Express News:
2026-07-24@07:58:04 GMT

امن سے کھلواڑ اور نوبل امن انعام کی جستجو

اشاعت کی تاریخ: 10th, January 2026 GMT

آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے دبنگ سربراہ اسدالدین اویسی نے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ ’’ جب امریکا وینزویلا پر اس کے تیل کے لالچ میں اس کے صدر اور اہلیہ کو اپنے اسپیشل فوجی دستوں کے ذریعے گرفتار کرکے امریکا لے جا کر ان پر مقدمہ چلا سکتا ہے تو مودی کیوں خاموش بیٹھے ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ اس وقت دنیا میں کوئی قاعدہ قانون موجود نہیں ہے، کئی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ٹرمپ اور مودی کے دماغ ایک ہی طرح کی سوچ رکھتے ہیں ، دونوں کے دماغوں میں ہر وقت شدت پسندی کی لہریں اٹھتی رہتی ہیں جو انھیں بے چین کرتی رہتی ہیں جن کی وجہ سے ان سے کسی مثبت سوچ کی امید رکھنا عبث ہے۔

اب مودی کو دیکھیے کہ اس نے چند ماہ قبل پاکستان پر بلاجواز حملہ کر دیا تھا۔ اس میں کئی پاکستانی شہری شہید ہو گئے تھے،اگر بھارت سچا ہوتا تو وہ پاکستان کو ہی کیا پوری دنیا کو ثبوت دکھاتا اور پاکستان پر اپنا الزام ثابت کرنے کی کوشش کرتا مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ ایک بھارت کا پاکستان کو بدنام کرنے اور پاکستان پر حملہ کرنے کا مزید نیا ڈرامہ تھا۔

افسوس کہ پاکستان کو بدنام کرنے کے لیے مودی اب تک ایسے کئی خونی ڈرامے رچا چکا ہے۔ ایک دفعہ تو اس نے اپنے درجنوں فوجیوں تک کو اپنے اقتدار کی بھینٹ چڑھا دیا تھا اور پاکستان کو اس کا ذمے دار ٹھہرایا تھا جو بالکل جھوٹ نکلا۔

دراصل بھارت میں ہونے والے ہر الیکشن سے پہلے ایسے ڈرامے رچانا مودی نے اپنی پارٹی کی پالیسی بنا لی ہے اور پھر اس سے اسے فائدہ بھی ہوتا ہے مگر اب یہ معصوم بھارتیوں کا قتل عام رنگ لے آیا ہے اور اس کا بھانڈا بھی پھوٹ گیا ہے۔

کئی بھارتی تجزیہ کاروں نے کھل کر کشمیر میں مودی کی ان وارداتوں کی حقیقت سے عوام کو آگاہ کر دیا ہے اور مودی کی سفاکی کے ثبوت بھی پیش کر دیے ہیں۔ کئی کانگریسی لیڈروں نے بھی مودی کی ہر دفعہ الیکشن سے پہلے پاکستان کے خلاف ڈرامے رچانے کی سخت تنقید کی ہے اور اسے بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ہو سکتا ہے مودی اپنے ہی لوگوں کے ناحق قتل سے اب باز آ جائے۔
وینزویلا میں ٹرمپ نے جو غیر قانونی کارروائی کی ہے، اس پر تو مودی کو سخت اعتراض ہے مگر خود اپنی حرکتوں اور ظلم پر اس کی کوئی نظر نہیں ہے۔ امریکا نے وینزویلا کے صدر کو اغوا ضرور کر لیا ہے مگر وینزویلا کی حکومت ٹرمپ کے منصوبے کے مطابق ذرا خوفزدہ ہوئی ہے، اس کی نائب صدر نے حالات سنبھال لیے ہیں اور ملک میں کوئی بدنظمی نہیں ہوئی ہے۔

ملک اپنے معمول کے مطابق چل رہا ہے جس پر امریکی صدر کو بہت تشویش کا سامنا ہے کیوں کہ وہ تو یہ سمجھ رہے تھے ان کے وینزویلا کے صدر کو گرفتار کرنے کے بعد وہاں کے حالات افراتفری کا شکار ہو جائیں گے اور اس طرح وہ وہاں تیل کے کنوؤں پر قبضہ کر لیں گے۔

مگر ہوا یہ ہے کہ ان کے ارمان پورے نہیں ہو سکے ہیں اور ان کی جارحیت پر انھیں اب پوری دنیا کی تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ،خود امریکا کے اندر سے انھیں تنقید کا سامنا ہے۔

نیویارک کے نومنتخب میئر ظہران ممدانی نے ان کے اس حملے کو جارحانہ اقدام قرار دیا ہے اور اس سے امریکی ساکھ کو نقصان پہنچانے کا ان پر الزام لگایا ہے۔

ادھرکئی یورپی ممالک جن میں ان کے خاص حلیف برطانیہ اور جرمنی بھی شامل ہیں نے ان کے اس اقدام کی مذمت کی ہے۔ ادھر چین کی جانب سے نہ صرف سخت تنقید کی گئی ہے بلکہ امریکی حکومت کو کہا گیا ہے کہ وہ فوراً وینزویلا کے صدر کو رہا کر دے اور وہاں آیندہ کسی بھی قسم کے جارحانہ اقدام سے گریزکرے۔

ٹرمپ کا وینزویلا پر حملہ محض پہلا قدم تھا، اس کے بعد وہ کئی ممالک پر حملہ آور ہونے کا منصوبہ بنا چکے تھے۔

وہ ایران،کینیڈا، گرین لینڈ، کولمبیا،کیوبا اور ارجنٹینا پر بھی اپنا اقتدار قائم کرنے کے لیے بے چین تھے اب وینزویلا پر ناکام مہم جوئی کے بعد ان کے ارادے ضرور بدلیں گے اور اب اس کے بعد کم سے کم ایران ضرور ٹرمپ کے غیض و غضب سے محفوظ ہو جائے گا ورنہ ان کا ایران پر جارحیت کرنے کا پورا ارادہ تھا اور یہ صرف اسرائیل کی بقا کی خاطر ایسا کرنا چاہتے تھے جب کہ امریکا کی ایران سے براہ راست کوئی دشمنی نہیں ہے۔

ٹرمپ چاہتا ہے کہ ایران مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کو اپنی من مانی کرنے دے اور اس کے جارحانہ اقدام کے خلاف مزاحمت نہ کرے۔ دوسری جانب ایران صرف یہ چاہتا ہے کہ اسرائیل مظلوم فلسطینیوں پر مزید ظلم نہ کرے اور انھیں ان کے مقبوضہ علاقے واپس کر دے۔

خطے کے دیگر عرب ممالک بھی یہی چاہتے ہیں مگر افسوس کہ نیتن یاہو کہاں باز آنے والا ہے، وہ تو اب گریٹر اسرائیل کے خواب دیکھ رہا ہے مگر اس کی اصل طاقت امریکا ہے جو اس کے ہر آڑے وقت میں اس کی بھرپور مدد کرنے آ دھمکتا ہے۔

اب امریکا نے وینزویلا کے خلاف جو نئی جنگ چھیڑ دی ہے، اس کا فائدہ بھی اسرائیل کو ہی ہوگا، اگر یہ جنگ آگے بڑھی اور کولمبیا بھی اس میں شامل ہو گیا تو پھر اس وقت مشرق وسطیٰ میں جو ٹرمپ کا امن منصوبہ چل رہا ہے، اس کے درہم برہم ہونے کا احتمال ہے جس سے نہ صرف فلسطینیوں کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوگا بلکہ آزاد فلسطینی ریاست کا معاملہ کھٹائی میں پڑ سکتا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: وینزویلا کے پاکستان کو مودی کی رہا ہے کے بعد صدر کو کے صدر ہے اور اور اس ہے مگر

پڑھیں:

دبئی کا بڑا اعلان؛ دوستوں اور رشتہ داروں کو سیاحت پر بلائیں، ہزاروں درہم انعام پائیں

مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے باعث سیاحوں کی تعداد میں نمایاں کمی کے بعد دبئی نے سیاحت کو دوبارہ فروغ دینے کے لیے منفرد مہم شروع کر دی ہے۔

عرب میڈیا کے مطابق نئی اسکیم کے تحت متحدہ عرب امارات کے رہائشی اگر اپنے دوستوں یا رشتہ داروں کو دبئی گھومنے کے لیے آمادہ کریں تو انھیں 3 ہزار اماراتی درہم مالیت تک کے انعامات اور سہولتیں دی جائیں گی۔

دبئی کے محکمۂ اقتصادیات و سیاحت کی جانب سے متعارف کرائی گئی اسکیم ’’دبئی اِنوائٹ‘‘ کے تحت یو اے ای میں مقیم افراد اپنے بیرونِ ملک رہنے والے دوستوں اور اہلِ خانہ کو نامزد کرسکتے ہیں۔

اگر کسی شہری کی دعوت پر ان کے دوست یا رشتہ دار سیاحتی ویزے پر دبئی آتے ہیں تو میزبان کو ہوٹل میں قیام، ریستورانوں میں خصوصی رعایت، تفریحی مقامات کے ٹکٹ اور دیگر مراعات پر مشتمل خصوصی پیکیج دیا جائے گا۔

اس اسکیم کے تحت ہر رہائشی زیادہ سے زیادہ تین مہمانوں کے لیے فوائد حاصل کرسکتا ہے بشرطیکہ مہمان 31 اکتوبر سے پہلے دبئی پہنچ جائیں۔ تاہم ان مراعات سے دسمبر تک فائدہ اٹھایا جا سکے گا۔

اس اسکیم سے فائدہ اٹھانے کے لیے ضروری ہے کہ آنے والا فرد یو اے ای کا رہائشی نہ ہو، وہ درست سیاحتی ویزے پر سفر کرے اور اسے صرف ایک مرتبہ ہی نامزد کیا جا سکے گا۔

دبئی حکومت کے یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان کشیدگی کے اثرات خلیجی ممالک تک پہنچنے کے بعد سیاحت شدید متاثر ہوئی ہے۔

رپورٹس کے مطابق ایران کی جانب سے کیے گئے میزائل اور ڈرون حملوں کے بعد دبئی کے بین الاقوامی ہوائی اڈے اور معروف فیئرمونٹ ہوٹل کو نقصان پہنچا جس سے دبئی کی محفوظ سیاحتی مقام کی ساکھ متاثر ہوئی۔

یاد رہے کہ گزشتہ برس 2025 میں دبئی نے تقریباً 2 کروڑ بین الاقوامی سیاحوں کا خیرمقدم کر کے نیا ریکارڈ قائم کیا تھا لیکن حالیہ جنگ کے بعد صورتحال یکسر بدل گئی ہے۔

ہوائی سفر پر سیکیورٹی خدشات بڑھنے کے باعث دبئی آنے والی کئی بین الاقوامی ایئرلائنز نے اپنی پروازیں معطل یا محدود کر دیں جبکہ متعدد طیاروں نے مشرقِ وسطیٰ کی فضائی حدود سے گزرنے سے گریز کیا۔

اس کے نتیجے میں دبئی ایئرپورٹس پر آپریٹ کرنے والی ایئرلائنز کی تعداد میں نمایاں کمی آئی۔ دوسری جانب ہوٹلوں میں بکنگ کم ہونے سے خالی کمروں کی شرح میں اضافہ ہوا ہے اور کئی کاروباری اداروں کی آمدنی میں 50 فیصد سے زائد کمی ریکارڈ کی گئی۔

دبئی کے بعض مشہور ہوٹلوں نے کم طلب کے باعث تزئین و آرائش کے منصوبے قبل از وقت شروع کر دیے ہیں۔ دنیا کے مشہور برج العرب ہوٹل کو بھی بڑے پیمانے پر مرمت اور بحالی کے لیے تقریباً 18 ماہ کے لیے بند کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔

اس کے علاوہ کئی ہوٹل اور سیاحتی ادارے حکومت کی نئی اسکیم کے تحت 45 فیصد تک رعایت اور مفت قیام جیسی خصوصی پیشکشیں بھی دے رہے ہیں۔

مقامی میڈیا کے مطابق دبئی اِنوائٹ اسکیم کے آغاز کے صرف 48 گھنٹوں میں 10 ہزار سے زائد درخواستیں موصول ہو چکی ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت کو اس منصوبے سے سیاحت کی بحالی کی امیدیں وابستہ ہیں۔

 

متعلقہ مضامین

  • مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
  • ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
  • ورلڈ کپ فاتح ہسپانوی فٹبالرز کو وزن کے برابر ٹماٹر انعام میں مل گئے
  • ایرانی اثاثے ضبط کرنے کی ٹرمپ کی دھمکی خطرناک نظیر ہے، عباس عراقچی کا سخت ردعمل
  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل  کے پی انعام یوسف زئی مستعفی
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی
  • دبئی کا بڑا اعلان؛ دوستوں اور رشتہ داروں کو سیاحت پر بلائیں، ہزاروں درہم انعام پائیں
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان