تعلیمی سہولیات کا فقدان ،جماعت اسلامی کی ریلی
اشاعت کی تاریخ: 11th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کندھکوٹ(نمائندہ جسارت) کندھکوٹ جماعت اسلامی اور استاذہ تنظیم کی جانب سے تعلیم کے حوالے سے حقوق تعلیم ریلی نکالی گئی جس میں سیاسی و سماجی رہنمائوں، شہریوں، والدین اور طلباء وطالبات کی بڑی تعداد نے شرکت کی ریلی ٹاور چوک سے پریس کلب تک نکالی گئی اس موقع پر جماعت اسلامی کے صوبائی جنرل سیکریٹری محمد یوسف، حافظ نصر اللّٰہ چنہ، غلام مصطفیٰ میرانی، مولوی رفیع الدین چنہ، عبید اللّٰہ میرالی، شبیر احمد میرانی، ڈاکٹر میھر چند، ظریت ساگر بجارانی، محسن خان پٹھان، عبدالعزیز سومرو، ڈاکٹر عدنان سومرو، شاھنواز مرھیٹو، ڈاکٹر سریش آنند بھوجوانی، گھنشام داس گیھانی، غلام رسول ملک ودیگر نے میڈیا سے بات و خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ضلع کشمور کندھ کوٹ تعلیم کے حوالے سے ملک کا پسماندہ ترین ضلع ہے جہاں پر اسکولوں میں تعلیمی سہولیات اور سہولیات کا فقدان ہے کندھ کوٹ شہر سمیت مختلف شہروں میں قائم اسکولوں میں فرنیچر، کلاس روم، بیت الخلاء ، پنکھوں سمیت صفائی ستھرائی کا بڑا بحران ہے جس کی وجہ سے اسکول آنے والے بچوں کو شدید پریشانی میں سے گذرنا پڑ رہا ہے دیھاتوں میں قائم اسکول جہاں نہیں طالبعلم ہیں اور نہ ہی اساتذہ مقرر ہیں جو وڈیروں کی بیٹھکیں بنی ہوئی ہیں جس کی وجہ سے دیھاتوں میں رہنے والے مستقبل کے معمار علم کی روشنی سے محروم ہو رہے ہیں جو آگے چل کر قبائلی تنازعات اور فرسودہ رسم و رواج میں جکڑ جا رہے ہیں اس لیے ہمارا مطالبہ صرف یہ ہے کہ تعلیم چاہیے اسکولوں کو تالے نہیں چاہییں سندھ حکومت، وزیر تعلیم سندھ اور ضلعی انتظامیہ کو چاہیے کہ وہ اسکولوں کی سہولیات اور تعلیمی سہولیات کی فراہمی کے لیے فوری اقدامات کریں تاکہ اس پسماندہ علاقے کے مکین تعلیمی میدان میں ترقی کر سکیں اپنے علاقے اور ملک کا نام روشن کر سکیں علم کی روشنی حاصل کر سکیں ۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
پاکستان، سعودی عرب، مصر، ترکیہ، انڈونیشیا، اردن، قطر اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی مسلسل دراندازی، اسرائیلی فورسز کی سرپرستی میں ہونے والی کارروائیوں اور مسجد کے احاطے میں اسرائیلی پرچم لہرانے کی شدید مذمت کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: فلسطینی قیدیوں کو سزائے موت سے متعلق اسرائیلی قانون سازی، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مذمتی بیان جاری
8 عرب و اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے مشترکہ بیان میں کہا کہ انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی یہ اشتعال انگیز اور ناقابل قبول کارروائیاں بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور مقبوضہ مشرقی یروشلم میں مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔
بیان میں اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ مشرقی یروشلم کی تاریخی، قانونی اور آبادیاتی حیثیت تبدیل کرنے اور اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کے تشخص کو نقصان پہنچانے کے لیے جاری منظم اقدامات اور خلاف ورزیوں کی بھی سخت مذمت کی گئی۔
وزرائے خارجہ نے یروشلم اور اس کے اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش کو مسترد کرتے ہوئے اس کے تحفظ پر زور دیا جبکہ اس حوالے سے ہاشمی سرپرستی کے خصوصی کردار کو بھی تسلیم کیا۔
مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ/الحرم الشریف کا پورا 144 دونم (تقریباً 35.6 ایکڑ) پر مشتمل رقبہ صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے اور اردن کی وزارت اوقاف و اسلامی امور سے وابستہ یروشلم اوقاف و مسجد اقصیٰ امور ڈائریکٹوریٹ ہی اس مقدس مقام کے انتظام و انصرام اور داخلے کے امور کا واحد مجاز ادارہ ہے۔
مزید پڑھیے: پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مشترکہ بیان، غزہ میں امن کے لیے ٹرمپ کی کوششوں کا خیرمقدم
وزرائے خارجہ نے اسرائیلی حکام کو ان اشتعال انگیز اقدامات کے فوری خاتمے کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ بار بار کی جانے والی ایسی خلاف ورزیاں خطے میں کشیدگی، عدم استحکام اور انتہا پسندی کو فروغ دیتی ہیں امن کی بین الاقوامی کوششوں کو نقصان پہنچاتی ہیں اور بین الاقوامی قانون کے تحت اسرائیل کی ذمہ داریوں کی صریح خلاف ورزی ہیں۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ اسرائیل فوری طور پر ایسی تمام غیر قانونی اور اشتعال انگیز کارروائیاں بند کرے اور مسجد اقصیٰ کی تاریخی و قانونی حیثیت کا مکمل احترام یقینی بنائے۔
????PR No.1️⃣4️⃣0️⃣/2️⃣0️⃣2️⃣6️⃣
Joint Statement by Foreign Ministers of the Group of Eight Arab-Islamic States
????⬇️ pic.twitter.com/qZTmgSZM0n
— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) June 2, 2026
آٹھوں ممالک نے فلسطینی عوام کے ساتھ اپنی غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے ان کے جائز اور ناقابل تنسیخ قومی حقوق، بالخصوص حقِ خودارادیت اور 1967 کی سرحدوں پر مشتمل ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کا اعادہ کیا، جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو۔
مزید پڑھیں: غزہ جنگ بندی کی خلاف ورزیاں، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک اسرائیلی جارحیت پر بول پڑے
بیان میں اسرائیلی قبضے کے خاتمے اور 2 ریاستی حل کی بنیاد پر منصفانہ، دیرپا اور جامع امن کے قیام کے لیے جاری تمام سفارتی کوششوں کی بھی مکمل حمایت کا اظہار کیا گیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
8 اسلامی ممالک اسرائیل کی جارحیت مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی