data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

آئل کمپنیوں کے عہدیداروں سے ملاقات میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ وینزویلا میں 100 ارب ڈالر تک سرمایہ کاری پرغور کر رہے ہیں۔

عالمی میڈیا رپورٹ کے مطابق تیل کی کمپنیوں کے عہدیداروں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکی تیل صنعت کے کئی بڑے نام وائٹ ہاؤس میں جمع ہیں، آج کمپنیوں سے ملاقات میں وینزیلا کے تیل اور قیمتیں کم کرنے پر بات ہوگی، ملاقات طویل مدتی تعلقات، سلامتی اور وینزویلا کےعوام کے حق میں ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ وینزویلا کی جانب سے کل ہمیں 30 ملین بیرل تیل دیا گیا، ہم نے ایک آئل ٹینکر پکڑا جو ہماری منظوری کے بغیر وینزویلا سے روانہ ہوا، وینزویلا میں کونسی تیل کمپنیاں جائیں گی اس کا فیصلہ ہم کریں گے، تیل کے تاجروں کو وینزویلا میں مکمل سکیورٹی فراہم کریں گے۔

صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ وینزویلا میں تیل کے کاروبار سے امریکی شہریوں کو فائدہ ہوگا، امریکا دنیا کی بہترین معیشت ہے، وینزویلا کے ساتھ کام کریں گے، وینزویلا کے سابق صدر نے کئی افراد کو قتل کیا، نکولس مادورو نے کئی افراد کو غیر قانونی حراست میں رکھا، امریکی افواج نے وینزویلا میں تاریخ کا بہترین آپریشن کیا۔

ٹرمپ نے کہا کہ امریکی کمپنیوں کے پاس وینزویلا میں کام کرنے کا بہترین موقع ہے، وینزویلا میں تیل کے بڑے ذخائر ہیں، وینزویلا دنیا بھر میں 55 فیصد تیل فراہم کرتا ہے، دیکھیں گے امریکی کمپنیاں وینزویلا کا انفراسٹرکچر کیسے بنائیں گی، اگلے ہفتے تیل کمپنیوں کے ساتھ ایک اور ملاقات کریں گے۔

ویب ڈیسک مرزا ندیم بیگ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: وینزویلا میں کمپنیوں کے کریں گے نے کہا

پڑھیں:

ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی

امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔

رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔

خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔

اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔

ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔

یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔

 

متعلقہ مضامین

  • وزیرِ پیٹرولیم کی بین الاقوامی توانائی کمپنیوں کے نمائندوں سے ملاقات
  • عالمی منڈی میں سونے کی قیمت میں کمی
  • سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ٹرمپ کا نیا حربہ، عالمی درآمدات پر نئے ٹیرف کا نفاذ
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بے قابو، فی بیرل 100 ڈالر سے متجاوز
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • آبنائے ہرمز میں ہر حملے کے بدلے ایک پل یا پاور پلانٹ تباہ کریں گے، ٹرمپ کی ایران کو نئی دھمکی
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل