امریکی سینیٹ میں وینزویلا پر ٹرمپ کے مزید فوجی اقدامات کیخلاف قرارداد بحث کیلئے منظور
اشاعت کی تاریخ: 9th, January 2026 GMT
امریکی سینیٹ نے وینزویلا میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مزید فوجی اقدامات کے خلاف ایک قرارداد بحث کے لیے منظور کر لی ہے۔
قرارداد کے حق میں 52 جبکہ مخالفت میں 47 ووٹ پڑے۔ ٹرمپ کی ری پبلکن پارٹی کے پانچ سینیٹرز نے بھی قرارداد کی حمایت کی، جبکہ ایک ری پبلکن سینیٹر نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔
صدر ٹرمپ نے قرارداد کے حق میں ووٹ دینے والے ری پبلکن سینیٹرز پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایسے ارکان کو دوبارہ سینیٹ کا حصہ نہیں بننا چاہیے۔
امریکی میڈیا کے مطابق اس قرارداد کی منظوری کے بعد صدر ٹرمپ کو وینزویلا میں مزید فوجی کارروائی کے لیے کانگریس کی اجازت درکار ہوگی۔ قرارداد کا مقصد کانگریس کی منظوری کے بغیر کسی بھی اضافی فوجی اقدام کو روکنا ہے۔
گزشتہ سال اسی نوعیت کی دو قراردادوں کو سینیٹ میں آگے بڑھانے کی کوششیں ری پبلکن پارٹی نے ناکام بنا دی تھیں۔
واضح رہے کہ چند روز قبل صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکی فوج کو دوبارہ وینزویلا بھیجنے کے لیے کسی نئی قانون سازی کی ضرورت نہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل ری پبلکن
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔