دنیا کے تمام ممالک پر امریکی فوجی حملے کا حکم دینے کا اختیار رکھتا ہوں، ٹرمپ
اشاعت کی تاریخ: 9th, January 2026 GMT
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ دنیا بھر کے ممالک پر امریکی فوجی حملے یا جارحیت کا حکم دینے کا مکمل اختیار رکھتا ہوں۔
اپنے ایک بیان میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ بحیثیت کمانڈر اِن چیف اپنے اختیارات کی حد کا فیصلہ کرنے والا میں خود ہی ہوں، جو واحد چیز مجھے روک سکتی ہے وہ میری اپنی اخلاقیات اور میرا اپنا دماغ ہے۔
نیویارک ٹائمز کو انٹرویو میں ٹرمپ نے ایک سال سے زائد عرصے تک وینزویلا کے معاملات چلانے اور تیل پر قبضہ رکھنے کے عزائم کا اظہار بھی کیا۔
دوسری جانب امریکی سینیٹ نے ٹرمپ کو وینزویلا پر مزید جارحیت سے باز رکھنے کی قرارداد بحث کے لیے منظور کرلی ہے۔
غیرملکی میڈیا کے مطابق ری پبلکن پارٹی کے پانچ ارکان نے بھی قرارداد کے حق میں ووٹ دیا۔
دوسری جانب امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ وینزویلا میں کارروائی سے فائدہ امریکی عوام کو ہوگا۔
اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ امریکا کا وینزویلا کے قدرتی وسائل پر قبضہ ہوگا، دشمنوں پر بالادستی حاصل ہوگی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: نے کہا
پڑھیں:
سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
نیتن یاہو - فوٹو: فائلاسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔
خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔
اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔
تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔