ایک امریکی فوجی کے قتل کی کئی گنا زیادہ قیمت چکانی پڑےگی، ڈونلڈ ٹرمپ کی تہران کو وارننگ
صدر ٹرمپ نے جمعرات کو ایران اور اس کے اتحادی یمنی حوثی گروپ کو بڑی فوجی سزا دینے کا عندیہ دیا۔ دوسری جانب، عارضی جنگ بندی کے مؤثر طور پر ختم ہونے کے 2 ہفتے بعد امریکی فوج نے ایران پر ایک اور رات فضائی حملے کیے، جس کے جواب میں ایران نے پڑوسی ممالک میں قائم امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکا امریکی ایوان نمائندگان ایران امریکا کشیدگی ٹرمپ کو جنگ روکنے کی ہدایت ڈیموکریٹ رکن پرامیلا جے پال ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز