گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری کی سعودی عرب کے گورنر تبوک سے ملاقات
اشاعت کی تاریخ: 9th, January 2026 GMT
گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری نے سعودی عرب کے صوبہ تبوک کے گورنر پرنس فہد بن سلطان بن عبدالعزیز آل سعود سے کراچی میں ملاقات کی۔ ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے پاک سعودی تعلقات، باہمی تعاون اور خطے کے اہم امور پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا۔
مزید پڑھیں: کیا کامران خان ٹیسوری کی کرسی خطرے میں ہے، اگلا گورنر سندھ کون ہوسکتا ہے؟
دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور سعودی عرب کے دیرینہ برادرانہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے عزم کا اعادہ کیا، اور گورنر تبوک کے دورے کو دوطرفہ تعلقات کے فروغ کے لیے ایک اہم سنگِ میل قرار دیا گیا۔
مزید پڑھیں: کامران ٹیسوری کے مطابق ’بھائی‘ آرہے ہیں، یہ بھائی کون ہیں؟
ملاقات کے اختتام پر گورنر سندھ نے پرنس فہد بن سلطان بن عبدالعزیز آل سعود کو ایئرپورٹ پر پرتپاک انداز میں الوداع کیا۔ اس موقع پر سعودی سفیر نواف بن سعید احمد المالکی، قونصل جنرل، ملٹری اتاشی اور دیگر اعلی حکام بھی موجود تھے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پرنس فہد بن سلطان بن عبدالعزیز آل سعود صوبہ تبوک کے گورنر کامران خان ٹیسوری.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پرنس فہد بن سلطان بن عبدالعزیز آل سعود صوبہ تبوک کے گورنر کامران خان ٹیسوری کامران خان ٹیسوری گورنر سندھ
پڑھیں:
سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
فائل فوٹوسندھ کی تمام جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ صوبائی جیلوں میں 14 ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے لیکن 27 ہزار قیدی موجود ہیں۔
دستاویز کے مطابق کراچی کی سینٹرل جیل میں بھی قیدیوں کی تعداد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جہاں گنجائش 2400 قیدیوں کی ہے مگر 8 ہزار قیدی رہ رہے ہیں۔
اسی طرح ملیر جیل کی گنجائش 2200 قیدیوں کی ہے لیکن وہاں ساڑھے 5 ہزار قیدی موجود ہیں۔
جیو نیوز کو حاصل دستاویز کے مطابق صوبہ سندھ میں 23 جیلیں ہیں، جو نہ صرف بھری ہوئی ہیں بلکہ اب اوور پاپولیٹڈ ہوگئی ہیں۔
حیدرآباد سینٹرل جیل میں قیدیوں کی گنجائش ڈیڑھ ہزار کی ہے، جہاں 3 ہزار افراد قید کاٹ رہے ہیں۔
لاڑکانہ سینٹرل جیل ساڑھے 6 سو افراد کے لیے بنائی گئی لیکن یہاں 1 ہزار افراد قید ہیں، ٹھٹھہ کی جیل ڈھائی سو افراد کے لیے ڈیزائن کی گئی لیکن قیدی ساڑھے 9 سو ہیں۔
صوبے میں خواتین کی 3 جیلیں کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں قائم ہیں، جہاں موجود خواتین قیدیوں کی تعداد 438 تک پہنچ چکی ہے جبکہ ان میں سے صرف 68 خواتین سزا یافتہ ہیں۔
صوبے بھر کی جیلوں میں 27 ہزار قیدیوں میں سب سے زیادہ 22 ہزار 600 ایسے قیدی ہیں، جن کے کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جبکہ سزا یافتہ قیدیوں کی تعداد محض ساڑھے 3 ہزار ہے۔
جیلوں میں سزائے موت کے 459 افراد بھی اپنی زندگی کے دن گن رہے ہیں۔