ایرانی بحران شدت اختیار کر گیا، ممکنہ امریکی حملے پر اسرائیل میں ہائی الرٹ
اشاعت کی تاریخ: 11th, January 2026 GMT
تل ابیب: ایران میں ممکنہ امریکی حملے کے خدشے کے پیشِ نظر اسرائیل میں سکیورٹی اداروں کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق حالیہ دنوں میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے حوالے سے سخت بیانات کے بعد اسرائیلی حکام میں تشویش بڑھ گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق امریکی صدر نے متعدد بار ایران میں مظاہرین کے خلاف طاقت کے استعمال پر مداخلت کی دھمکی دی ہے، جس کے بعد اسرائیل نے اپنی سکیورٹی صورتحال کا ازسرِنو جائزہ لینا شروع کر دیا ہے۔ تاہم یہ واضح نہیں کیا گیا کہ ہائی الرٹ کی عملی صورت کیا ہوگی۔
خبر رساں ایجنسی کا کہنا ہے کہ ہفتے کے روز اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو اور امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ ہوا، جس میں ایران کی صورتحال اور ممکنہ امریکی اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ایک امریکی عہدیدار نے اس رابطے کی تصدیق کی، تاہم گفتگو کی تفصیلات ظاہر نہیں کی گئیں۔
یاد رہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ بیان میں کہا تھا کہ ایران ایسی آزادی کی طرف بڑھ رہا ہے جو اس نے پہلے کبھی نہیں دیکھی۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر کہا کہ امریکا ایرانی مظاہرین کی مدد کے لیے تیار ہے۔
اس سے قبل صدر ٹرمپ نے خبردار کیا تھا کہ اگر ایران میں مظاہرین کو قتل کیا گیا تو امریکا مداخلت کرے گا، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ اس مداخلت کا مطلب ایران میں فوج اتارنا نہیں ہوگا۔
ٹرمپ کے مطابق ایران کے بعض شہروں میں عوام کا کنٹرول بڑھتا دکھائی دے رہا ہے اور ایرانی حکومت کو اپنے اقدامات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ایران میں
پڑھیں:
امریکا نے ایران پر مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے شروع کر دیے، سینٹکام
امریکہ نے ایران کے خلاف مسلسل 13 ویں رات بھی فوجی کارروائیاں جاری رکھیں جبکہ ایرانی شہر اہواز میں متعدد دھماکوں کی آوازیں سنی جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
امریکی سینٹرل کمانڈ سینٹکام نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں تصدیق کی کہ امریکی افواج نے جمعرات کی شب ایران کے فوجی اہداف پر ایک اور حملہ کیا۔ بیان کے مطابق یہ کارروائیاں مسلسل 13 ویں رات جاری رہیں۔
U.S. forces started another night of strikes against Iranian military targets at 6:45 p.m. ET today. This is the 13th consecutive night of strikes aimed to hold Iran accountable and diminish threats from the Islamic Revolutionary Guard Corps to commercial shipping.
مزید پڑھیںمشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، یو این سیکریٹری جنرل
جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
— U.S. Central Command (@CENTCOM) July 23, 2026سینٹکام کا کہنا ہے کہ ان حملوں کا مقصد ایران کو اس کے اقدامات پر جوابدہ بنانا اور پاسداران انقلاب کی جانب سے تجارتی بحری جہازوں کو لاحق خطرات کو کم کرنا ہے۔
دوسری جانب ایران کے صوبہ خوزستان کے دارالحکومت اہواز کے رہائشیوں نے جمعہ کی علی الصبح متعدد زور دار دھماکوں کی آوازیں سننے کی اطلاع دی ہے۔
ایرانی خبر رساں ادارے کے مطابق دھماکوں کی تفصیلات فوری طور پر سامنے نہیں آسکیں۔