وزن اور رنگ پر تنقید سے کوئی فرق نہیں پڑتا: روما ریاض
اشاعت کی تاریخ: 11th, January 2026 GMT
مس یونیورس پاکستان 2025 منتخب ہونے والی روما ریاض نے کہا ہے کہ انہوں نے محنت ضرور کی لیکن حقیقت یہ ہے کہ مقابلہ جیتنا قسمت میں لکھا تھا۔ 25 سالہ روما ریاض نے بتایا کہ مس یونیورس پاکستان کا مقابلہ کافی مشکل ہوتا ہے اور اس میں انٹرویو کا مرحلہ زیادہ طویل ہوتا ہے، تاکہ مس یونیورس کے انتخاب کے مقابلے میں جاکر مشکل پیش نہ آئے۔ مس یونیورس پاکستان کے مقابلے کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ پہلے 51 لڑکیاں شارٹ لسٹ ہوئی تھیں، پھر ان میں سے 20 کا انتخاب ہوا اور آخر میں چھ لڑکیاں رہ گئیں جن کے درمیان مالدیپ میں حتمی مقابلہ ہوا۔ انہوں نے بتایا کہ مس یونیورس پاکستان میں مس یونیورس کا پورا فارمیٹ ہی ہوتا ہے، ایک ہفتہ آپ کا رویہ دیکھا جاتا ہے، سوال جواب کی نشست ہوتی ہے اور یہ دیکھا جاتا ہے کہ آپ کیسی نظر آتی ہیں۔ محنت سے جیتیں یا قسمت نے ساتھ دیا؟ اس سوال پر ان کا کہنا تھا کہ میں نے محنت تو بہت کی تھی لیکن اس مقابلے میں سبھی بہت محنت کرتے ہیں، بس میرے نصیب میں کامیابی لکھی تھی۔ خیال رہے کہ مس یونیورس پاکستان کا تاج سر سجانے کے بعد انہوں نے 21 نومبر 2025 کو تھائی لینڈ میں ہونے والے مس یونیورس کے مقابلے میں حصہ لیا تھا۔ خود پر ہونے والی نکتہ چینی کے بارے میں روما ریاض کا کہنا ہے کہ انہیں اس سے فرق نہیں پڑتا، ان کا مقصد اچھا تھا، وہ مضبوط ارادوں کی مالک ہیں اور سمجھتی ہیں کہ نوجوان لڑکیوں کو سیکھنا ہوگا کہ سوشل میڈیا پر ہونے والے تبصروں سے فرق نہیں پڑتا۔ اپنی رنگت اور وزن پر ہونے والے اعتراض کے جواب میں روما ریاض نے کہا کہ وہ جیسی بھی ہیں خوش ہیں، ہر لڑکی خوبصورت ہوتی ہے، کسی کو کچھ بدلنے کی ضرورت ہی نہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: مس یونیورس پاکستان کہ مس یونیورس روما ریاض انہوں نے
پڑھیں:
ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا
سیالکوٹ(نیوز ڈیسک) ٹک ٹاکر حکیم بابر سے متعلق مبینہ زہر خوری کیس میں نامزد ملزم صفدر کے بھائی ملک سلیم کھوکھر کا ویڈیو بیان منظر عام پر آگیا جس میں انہوں نے تمام الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔
ویڈیو بیان میں ملک سلیم کھوکھر نے دعویٰ کیا کہ محمد افضل عرف حکیم بابر نے سوشل میڈیا پر ویوز حاصل کرنے کیلئے خود کو زہر خورانی کا شکار ظاہر کرنے کا ڈرامہ رچایا، اسپتال کی رپورٹ میں بھی یہ بات سامنے آئی ہے کہ حکیم بابر کو کسی قسم کا زہر نہیں دیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ حکیم بابر نشے کے عادی ہیں اور کسی مبینہ اوور ڈوز کے واقعے کو ان کے خاندان پر ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے، ان کے خاندان کا حکیم بابر کے ساتھ کسی قسم کا کوئی ذاتی تنازع یا دشمنی موجود نہیں۔
ملک سلیم کھوکھر انکشاف کیا کہ حکیم بابر کا اصل نام افضل ہے اور وہ کوئی مستند حکیم نہیں بلکہ تعلیمی طور پر بھی میٹرک پاس نہیں ہیں، جھوٹے مقدمے کی وجہ سے میرا خاندان شدید ذہنی دباؤ اور پریشانی کا شکار ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ رات کے وقت پولیس کی جانب سے دو بار گھر پر چھاپے مارے گئے، کو ہراساں مت کیا جائے۔
انہوں نے ڈی پی او سیالکوٹ اور آئی جی پنجاب سے اپیل کی کہ کیس کی شفاف اور میرٹ پر انکوائری کی جائے اور حقائق کی روشنی میں فیصلہ کیا جائے۔
مزید پڑھیں۔مشرق وسطیٰ کی صورتحال، خام تیل کی قیمتوں میں 2 فیصد اضافہ