پاکستانی معالجین میں دل کے امراض اور خودکشی کی شرح عام افراد سے دگنی ہونے کا انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 11th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی: قومی طبی فورم میں ماہرین نے انکشاف کیا ہے کہ پاکستان کے ساٹھ فیصد سے زائد ڈاکٹر اور سرجن مستقل جسمانی و ذہنی تھکن کا شکار ہیں، جبکہ معالجین میں دل کے دورے، ذیابیطس، ڈپریشن اور خودکشی کی شرح عام آبادی کے مقابلے میں تقریباً دو گنا زیادہ ہو چکی ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا کہ اگر فوری طور پر ذہنی صحت کی سہولتوں، بہتر اوقاتِ کار اور ادارہ جاتی اصلاحات نہ کی گئیں تو پاکستان اپنے معالجین کو قبل از وقت کھو سکتا ہے، جس کے اثرات مریضوں اور قومی نظامِ صحت دونوں پر پڑیں گے۔
کراچی کے پرل کانٹینینٹل ہوٹل میں ہڈسن فارما کے علمی پلیٹ فارم ’’میڈی ورس‘‘ کے تحت منعقدہ ’’لائف اِن اے میٹرو‘‘ سیمپوزیم میں ماہرینِ قلب اور ماہرینِ نفسیات نے بتایا کہ بڑے شہروں خصوصاً کراچی میں طویل ڈیوٹیاں، مستقل ذہنی دباؤ، فضائی آلودگی، ٹریفک اور مریضوں کا غیر معمولی دباؤ ڈاکٹروں کو دل کے امراض، شوگر، موٹاپے، ڈپریشن اور اینزائٹی کی طرف دھکیل رہا ہے۔
کلیدی خطاب میں ماہرِ امراضِ قلب ڈاکٹر محمد ریحان عمر صدیقی نے کہا کہ معالجین صحت کے نظام کے سب سے زیادہ نظر انداز کیے جانے والے مریض بن چکے ہیں۔ ان کے مطابق ساٹھ فیصد سے زیادہ ڈاکٹر شدید جسمانی اور ذہنی تھکن کا شکار ہیں اور اسی فیصد سے زائد مستقل تھکاوٹ اور غیر صحت مند طرزِ زندگی میں مبتلا ہو چکے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ خود تشخیص، خود دوا لینا اور بیماری کے باوجود ڈیوٹی جاری رکھنے کی روایت ڈاکٹروں کو کم عمری میں دل کے دورے، ذیابیطس، ڈپریشن اور خودکشی کی طرف لے جا رہی ہے۔
ماہرِ نفسیات ڈاکٹر کلثوم حیدر نے کہا کہ ذہنی دباؤ اور دبے ہوئے جذبات براہِ راست دل اور اعصابی نظام کو متاثر کرتے ہیں۔ خوف، غم اور مستقل تناؤ ’’بروکن ہارٹ سنڈروم‘‘ جیسی کیفیات پیدا کر سکتے ہیں، جبکہ غیر حل شدہ جذبات سینے کی جکڑن، مستقل تھکن اور معدے کے مسائل کی صورت میں ظاہر ہوتے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ سانس کی مشقیں، ذہنی توجہ، شکر گزاری اور جسمانی احساسات پر دھیان نہ صرف ذہنی سکون بلکہ دل کی صحت کے لیے بھی انتہائی اہم ہیں۔
پینل ڈسکشن میں ڈاکٹر تنویر اور ڈاکٹر افضل لودھی نے طبی شعبے میں پائی جانے والی ’’انکار کی ثقافت‘‘ پر بات کی۔ ڈاکٹر تنویر کے مطابق زیادہ تر معالج یہ سمجھتے ہیں کہ انہیں کچھ نہیں ہو سکتا، حالانکہ یہی سوچ سب سے زیادہ نقصان دہ ثابت ہو رہی ہے۔ انہوں نے بچوں کو صحت مند سرگرمیوں اور جسمانی ورزش کی طرف راغب کرنے پر زور دیا۔
اختتامی کلمات میں ہڈسن فارما کی نائب صدر کمرشل آپریشنز ثمرین ہاشمی قدوائی نے کہا کہ ڈاکٹر کسی بھی دوا یا برانڈ سے زیادہ قیمتی ہیں اور میڈی ورس کا مقصد صرف علمی گفتگو نہیں بلکہ معالجین کو یہ احساس دلانا بھی ہے کہ ان کی اپنی صحت ہی پورے نظامِ صحت کی بنیاد ہے۔
ماہرین نے واضح کیا کہ اگر شدید جسمانی اور ذہنی تھکن، ذہنی دباؤ اور خود کو نظر انداز کرنے کے رویے کو فوری طور پر قابو میں نہ لایا گیا تو پاکستان اپنے معالجین کو قبل از وقت کھوتا رہے گا، جس کے اثرات مریضوں اور قومی نظامِ صحت دونوں پر پڑیں گے۔ (اختتام)
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سے زیادہ
پڑھیں:
امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز
امریکی سفارت خانے نے امریکا کی آزادی کے 250 سال مکمل ہونے کی تقریبات کے سلسلے میں جمعرات کو اسلام آباد میں ’لیٹ فریڈم رنگ‘ کے عنوان سے ’لبرٹی بیل‘ نمائش کا افتتاح کر دیا۔
نمائش میں ملک بھر سے تعلق رکھنے والے 16 پاکستانی فنکاروں کے تیار کردہ منفرد فن پارے پیش کیے گئے ہیں، جن میں ہر فنکار نے اپنے انداز میں ‘آزادی’ کے تصور کو اجاگر کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:گورنر خیبرپختونخوا سے امریکی ناظم الامور کی ملاقات، سرمایہ کاری اور ترقیاتی تعاون بڑھانے پر اتفاق
نمائش کا افتتاح لوک ورثہ میوزیم میں منعقدہ تقریب میں امریکی ناظم الامور اینڈی ہیلس اور وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت اورنگزیب خان کچھی نے مشترکہ طور پر کیا۔
پاکستانی فنکاروں نے ‘آزادی’ کی نئی تعبیر پیش کیامریکی سفارت خانے کے مطابق یہ منصوبہ پاکستان میں امریکی مشن کے پبلک ڈپلومیسی سیکشن نے اپنے ‘لنکن کارنرز’ نیٹ ورک کے ذریعے ترتیب دیا، جس میں ملک کے مختلف حصوں سے تعلق رکھنے والے 16 فنکاروں کو شریک کیا گیا۔
Federal Minister for NH&C Aurangzeb Khan Khichi and U.S. Chargé d’Affaires Andy Halus on Thursday jointly inaugurated the “Let Freedom Ring” American Liberty Bell display at Lok Virsa Heritage Museum, celebrating the enduring cultural partnership between Pakistan & United States pic.twitter.com/3uqKCelXK9
— National Heritage and Culture Division (@DivisionCulture) July 23, 2026
ہر فنکار سے ایک ہی سوال پوچھا گیا کہ ’میرے لیے آزادی کیا معنی رکھتی ہے؟ ’اس سوال کے جواب میں فنکاروں نے ’لبرٹی بیل‘ کے منفرد ڈیزائن تخلیق کیے، جو پاکستانی نقطۂ نظر سے آزادی کے تصور کی عکاسی کرتے ہیں۔
نمائش 5 روز تک جاری رہے گی‘لیٹ فریڈم رنگ’ نمائش 23 سے 27 جولائی تک اسلام آباد کے 2 نمایاں ثقافتی مراکز، لوک ورثہ میوزیم اور پاکستان مونومنٹ میوزیم میں جاری رہے گی۔
امریکی سفارت خانے نے شہریوں کو دعوت دی ہے کہ وہ اس 5 روزہ نمائش کے دوران دونوں مقامات کا دورہ کریں اور فن پاروں کا مشاہدہ کریں۔
امریکا اور پاکستان کے مشترکہ اقدار پر زورتقریب سے خطاب کرتے ہوئے امریکی ناظم الامور اینڈی ہیلس نے کہا کہ ‘لبرٹی بیل’ آزادی، اظہارِ رائے اور بہتر مستقبل کی امید کی علامت ہے۔
أعلنت السفارة الأمريكية في إسلام آباد عن افتتاح معرض ليت فريدوم رينغ في متحف لوك ورثه ومتحف النصب التذكاري الباكستاني، وذلك ضمن الاحتفالات العالمية بمرور ٢٥٠ عامًا على إعلان الاستقلال الأمريكي.
شارك في الافتتاح القائم بالأعمال الأمريكي آندي هيلز ووزير التراث الوطني والثقافة… pic.twitter.com/EcPOSXchyu
— WE News | بالعربية (@WENewsArabic) July 23, 2026
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور امریکا دونوں معاشروں میں فن، تخلیقی اظہار اور بہتر دنیا کے تصور کو اہمیت دی جاتی ہے۔
لوک ورثہ کئی دہائیوں سے پاکستان کی ثقافتی شناخت کو محفوظ رکھنے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج اس تاریخی مقام پر امریکا کی آزادی کی داستان کو بھی پیش کرنا باعثِ فخر ہے۔
ثقافتی تبادلوں سے تعلقات مضبوط بنانے پر زوروفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت اورنگزیب خان کچھی نے اس اقدام کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور امریکا کے درمیان ثقافتی تبادلے دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید مستحکم بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
مزید پڑھیں:نائب وزیراعظم اسحاق ڈار سے قائم مقام امریکی ناظم الامور کی ملاقات، خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال
انہوں نے اس نمائش کو دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ تعلقات اور باہمی تعاون کی ایک مثبت مثال قرار دیا۔
امریکا 2026 میں اپنے اعلانِ آزادی کی 250 ویں سالگرہ منا رہا ہے۔ اسی مناسبت سے دنیا بھر میں امریکی سفارت خانے اور سفارتی مشنز کے زیرِ اہتمام ‘فریڈم 250’ کے عنوان سے مختلف تقریبات، نمائشوں اور ثقافتی پروگراموں کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔
اسلام آباد میں منعقد کی جانے والی ‘لیٹ فریڈم رنگ’ مہم بھی اسی عالمی پروگرام کا حصہ ہے، جس کا مقصد آزادی، اختراع، تخلیقی اظہار اور ثقافتی روابط کو فروغ دینا ہے۔
اس نمائش کے ذریعے پاکستانی فنکاروں کو اپنے فن کے ذریعے آزادی کے تصور کو پیش کرنے کا موقع فراہم کیا گیا، جسے پاکستان اور امریکا کے درمیان ثقافتی تعاون کی ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آزادی افتتاح لوک ورثہ میوزیم امریکا امریکی سفارتخانہ امریکی ناظم الامور اینڈی ہیلس پاکستان ثقافتی تبادلہ فنکاروں لبرٹی بیل لیٹ فریڈم رنگ مونومنٹ میوزم