امریکی صدر کا وینزویلا کی اپوزیشن رہنما سے ملاقات کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 9th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ وہ اگلے ہفتے واشنگٹن میں وینزویلا کی اپوزیشن رہنما ماریا کورینا مچاڈو سے ملاقات کریں گے۔
غیرملکی خبر ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق یہ ملاقات ایک ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب وینزویلا میں سیاسی عدم یقینی اور عبوری انتظام کے بارے میں بین الاقوامی ردعمل بڑھ رہا ہے، خاص طور پر نکولس مادورو کی گرفتاری اور امریکی تیل حکمت عملی کے بعد۔
ماریا کی اپوزیشن لیڈر جو حال ہی میں نوبل امن انعام حاصل کر چکی ہیں، اگلے ہفتے واشنگٹن آ رہی ہیں اور ٹرمپ کے ساتھ ان کی پہلی باضابطہ ملاقات طے پائی ہے۔ ٹرمپ نے ایک انٹرویو میں کہا کہ وہ ’ہیلو‘ کہنے کے منتظر ہیں اور ماریا کی آمد کا خیرمقدم کریں گے۔
ماریا وینزویلا کی ایک نمایاں اپوزیشن شخصیت ہیں جنہوں نے جمہوری اصول برقراری، شفاف انتخابات اور انسانی حقوق کے لیے آواز اٹھائی ہے۔
امریکی بیانیے کے مطابق واشنگٹن میں اس ملاقات کا مقصد سیاسی عبوری مرحلے میں جمہوری اصول کی بحالی، اقتصادی تعاون، بشمول تیل شعبے کی بہتری اور سرمایہ کاری میں اضافہ ہے جبکہ علاقائی امن و استحکام اور امریکا اور لاطینی امریکا تعلقات میں بہتری لانا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران پر اب تک کے سب سے بڑے فوجی حملے کی منظوری دینے کے قریب ہیں۔
امریکی خبر رساں ادارے سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں ایران پر ایک بہت بڑے حملے پر غور کر رہا ہوں جو پہلے ہونے والے تمام حملوں سے کہیں بڑا ہوگا۔
انھوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ تمام عسکری آپشنز زیر غور ہیں۔ میں فیصلہ کرنے کے بہت قریب ہوں اور اس کی تمام تیاریاں بھی مکمل ہیں۔
امریکی صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اگر وہ چاہیں تو اسرائیل دو منٹ میں اس کارروائی میں شامل ہو جائے گا تاہم ہمیں کسی کی ضرورت نہیں۔
قبل ازیں ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کے بحیرہ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں پر حملے کے بعد امریکی صدر نے ایران اور حوثیوں دونوں کو بڑی فوجی سزا دینے کی دھمکی بھی دی تھی۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ اگر حوثیوں نے دوبارہ ایسے حملے کیے تو امریکا انھیں ایران کی کارروائی تصور کرے گا کیونکہ حوثی اس کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔
دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہے۔
بحیرہ احمر اور باب المندب میں جہاز رانی کو لاحق خطرات نے عالمی توانائی منڈی میں تشویش بڑھا دی ہے۔
ادھر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ خطہ مسلسل وسیع ہوتے تصادم کی لپیٹ میں آ رہا ہے۔ ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے اور ہر نئی کشیدگی اگلی کشیدگی کا سبب بن رہی ہے۔