پی آئی اے کی نجکاری کے بعد ریٹائرڈ ملازمین کے حوالے سے بڑا فیصلہ سامنے آگیا
اشاعت کی تاریخ: 10th, January 2026 GMT
پی آئی اے کی نجکاری کے بعد ریٹائرڈ ملازمین کے لیے میڈیکل سہولیات جاری رکھنے کا بڑا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ اب پی آئی اے کے سابق ملازمین کو میڈیکل سہولیات اسٹیٹ لائف انشورنس کمپنی کے ذریعے فراہم کی جائیں گی۔
یہ بھی پڑھیں: پی آئی اے کے بعد اب کن اداروں کی نجکاری ہوگی؟ وفاقی وزیر مملکت نے بتا دیا
اسٹیٹ لائف انشورنس نے ریٹائرڈ ملازمین کے لیے تحریری احکامات جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ملک بھر میں اپنے پینل اسپتالوں میں پی آئی اے کے سابق ملازمین کو میڈیکل سہولیات فراہم کریں گے۔ اس میں لیبارٹری سہولیات بھی شامل ہوں گی۔
اس کے علاوہ تمام پینل اسپتالوں اور لیبارٹریز کو تحریری ہدایات بھی جاری کر دی گئی ہیں تاکہ وہ سابق ملازمین کو خدمات فراہم کرنے کے لیے مکمل تعاون کریں۔
یہ بھی پڑھیں: خسارے کی شکار پی آئی اے کے ملازمین کے لیے اچھی خبر
تحریری احکامات میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ متعلقہ ڈسٹرکٹ میڈیکل افسران اور ہیلتھ فیسلیٹی افسران اسپتالوں کی انتظامیہ کے ساتھ رابطہ کر کے اس سہولت کے بروقت اور مؤثر نفاذ کو یقینی بنائیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news پاکستان پی آئی اے لائف انشورنس ملازمین میڈیکل چیک اپ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پاکستان پی ا ئی اے لائف انشورنس ملازمین میڈیکل چیک اپ ملازمین کے پی ا ئی اے ئی اے کے کے لیے
پڑھیں:
توشہ خانہ ریکارڈ، وزیراعظم اور اسحاق ڈار کے تحائف کی تفصیلات سامنے آگئیں
اسلام آباد(رضوان عباسی ): توشہ خانہ ریکارڈ میں وزیراعظم شہباز شریف اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو اپریل سے جون 2026 کے دوران مختلف غیر ملکی شخصیات اور وفود کی جانب سے ملنے والے سرکاری تحائف کی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔
کابینہ ڈویژن کی دستاویزات کے مطابق اس عرصے میں موصول ہونے والے تمام سرکاری تحائف توشہ خانہ قواعد کے تحت کابینہ ڈویژن میں جمع کرا دیے گئے ہیں، جبکہ ان کی مالیت کے تعین (ویلیوایشن) کا عمل تاحال جاری ہے۔
دستاویزات کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کو مختلف ممالک کے سربراہان، اعلیٰ حکام اور سرکاری وفود کی جانب سے متعدد یادگاری تحائف پیش کیے گئے۔ ان میں شوگر باؤل، گاڑی کا فریم شدہ ماڈل، شیلڈز، قیمتی قلم، کف لنکس، ٹائی، کافی کپ اور واٹر گلاس سیٹ، چائے کے کپ اور ساسرز، آرائشی واز، ایرانی فیروزہ اِنلے دستکاری پر مشتمل پانچ پیس سیٹ، روایتی چینی اسکرول پینٹنگ، چائنا اسپیس اسٹیشن کا ماڈل اور دیگر سووینئرز شامل ہیں۔
اسی طرح نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو بھی مختلف ممالک کی جانب سے متعدد سرکاری تحائف دیے گئے، جن میں مصری طرز کا مجسمہ، مسجد نبوی ﷺ کا ماڈل، کف لنکس اور دیگر یادگاری اشیا شامل ہیں۔
دستاویزات میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ڈپٹی چیف آف پروٹوکول محمد ارسلان میر کو ایک قیمتی ڈائمنڈ کلیکشن رسٹ واچ بطور سرکاری تحفہ موصول ہوئی، جس کی مالیت کا تعین بھی جاری ہے۔
کابینہ ڈویژن کے مطابق توشہ خانہ ریکارڈ میں شامل تمام تحائف متعلقہ قوانین اور قواعد کے مطابق وصول کیے گئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ویلیوایشن مکمل ہونے کے بعد توشہ خانہ رولز کے مطابق آئندہ کارروائی کی جائے گی۔
سرکاری ذرائع کے مطابق تحائف کی مالیت کا تعین مکمل ہونے کے بعد قواعد کے مطابق یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ متعلقہ حکام ان تحائف کو اپنے پاس رکھ سکتے ہیں یا انہیں سرکاری تحویل میں برقرار رکھا جائے گا۔