امریکا کا گرین لینڈ خریدنے کا نیا منصوبہ بے نقاب
اشاعت کی تاریخ: 9th, January 2026 GMT
خبر ایجنسی کے مطابق امریکا میں گرین لینڈ کی ممکنہ خریداری سے متعلق ایک نیا منصوبہ سامنے آیا ہے، جس کے تحت وہاں کی 57 ہزار آبادی کو براہ راست 10 ہزار سے ایک لاکھ ڈالر تک ادائیگی پر غور کیا جا رہا ہے۔
خبر ایجنسی نے امریکی صدر کے معاونین اور حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ اس منصوبے کا مقصد گرین لینڈ کے شہریوں کو ڈنمارک سے علیحدگی پر آمادہ کرنا اور امریکا میں شامل ہونے کے لیے قائل کرنا ہے۔
دوسری جانب گرین لینڈ سے متعلق امریکی عزائم پر برطانیہ اور یورپی ممالک نے شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ ڈنمارک کی وزیراعظم نے بھی امریکی صدر سے مطالبہ کیا ہے کہ گرین لینڈ پر قبضے سے متعلق بیانات اور دھمکیاں بند کی جائیں۔
واضح رہے کہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ ماہ کہا تھا کہ امریکا کو گرین لینڈ معدنیات کے لیے نہیں بلکہ دفاعی مقاصد کے لیے درکار ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل گرین لینڈ
پڑھیں:
سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
نیوز بریفنگ کے دوران وائٹ ہاؤس کی ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے کہا ہے کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ توانائی اور سول جوہری تعاون کا معاہدہ سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت سے مشروط ہے۔ نیوز بریفنگ کے دوران کیرولین لیویٹ نے بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ ماضی میں بھی سعودی عرب کے ساتھ مختلف معاہدوں کے حوالے سے بات چیت کر چکے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ سعودی عرب ابراہیم اکارڈز پر دستخط کرے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ صدر ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان متوقع ملاقات میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) ٹیکنالوجی کی مبینہ چوری کا معاملہ بھی زیرِ بحث آنے کا امکان ہے۔ کیرولین لیویٹ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ امریکا سعودی عرب کے ساتھ توانائی اور سول جوہری تعاون سے متعلق مذاکرات جاری رکھے گا، تاہم کسی بھی حتمی معاہدے کے لیے متعلقہ شرائط پوری ہونا ضروری ہوں گی۔