امریکا نے وینزویلا سے روانہ ہونے والا ایک اور تیل بردار جہاز ضبط کرلیا
اشاعت کی تاریخ: 10th, January 2026 GMT
امریکا نے کیریبین سمندر میں وینزویلا سے روانہ ہونے والا ایک اور تیل بردار جہاز قبضے میں لے لیا ہے۔
امریکی حکام کے مطابق یو ایس کوسٹ گارڈ اور میرینز نے مشترکہ کارروائی کے دوران اولینا (Olina) نامی ٹینکر کو بغیر کسی مزاحمت کے تحویل میں لیا۔
مزید پڑھیں: وینزویلا پر دوسرا حملہ منسوخ کردیا، تیل میں 100 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کریں گے، ڈونلڈ ٹرمپ
ہوم لینڈ سیکیورٹی کی وزیر کرسٹی نوم کا کہنا ہے کہ جہاز پر پابندیوں کے تحت ممنوع تیل لادے جانے کا شبہ تھا اور اس نے امریکی فورسز سے بچنے کی کوشش کی۔ امریکی سدرن کمانڈ کے مطابق یہ کارروائی مغربی نصف کرے میں غیر قانونی سرگرمیوں کے خاتمے کے لیے جاری مہم کا حصہ ہے۔
Once you control all the oil, why hold prices down any longer…
US seizes another Venezuelan oil tanker as energy markets experience significant uptick.
— Informer (@X_Informer_X) January 9, 2026
رپورٹ کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے دسمبر میں وینزویلا کے تیل کی برآمدات پر مکمل پابندی کے اعلان کے بعد اب تک کم از کم 4 تیل بردار جہاز ضبط کیے جا چکے ہیں۔
مزید پڑھیں: پورٹ لینڈ میں وفاقی اہلکار کی فائرنگ، وینزویلا گینگ کے مبینہ 2 ارکان زخمی
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ایسے ’گھوسٹ فلیٹ‘ جہاز جعلی دستاویزات کے ذریعے پابندی شدہ تیل منتقل کرتے ہیں، جبکہ بیشتر جہاز خستہ حال ہونے کے باعث امریکی بندرگاہوں میں داخلے کے معیار پر بھی پورا نہیں اترتے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکا کیریبین سمندر ہوم لینڈ سیکیورٹی وینزویلا
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکا کیریبین سمندر ہوم لینڈ سیکیورٹی وینزویلا
پڑھیں:
اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
سپریم کورٹ آف پاکستان نے سانحہ آرمی پبلک سکول (اے پی ایس) کے شہدا کے لواحقین کو اعلان کردہ معاوضہ پیکج نہ ملنے کے معاملے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا ہے۔
کیس کی سماعت جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کی۔ دوران سماعت جسٹس عرفان سعادت نے ریمارکس دیے کہ درخواست 25 دن کی تاخیر سے دائر کی گئی ہے۔
درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ شہدا کے لواحقین کو حکومت کی جانب سے اعلان کردہ پیکج تاحال نہیں ملا۔
اس پر جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ اگر کوئی پیکج دیا گیا ہے تو وہ تمام متاثرہ لواحقین کو ملنا چاہیے۔
انہوں نے وفاقی حکومت کو ہدایت کی کہ وہ عدالت کو آگاہ کرے کہ پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد ہوا ہے یا نہیں۔
سماعت کے دوران یہ بھی بتایا گیا کہ پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد نہ ہونے کے خلاف شہدا کے لواحقین کی جانب سے توہین عدالت کی درخواست دائر کی گئی تھی، تاہم پشاور ہائیکورٹ نے مذکورہ درخواست کو خارج کر دیا تھا۔
بعد ازاں سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews جواب طلب سپریم کورٹ عدم ادائیگی معاوضہ پیکج وفاقی حکومت وی نیوز