گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری نے سعودی عرب کے صوبہ تبوک کے گورنر پرنس فہد بن سلطان بن عبدالعزیز آل سعود سے کراچی میں ملاقات کی۔ ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے پاک سعودی تعلقات، باہمی تعاون اور خطے کے اہم امور پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا۔

مزید پڑھیں: کیا کامران خان ٹیسوری کی کرسی خطرے میں ہے، اگلا گورنر سندھ کون ہوسکتا ہے؟

دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور سعودی عرب کے دیرینہ برادرانہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے عزم کا اعادہ کیا، اور گورنر تبوک کے دورے کو دوطرفہ تعلقات کے فروغ کے لیے ایک اہم سنگِ میل قرار دیا گیا۔

مزید پڑھیں: کامران ٹیسوری کے مطابق ’بھائی‘ آرہے ہیں، یہ بھائی کون ہیں؟

ملاقات کے اختتام پر گورنر سندھ نے پرنس فہد بن سلطان بن عبدالعزیز آل سعود کو ایئرپورٹ پر پرتپاک انداز میں الوداع کیا۔ اس موقع پر سعودی سفیر نواف بن سعید احمد المالکی، قونصل جنرل، ملٹری اتاشی اور دیگر اعلی حکام بھی موجود تھے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

پرنس فہد بن سلطان بن عبدالعزیز آل سعود صوبہ تبوک کے گورنر کامران خان ٹیسوری.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: پرنس فہد بن سلطان بن عبدالعزیز آل سعود صوبہ تبوک کے گورنر کامران خان ٹیسوری کامران خان ٹیسوری گورنر سندھ

پڑھیں:

سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود

فائل فوٹو

سندھ کی تمام جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ صوبائی جیلوں میں 14 ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے لیکن 27 ہزار قیدی موجود ہیں۔

دستاویز کے مطابق کراچی کی سینٹرل جیل میں بھی قیدیوں کی تعداد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جہاں گنجائش 2400 قیدیوں کی ہے مگر 8 ہزار قیدی رہ رہے ہیں۔

اسی طرح ملیر جیل کی گنجائش 2200 قیدیوں کی ہے لیکن وہاں ساڑھے 5 ہزار قیدی موجود ہیں۔

جیو نیوز کو حاصل دستاویز کے مطابق صوبہ سندھ میں 23 جیلیں ہیں، جو نہ صرف بھری ہوئی ہیں بلکہ اب اوور پاپولیٹڈ ہوگئی ہیں۔

حیدرآباد سینٹرل جیل میں قیدیوں کی گنجائش ڈیڑھ ہزار کی ہے، جہاں 3 ہزار افراد قید کاٹ رہے ہیں۔

لاڑکانہ سینٹرل جیل ساڑھے 6 سو افراد کے لیے بنائی گئی لیکن یہاں 1 ہزار افراد قید ہیں، ٹھٹھہ کی جیل ڈھائی سو افراد کے لیے ڈیزائن کی گئی لیکن قیدی ساڑھے 9 سو ہیں۔

صوبے میں خواتین کی 3 جیلیں کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں قائم ہیں، جہاں موجود خواتین قیدیوں کی تعداد 438 تک پہنچ چکی ہے جبکہ ان میں سے صرف 68 خواتین سزا یافتہ ہیں۔

صوبے بھر کی جیلوں میں 27 ہزار قیدیوں میں سب سے زیادہ 22 ہزار 600 ایسے قیدی ہیں، جن کے کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جبکہ سزا یافتہ قیدیوں کی تعداد محض ساڑھے 3 ہزار ہے۔

جیلوں میں سزائے موت کے 459 افراد بھی اپنی زندگی کے دن گن رہے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • سندھ، پنجاب اور کے پی کے مختلف شہروں میں بارش اور مٹی کا طوفان
  • جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن مقرر
  • محسن نقوی سے فیصل کریم کنڈی کی ملاقات، سکیورٹی چیلنجز سے آگاہ کیا
  • شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
  • وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے گورنر خیبرپختونخوا کی ملاقات
  • گورنرخیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کی وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال سے ملاقات، دینار ہسپتال ڈی آئی خان کیلئے ریڈیالوجی مشینری اور طبی آلات کی فراہمی پر تبادلہ خیال
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • گورنر خیبرپختونخوا سے ترک سفیر کی ملاقات ، باہمی تعاون ،دوطرفہ امور پر تبادلہ خیال
  • سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
  • حج سے واپسی کا آغاز، 370 حجاج کرام اسلام آباد پہنچ گئے