ایران میں پُرتشدد مظاہرے بے قابو ،217 افراد ہلاک،2500گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 11th, January 2026 GMT
کئی شہروں میں توڑ پھوڑ ،سرکاری عمارتوں،مساجد، دکانوں کو نقصان پہنچا،گاڑیوں کو آگ لگادی، بادشاہت کے حق میں نعرے لگانیوالوں نے سڑکیں بلاک کردیں،پولیس اسٹیشن پر حملے، کئی اہلکار زخمی
مشتعل مظاہرین نے 26 بینکوں، 2 اسپتالوں، 25 مساجد، پولیس تنصیبات اور 48 فائر ٹرکوں کو نقصان پہنچایا، زنجان میں فسادات، املاک پر حملوں میںخواتین کی بڑی تعداد شریک تھی، ایرانی میڈیا
امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران میں پرتشدد مظاہروں کے دوران اموات کی تعداد 217 ہوگئی ہے، کئی شہروں میں سرکاری عمارتوں، دکانوں اور مساجد کو نقصان پہنچا۔بادشاہت کے حق میں نعرے لگانے والوں نے سڑکیں بلاک کیں،پولیس اسٹیشنز پر حملے کیے، حملوں میں کئی اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔ امریکی میڈیا کے مطابق صرف تہران میں مظاہروں کیدوران اموات کی تعداد 217 ہوگئی ہے تاہم ایرانی حکام نے اس تعداد کی تصدیق نہیں کی۔ ایرانی میڈیا نے فسادات کے دوران بدھ اور جمعرات کو 4 اہلکار جاں بحق ہونے کی تصدیق کی گئی ہے۔ مظاہرین نے صوبے خوزستان میں مقدس مقام کی بے حرمتی بھی کی جس کے خلاف لوگوں نے شدید احتجاج کیا۔ مظاہرین نے 26 بینکوں، 2 اسپتالوں، 25 مساجد، پولیس تنصیبات اور 48 فائر ٹرکوں کو نقصان پہنچایا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق پرتشدد مظاہرے کرنے والوں نے ایمبولینسوں پر بھی حملے کیے، بسوں اور شہریوں کی گاڑیوں کو بھی آگ لگائی گئی ہے۔ فسادات اور املاک پر حملوں میں ملوث عناصر کیخلاف زنجان میں بھی بڑا مظاہرہ کیا گیا جس میں خواتین کی بڑی تعداد بھی شریک تھی۔ مظاہرین قومی پرچم اور سپریم لیڈر آیت اللّٰہ خامنہ ای کی تصاویر اٹھائے ہوئے تھے۔ علاوہ ازیں قم، یزد، لورستان اور خوزستان سمیت کئی دیگر مقامات پر بھی نماز جمعہ کے بعد مظاہرے کیے گئے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: کو نقصان
پڑھیں:
مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ موجودہ بحران سے نکلنے کا واحد مؤثر راستہ سفارت کاری، مذاکرات اور سیاسی حل ہے، اور تمام فریقین کو کشیدگی کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہییں۔ اسلام ٹائمز۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ خطے کی صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے اور فوری طور پر لڑائی روکنا ناگزیر ہے۔ اپنے ایک بیان میں انتونیو گوتریس نے کہا کہ اب واپس پلٹنے کا وقت آ گیا ہے اور ہر جگہ جنگ و جدل کا خاتمہ ہونا چاہیے تاکہ مزید انسانی جانوں کے ضیاع کو روکا جا سکے۔
انہوں نے زور دیا کہ بحری راستوں پر آزادانہ آمدورفت بحال کی جائے، کیونکہ عالمی تجارت اور علاقائی استحکام کے لیے محفوظ بحری گزرگاہیں انتہائی اہم ہیں۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ موجودہ بحران سے نکلنے کا واحد مؤثر راستہ سفارت کاری، مذاکرات اور سیاسی حل ہے، اور تمام فریقین کو کشیدگی کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہییں۔