احتجاج کے دوران مظاہرین کو قتل کیاگیا تو بہت سخت جواب دیں گے: ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران کو متنبہ کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 9th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مظاہرین کے خلاف کارروائی کی صورت میں ایک بار پھر ایران کو سخت وارننگ دے دی ہے۔
ایک انٹرویو میں امریکی صدر نے خبردار کیا کہ اگر احتجاج کے دوران مظاہرین کو قتل کیا گیا تو امریکا ایران کو بھرپور اور انتہائی سخت جواب دے گا۔ ٹرمپ نے کہا کہ وہ ایران کو واضح طور پر آگاہ کر چکے ہیں کہ اگر لوگوں کو قتل کرنا شروع کیا گیا، جیسا کہ ماضی میں ہوتا رہا ہے، تو امریکا خاموش نہیں رہے گا۔
انٹرویو کے دوران میزبان کی جانب سے مظاہروں میں درجنوں ہلاکتوں کا ذکر کیے جانے پر صدر ٹرمپ نے کہا کہ بعض اموات بھگدڑ کے باعث بھی ہو سکتی ہیں اور ضروری نہیں کہ تمام ہلاکتیں سکیورٹی فورسز کی کارروائی کا نتیجہ ہوں۔
انہوں نے کہا کہ وہ ہر موت کا ذمہ دار کسی ایک فریق کو نہیں ٹھہرا سکتے، تاہم ایران کو سختی سے متنبہ کر دیا گیا ہے کہ اگر مظاہرین کے قتل کا سلسلہ جاری رہا تو اسے اس کی بھاری قیمت چکانا پڑے گی۔
ایران میں حکومت مخالف مظاہرین کے نام پیغام دیتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ ’’آپ آزادی کے لیے کھڑے ہیں، آپ بہادر لوگ ہیں۔ یہ افسوسناک ہے کہ آپ کے ملک کے ساتھ کیا ہو رہا ہے، حالانکہ یہ ایک عظیم ملک تھا۔‘‘
واضح رہے کہ ایران میں گزشتہ 12 روز سے مہنگائی اور کرنسی کی قدر میں شدید کمی کے خلاف عوامی احتجاج جاری ہے، جس کے دوران درجنوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ اس سے قبل بھی امریکا ایران کو مظاہرین کے خلاف تشدد کے استعمال سے خبردار کر چکا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: مظاہرین کے نے کہا کہ ایران کو کے دوران
پڑھیں:
سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
فائل فوٹوسپریم کورٹ نے اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا۔
کیس کی سماعت جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی، جسٹس عرفان سعادت نے کہا کہ درخواست 25 دن تاخیر سے دائر کی گئی۔
پشاور ہائیکورٹ فیصلے پر توہین عدالت کی درخواست شہداء کےلواحقین کی جانب سے دائر کی گئی تھی، پشاور ہائیکورٹ نے توہین عدالت کی درخواست خارج کردی تھی۔
درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ شہداء کے لواحقین کو اعلان کردہ پیکیج نہیں ملا۔
جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ اگر کوئی پیکیج ملا ہے تو سب کو دیں، وفاقی حکومت بتائے کہ پشاور ہائیکورٹ فیصلے پر عملدرآمد ہوا یا نہیں۔
کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کردی گئی۔