امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کا اسرائیلی وزیراعظم کو فون، ایران اور خطے کی صورتحال پر گفتگو
اشاعت کی تاریخ: 11th, January 2026 GMT
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے اسرائیلی وزیراعظم نیتن ہایو سے ٹیلیفونک رابطہ کیا ہے۔
خبر رساں اداروں کے مطابق دونوں رہنماؤں نے ایران میں مظاہروں، غزہ اور شام کی صورتحال پر گفتگو کی۔
غیرملکی میڈیا کے مطابق ایک امریکی عہدیدار نے بتایا کہ دونوں رہنماؤں نے اہم معاملات پر تفصیلی گفتگو کی تاہم اس کی تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔
دوسری جانب ایران میں پُرتشدد مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے، اب تک تشدد کے واقعات میں ہونے والی اموات کی تعداد 65 ہوگئی ہے، جن میں 15 سیکیورٹی اہلکار بھی شامل ہیں۔
غیرملکی میڈیا کے مطابق ایرانی حکومت نے ملک میں ہنگاموں کے حوالے سے جاری ہونے والے بیان میں کہا ہے کہ اب تک ڈھائی ہزار افراد گرفتار کیے جاچکے ہیں، جن میں تہران کے قریب سے 100 مسلح فسادی بھی شامل ہیں۔
ایرانی فوج کا کہنا ہے کہ کمانڈر انچیف کی سربراہی میں فوج نہ صرف خطے میں دشمن کی نقل و حرکت پر نظر رکھے گی، بلکہ قومی مفادات اور عوامی املاک کا تحفظ بھی کرے گی۔
علاوہ ازیں غزہ میں اکتوبر میں اسرائیل اور حماس کے درمیان ہونے والی جنگ بندی کے پہلے مرحلے کے بعد دونوں فریقین آگے نہیں بڑھ سکے جبکہ اسرائیل بار بار معاہدے کی خلاف ورزیاں بھی کرتا آرہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران پر اب تک کے سب سے بڑے فوجی حملے کی منظوری دینے کے قریب ہیں۔
امریکی خبر رساں ادارے سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں ایران پر ایک بہت بڑے حملے پر غور کر رہا ہوں جو پہلے ہونے والے تمام حملوں سے کہیں بڑا ہوگا۔
انھوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ تمام عسکری آپشنز زیر غور ہیں۔ میں فیصلہ کرنے کے بہت قریب ہوں اور اس کی تمام تیاریاں بھی مکمل ہیں۔
امریکی صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اگر وہ چاہیں تو اسرائیل دو منٹ میں اس کارروائی میں شامل ہو جائے گا تاہم ہمیں کسی کی ضرورت نہیں۔
قبل ازیں ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کے بحیرہ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں پر حملے کے بعد امریکی صدر نے ایران اور حوثیوں دونوں کو بڑی فوجی سزا دینے کی دھمکی بھی دی تھی۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ اگر حوثیوں نے دوبارہ ایسے حملے کیے تو امریکا انھیں ایران کی کارروائی تصور کرے گا کیونکہ حوثی اس کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔
دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہے۔
بحیرہ احمر اور باب المندب میں جہاز رانی کو لاحق خطرات نے عالمی توانائی منڈی میں تشویش بڑھا دی ہے۔
ادھر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ خطہ مسلسل وسیع ہوتے تصادم کی لپیٹ میں آ رہا ہے۔ ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے اور ہر نئی کشیدگی اگلی کشیدگی کا سبب بن رہی ہے۔