ہندو انتہا پسندوں کی دھمکیوں کے باوجود بنگلہ دیش کا بھارت کو سخت جواب، مودی حکومت مزید تنہائی کا شکار
اشاعت کی تاریخ: 11th, January 2026 GMT
ڈھاکا(نیوز ڈیسک) ہندو انتہا پسندوں کی دھمکیوں اور دباؤ کے باوجود بنگلہ دیش نے بھارت کو کرارا جواب دیتے ہوئے واضح کر دیا ہے کہ وہ اپنی خودمختاری اور سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ مبصرین کے مطابق مودی حکومت کی انتہا پسند پالیسیوں کے باعث بھارت عالمی اور علاقائی سطح پر شدید تنہائی کی طرف بڑھتا جا رہا ہے۔
بنگلہ دیش سمیت ہمسایہ ممالک میں مودی کے انتہا پسند ہندوتوا نظریے نے بھارت مخالف جذبات کو مزید بھڑکا دیا ہے۔ بنگلہ دیشی نوجوان کارکن عثمان ہادی کے قتل کے بعد، جسے مبصرین مودی حکومت کی پشت پناہی میں سرگرم انتہا پسند عناصر سے جوڑ رہے ہیں، ڈھاکہ نے نئی دہلی کے گرد سفارتی گھیرا تنگ کر دیا ہے۔
سیکیورٹی خدشات کی بنیاد پر بنگلہ دیش کی جانب سے کیے گئے متعدد اعلانات کے بعد بھارتی میڈیا نے بھی عالمی سطح پر بھارت کی ہزیمت کی بالواسطہ توثیق کر دی ہے۔ مودی کے انتہا پسند غنڈوں کی جانب سے دھمکیوں کے بعد بنگلہ دیش نے بھارت کے لیے ویزوں کا اجرا روکنے کا فیصلہ کیا ہے۔
بھارتی نشریاتی ادارے این ڈی ٹی وی کے مطابق بنگلہ دیشی وزارتِ خارجہ کے مشیر ایم توحید حسین نے بھارت میں مزید تین اہم سفارتی مشنز میں ویزا خدمات معطل کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق نئی دہلی، کولکتہ اور اگرتلہ میں بنگلہ دیش کے مشنز کو ویزا سیکشنز بند رکھنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
امریکی جریدے فارن پالیسی نے بھی بنگلہ دیش کے ہاتھوں مودی حکومت کی سفارتی رسوائی کو نمایاں کرتے ہوئے لکھا ہے کہ بھارتی مداخلت اور انتہا پسندی کے پیش نظر بنگلہ دیش نے انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) کی نشریات پر پابندی عائد کر دی ہے۔ رپورٹ کے مطابق سیکیورٹی خدشات کے باعث بنگلہ دیش کرکٹ ٹیم نے آئندہ ورلڈ کپ کے دوران بھارت میں میچ نہ کھیلنے کا بھی فیصلہ کر لیا ہے۔
فارن پالیسی کے مطابق بنگلہ دیش کا مؤقف ہے کہ بھارت طویل عرصے سے اس کی داخلی سیاست اور خارجہ پالیسی میں مداخلت کرتا آ رہا ہے، جو دو طرفہ تعلقات میں بداعتمادی کی بنیادی وجہ بن چکا ہے۔
ماہرینِ عالمی امور کا کہنا ہے کہ بھارت کی ہمسایہ ممالک میں مسلسل مداخلت نہ صرف سرحدی تنازعات کو ہوا دے رہی ہے بلکہ عالمی قوانین کو بھی چیلنج کر رہی ہے۔ ان کے مطابق بھارت کے دہشت گردانہ اور انتہا پسندانہ عزائم خطے ہی نہیں بلکہ عالمی امن کے لیے بھی شدید خطرہ بن چکے ہیں، جبکہ ہندوتوا نظریات اور بالادستی کی سوچ نے بھارت کو ایک نیٹ ریجنل ڈی اسٹیبلائزر میں تبدیل کر دیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: مودی حکومت انتہا پسند بنگلہ دیش کر دیا ہے نے بھارت کے مطابق
پڑھیں:
رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
رواں مالی سال26-2025 کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد رہی اور قابل کاشت رقبہ 3.6 فیصد کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی اور اہم فصلوں کی مجموعی پیداوار میں 0.6 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
قومی اقتصادی سروے 26-2025 کے اہم نکات کے مطابق گندم کاشت رقبہ 4.4 فیصد اور پیداوار4.3 فیصد بڑھ کر 2 کروڑ 96 لاکھ ٹن رہی۔
مالی سال 26-2025 کے دوران چاول کی پیداوار میں 2.8 فیصد اضافہ ہوگیا، گنے کی پیداوار میں 6.2 فیصد اضافہ ہوا اور مجموعی پیداوار8 کروڑ 94 لاکھ ٹن ریکارڈ کی گئی۔
رپورٹ کے مطابق مکئی کی پیداوار میں 2.7 فیصد کمی آئی تاہم کاشت کا رقبہ گزشتہ سال کے برابر رہا، کپاس کی پیداوار میں بھی 0.5 فیصد کمی رہی اور کاشت کا رقبہ بھی 1.5 فیصد کم ہوگیا۔
دیگر فصلوں میں 2.4 فیصد نمواور پیداوار میں ریکارڈ 50.4 فیصد اضافہ ہوگیا، آلو کی پیداوار 27.6 فیصد، آم 11.6 فیصد اور کیلے کی پیداوار 30.8 فیصد بڑھ گئی۔
اسی طرح ہلدی کی پیداوار میں 25.1 فیصد مرچوں کی پیداوار میں 9.2 فیصد، کاٹن جننگ اور متفرق زرعی شعبوں کی شرح نمو صرف 0.1 فیصد رہی اور لائیو اسٹاک شعبے کی شرح نمو 3.8 فیصد رہی۔