لندن میں ایرانی سفارتخانے پر احتجاج، مظاہرین نے اسلامی جمہوریہ کا پرچم اتار دیا، ویڈیو وائرل
اشاعت کی تاریخ: 11th, January 2026 GMT
لندن میں ایران کے سفارتخانے کے سامنے احتجاج کے دوران مظاہرین نے سفارتخانے کی بالکونی پر چڑھ کر اسلامی جمہوریہ ایران کا پرچم اتار دیا اور اسے 1979 سے پہلے استعمال ہونے والے ’شیر و خورشید‘ پرچم سے بدل دیا۔ یہ احتجاج ایران میں جاری ملک گیر مظاہروں کے ردِ عمل میں کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں:ایران کے جلاوطن ولی عہد رضا پہلوی کا عوامی بغاوت کا اعلان، تہران واپسی کی تیاری
مظاہرین نے سفارتخانے کی بالکونی تک پہنچ کر موجودہ اسلامی جمہوریہ کا پرچم ہٹا کر شاہی دور کا سہ رنگی ’شیر و خورشید‘ پرچم نصب کیا، جو ایران میں 1979 کی انقلاب سے پہلے استعمال ہوتا تھا۔ گواہوں کے مطابق یہ پرچم چند منٹوں تک برقرار رہا اور پھر دوبارہ ہٹا دیا گیا۔
Protester scales Iranian Embassy in London, tears down regime flag, hoists pre-revolution symbol https://t.
— New York Post (@nypost) January 11, 2026
ویڈیو اور سوشل میڈیا پوسٹس میں دیکھا گیا کہ ایک شخص بالکونی پر کھڑا تھا اور موجودہ پرچم کو پرانے پرچم سے بدل رہا تھا۔ لندن پولیس نے بتایا کہ واقعے کے بعد اضافی افسران کو تعینات کیا گیا تاکہ کسی بھی قسم کے انتشار کو روکا جا سکے اور سفارتخانے کی حفاظت کی جا سکے۔
پولیس نے 2 افراد کو گرفتار کیا، ’ایک کو شدید تجاوز اور ہنگامی اہلکار پر حملے‘ کے الزام میں اور دوسرے کو ’شدید تجاوز‘ کے الزام میں جبکہ ایک اور شخص کی تلاش جاری ہے۔
یہ بھی پڑھیں:مظاہروں کی آڑ میں بیرونی مداخلت ناقابلِ قبول، ایرانی فوج اور آئینی کونسل کا دوٹوک مؤقف
یہ احتجاج ایران میں اقتصادی مشکلات اور مغربی پابندیوں کے بعد ایرانی ریال کی قدر میں کمی کے ردِ عمل میں شروع ہوئے مظاہروں سے جڑا ہوا ہے۔ مظاہرے 28 دسمبر 2025 کو تہران کے گرینڈ بازار سے شروع ہوئے اور بعد میں دیگر شہروں تک پھیل گئے۔
ایرانی حکام نے ابھی تک ہلاکتوں کی سرکاری تعداد جاری نہیں کی اور بعض حکام نے امریکہ اور اسرائیل پر اس انتشار کو ہوا دینے کا الزام عائد کیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ایران پرچم شیر و خورشید لندن لندن احتجاج
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ایران
پڑھیں:
بھارتی سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز بعد بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن، ماہرِ تعلیم سونم وانگچک(Sonam Wangchuck) نے تعلیمی اصلاحات کا مطالبہ کرنے والے نوجوان مظاہرین کی حمایت میں جاری 26 روزہ بھوک ہڑتال ختم کر دی۔
وانگچک، جنہیں عوام میں “سونم سر” کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بتایا کہ انہوں نے مختلف شرائط پر طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں ممکنہ تشدد سے بچنے کے لیے بھوک ہڑتال ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
59 سالہ وانگچک کاکروچ جنتا پارٹی کے مظاہرین کی حمایت میں بھوک ہڑتال پر تھے، جو (NEET) کا پرچہ لیک ہونےکے بعد تعلیمی اصلاحات کے ساتھ ساتھ بھارتی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا بھی مطالبہ کر رہے ہیں۔
وانگچک نے ہڑتال کے دوران بتایا تھا کہ ان کا 11 کلوگرام وزن کم ہو چکا ہے، تاہم وہ “اب بھی زندہ ہیں”۔ گزشتہ ہفتے انہیں دہلی میں احتجاجی مقام سے پولیس نے زبردستی ہٹا کر اسپتال منتقل کر دیا تھا۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 2026
بھارتی میڈیا این ڈی ٹی وی کے مطابق، حکومت کی جانب سے یہ یقین دہانی کرانے کے بعد کہ جنتر منتر پر احتجاج کرنے والے مظاہرین کے خلاف قانونی کارروائی نہیں کی جائے گی، وانگچک نے اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی۔ اس دوران بھارت کے وزرائے مملکت اور وزیر صحت نے بھی اسپتال میں ان سے ملاقات کی۔
وانگچک کے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دیپکے نے کہا کہ ہمیں خوشی اور اطمینان ہے کہ سونم سر نے 26 دن بعد اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی ہے۔
تاہم انہوں نے واضح کیا کہ جنتر منتر پر کاکروچ جنتا پارٹی کا پُرامن احتجاج اس وقت تک جاری رہے گا جب تک وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان استعفیٰ نہیں دیتے۔
مزیدپڑھیں:پاک ویسٹ انڈیز ٹیسٹ سیریز، ٹرافی کی رونمائی کردی گئی
واضح رہے کہ نئی دہلی میں بڑے پیمانے پر مظاہرے بدستور جاری ہیں۔ پیر کے روز پارلیمنٹ کی جانب مارچ کرنے والے مظاہرین پر پولیس کے سخت کریک ڈاؤن کے نتیجے میں متعدد مظاہرین اور پولیس اہلکار زخمی ہوئے تھے۔
کاکروچ جنتا پارٹی اس وقت بھارت کی نمایاں نوجوان تحریکوں میں شمار کی جا رہی ہے اور اسے وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت کے خلاف عوامی اختلاف کی بڑی علامت سمجھا جا رہا ہے۔
یہ تحریک مئی میں اعلیٰ تعلیمی امتحانات کے پرچے لیک ہونے اور دیگر بے ضابطگیوں کے خلاف ایک طنزیہ آن لائن مہم کے طور پر شروع ہوئی تھی، جس نے بعد ازاں سوشل میڈیا پر وسیع مقبولیت حاصل کی۔
مظاہرین، جو خود کو “کاکروچ” کہتے ہیں، گزشتہ ایک ماہ سے احتجاج کر رہے ہیں، جبکہ بعض ارکان نے بھوک ہڑتال بھی کی۔
ان کا مطالبہ ہے کہ ڈاکٹر بننے کے خواہشمند طلبہ کے اہم داخلہ امتحان کا پرچہ لیک ہونے کے بعد امتحان منسوخ ہونے کی اخلاقی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان مستعفی ہوں۔