مئی 2025 میں بھارت کی اشتعال انگیزی کے جواب میں آپریشن ’بنیان مرصوص‘ کی شاندار کامیابی کے بعد پاکستان کی اسلحہ برآمدات میں نمایاں اضافہ ریکارڈ ہوا ہے۔

4 روزہ جنگ میں پاکستان نے نہ صرف چینی ساختہ عسکری سازوسامان کی مؤثریت کا مظاہرہ کیا بلکہ اپنے مقامی طور پر تیار کردہ دفاعی آلات بھی نمایاں طور پر پیش کیے، جن میں جے ایف 17 تھنڈر جنگی طیارے سمیت دیگر سازوسامان شامل ہے۔

مزید پڑھیں: بھارت کے اینٹی ایئرکرافٹ سسٹم ایس 400 کی تباہی پاک بھارت جنگ کا سب سے بڑا واقعہ قرار

خصوصی طور پر جے ایف 17 تھنڈر نے مئی کے تنازع اور 2019 میں بھارت کے ساتھ ہونے والی جھڑپ کے دوران اپنی جنگی صلاحیتیں ثابت کیں۔ گزشتہ سال بھارت کے ساتھ جنگ کے دوران اسی طیارے بھارت کے جدید ترین دفاعی سسٹم ایس 400 کو تباہ کیا، جبکہ گزشتہ سال دبئی ایئر شو میں بھی شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔

رواں ہفتے کے اوائل میں وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے کہاکہ پاکستان کی دفاعی صنعت کی کامیابی ملک کے معاشی منظرنامے کو تبدیل کر سکتی ہے۔

’ہمارے طیاروں کا عملی تجربہ ہو چکا ہے اور ہمیں اتنے زیادہ آرڈرز مل رہے ہیں کہ ہو سکتا ہے پاکستان کو 6 ماہ میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی ضرورت نہ رہے۔‘

مئی 2025 کے بعد پاکستان نے دوست ممالک کے اسلحہ کی فروخت کے معاہدے کیے ہیں، اور جلد ان پر عملدرآمد کا امکان ہے۔

10 جنوری 2026: عراقی فضائیہ کے سربراہ کی جے ایف 17 میں گہری دلچسپی

10 جنوری کو عراقی فضائیہ کے کمانڈر نے مئی کے تنازع کے دوران پاک فضائیہ کی پیشہ ورانہ مہارت کو سراہا اور عراق کے دورے پر آئے پاک فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو کے ساتھ ملاقات کے دوران جنگ میں آزمودہ جے ایف 17 طیاروں کی خریداری میں دلچسپی کا اظہار کیا۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے بیان کے مطابق لیفٹیننٹ جنرل الاسدی نے پاک فضائیہ کی عالمی معیار کی تربیت سے استفادہ کرنے کی خواہش ظاہر کی اور جے ایف 17 تھنڈر جنگی طیاروں اور سپر مشاق تربیتی طیاروں میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔

7 جنوری: سعودی عرب سے طیاروں کے بدلے قرضوں کے معاہدے پر بات چیت

رواں ہفتے کے اوائل میں رپورٹ کیا گیا کہ پاکستان اور سعودی عرب تقریباً 2 ارب ڈالر کے سعودی قرضوں کو جے ایف 17 جنگی طیاروں کے معاہدے میں تبدیل کرنے پر بات چیت ہورہی ہے۔

اس پیش رفت سے گزشتہ سال دونوں ممالک کے درمیان دفاعی معاہدے کے بعد عسکری تعاون میں مزید گہرائی آئی ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق پاکستانی ذرائع نے بتایا کہ مجموعی معاہدے کی مالیت 4 ارب ڈالر ہے، جبکہ قرض کی تبدیلی کے علاوہ مزید 2 ارب ڈالر کا دفاعی سازوسامان بھی شامل ہوگا۔

6 جنوری: بنگلہ دیش کی جے ایف 17 خریدنے میں دلچسپی

آئی ایس پی آر کے مطابق پاکستان اور بنگلہ دیش کے فضائیہ کے سربراہان کے درمیان جے ایف 17 تھنڈر طیاروں کی ممکنہ خریداری پر تفصیلی بات چیت ہوئی۔

ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو نے اپنے بنگلہ دیشی ہم منصب کو پاک فضائیہ کی حالیہ پیش رفت سے آگاہ کیا اور بنگلہ دیش فضائیہ کو بنیادی سے لے کر جدید پرواز اور خصوصی کورسز تک جامع تربیتی معاونت فراہم کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔

انہوں نے سپر مشاق تربیتی طیاروں کی تیز رفتار فراہمی اور مکمل تربیتی و طویل مدتی معاونت کے نظام کی یقین دہانی بھی کرائی۔

بیان کے مطابق جے ایف 17 تھنڈر طیاروں کی ممکنہ خریداری پر بھی تفصیلی بات چیت کی گئی۔

22 دسمبر 2025: پاکستان اور لیبیا کے درمیان اسلحہ معاہدہ

پاکستان نے گزشتہ ماہ لیبیا کی فوج کو روایتی عسکری سازوسامان فروخت کرنے کے لیے اربوں ڈالر کا معاہدہ طے کیا، جس کے بعد پاکستان ان ممالک کی منتخب فہرست میں شامل ہوگیا جو روایتی اسلحہ اور فوجی آلات برآمد کرتے ہیں۔

مزید پڑھیں: پاک بھارت جنگ میں 7 طیارے تباہ ہوئے: ٹرمپ نے ایک بار پھر ذکر چھیڑ دیا

رائٹرز کے مطابق معاہدے کی ایک نقل، جو حتمی شکل دینے سے قبل دیکھی گئی، میں کئی جے ایف 17 جنگی طیاروں اور سپر مشاق تربیتی طیاروں کی خریداری شامل ہے۔

ایک پاکستانی عہدیدار نے بتایا کہ یہ معاہدہ بری، بحری اور فضائی سازوسامان پر مشتمل ہے، جو ڈھائی سال کے عرصے میں مکمل کیا جائے گا، اور اس میں جے ایف 17 طیارے بھی شامل ہو سکتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews برآمدات پاک بھارت جنگ دفاعی آلات دفاعی سازوسامان وی نیوز.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: برا مدات پاک بھارت جنگ دفاعی ا لات دفاعی سازوسامان وی نیوز کے بعد پاکستان جے ایف 17 تھنڈر پاک فضائیہ فضائیہ کے طیاروں کی کے دوران کے مطابق بھارت کے بات چیت

پڑھیں:

آئی ٹی برآمدات میں اضافہ حکومتی اقدامات اور پالیسیوں کا ثمر ہے، وزیراعظم شریف

تصویر سوشل میڈیا۔

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ آئی ٹی برآمدات میں نمایاں اضافہ حکومت کی ڈیجیٹل معیشت کی ترقی کے لیے اقدامات اور پالیسیوں کا ثمر ہے۔

وزیراعظم کی زیرِ صدارت آئی ٹی کے شعبے کی اسٹریٹیجک روڈ میپ پر پیش رفت کا جائزہ اجلاس ہوا۔ 

اس موقع پر وزیر اعظم نے کہا کہ ملک میں آئی ٹی کے شعبے کا فروغ اور آئی ٹی سے متعلق برآمدات میں اضافہ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔  

شہباز شریف نے ہدایت کی کہ آئی ٹی کے شعبے کے تربیتی کورسز کی معتبر تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن یقینی بنائی جائے، آئی ٹی کے شعبے میں تربیت کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ 

اعلامیہ کے مطابق انہوں نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفرااسٹرکچر مزید بہتر بنانے کی ہدایت کی۔ 

اجلاس کو دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ موبائل اسپیکٹرم کی دستیابی جون 2025 میں 274 میگا ہرٹز سے بڑھ کر جون 2026 میں 880 میگا ہرٹز ہوگئی۔  

وزیراعظم کو ’’کنیکٹ پاکستان وژن 2030‘‘ کے اجراء کی تیاریوں پر بھی بریفنگ دی گئی۔ 

اعلامیہ کے مطابق پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024 میں 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026 میں 72 فیصد ہو گیا۔ 

بریفنگ کے مطابق جون 2026 تک 5.1 ملین گھروں میں فکسڈ براڈ بینڈ /فائبر کنکشن دیے گئے۔

متعلقہ مضامین

  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • کراچی، فیڈرل بی انڈسٹریل ایریا میں پولیس مقابلہ، 2 زخمی ڈاکو گرفتار، چھینی گئی موٹر سائیکل برآمد
  • امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • سونے کی قیمت میں نمایاں کمی
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا
  • کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی
  • آئی ٹی برآمدات میں اضافہ حکومتی اقدامات اور پالیسیوں کا ثمر ہے، وزیراعظم شریف