امریکا نے شام میں داعش کے ٹھکانوں پر بڑے پیمانے پر فضائی حملے کردیے
اشاعت کی تاریخ: 11th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
امریکا نے شام میں داعش کے ٹھکانوں کو نشانہ بناتے ہوئے بڑے پیمانے پر فضائی حملے کیے ہیں۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کے مطابق اتحادی افواج کے تعاون سے شام میں داعش کے متعدد مراکز پر وسیع فضائی کارروائیاں کی گئیں۔ سینٹکام نے ان حملوں کو “آپریشن ہاک آئی اسٹرائیک” کا حصہ قرار دیا ہے، جس کا آغاز 19 دسمبر 2025 کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہدایت پر کیا گیا تھا۔
یہ آپریشن 13 دسمبر کو شام کے شہر پالمیرا میں داعش کے ایک حملے کے بعد شروع کیا گیا، جس میں امریکی اور شامی افواج کو نشانہ بنایا گیا تھا اور اس واقعے میں دو امریکی فوجی اور ایک امریکی شہری مترجم ہلاک ہوئے تھے۔
امریکی حکام کے مطابق حالیہ فضائی حملوں کا مقصد داعش کے خلاف کارروائیوں کا تسلسل برقرار رکھنا، آئندہ ممکنہ حملوں کو روکنا اور خطے میں موجود امریکی اور اتحادی افواج کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔
سینٹکام نے واضح کیا ہے کہ اگر امریکی فوجیوں کو نقصان پہنچایا گیا تو ذمہ دار عناصر کو دنیا کے کسی بھی کونے میں تلاش کرکے سخت انجام تک پہنچایا جائے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: میں داعش کے
پڑھیں:
ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایران کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ایران پر حملوں کے لیے برطانوی فوجی اڈوں کا استعمال بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ایسے اقدامات ایران کے خلاف براہِ راست جارحیت میں شرکت تصور کیے جا سکتے ہیں، جس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ ایرانی وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ ایران اپنی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ وزارت خارجہ نے خبردار کیا کہ جو بھی ملک ایران پر حملوں میں مدد فراہم کرے گا، اسے اپنے اقدامات کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔