نیشنل بینک میں متوفی ملازمین کے بچوں کی ملازمت سے متعلق ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار
اشاعت کی تاریخ: 10th, January 2026 GMT
سپریم کورٹ نے نیشنل بینک میں متوفی ملازمین کے بچوں کی ملازمت سے متعلق کیس میں ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔
سپریم کورٹ نے نیشنل بینک کے صدر کو تین ماہ میں درخواستوں پر فیصلہ کر کے آگاہ کرنے کی ہدایت کر دی۔
سپریم کورٹ نے 2019 اور 2022 میں دی گئی درخواستوں کو اُس وقت کی نافذ پالیسی کے تحت دیکھنے کا حکم دے دیا۔
سپریم کورٹ نے کہا کہ متوفی ملازمین کے بچوں کی درخواستیں برسوں تک زیرِ التوا رہیں، کوئی فیصلہ یا ردِعمل سامنے نہیں آیا، جنرل پوسٹ آفس کیس کا فیصلہ سابقہ پالیسیوں پر ماضی سے لاگو نہیں ہو سکتا، سپریم کورٹ کے فیصلے اصولاً مستقبل پر لاگو ہوتے ہیں، جب تک عدالت خود نہ ماضی کا ذکر کرے۔
سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ 2011 کی پالیسی موجودہ درخواستوں کے وقت نافذ تھی، اسی کے مطابق درخواستوں پر فیصلہ ہونا چاہیے، متوفی ملازمین کے بچوں کو ملازمت سے متعلق پالیسی پر عمل نہ کرنا منصفانہ انتظامیہ کے اصولوں کے خلاف ہے۔
سندھ ہائی کورٹ نے متوفی ملازمین کے بچوں کی ملازمت سے متعلق آئینی درخواست جنرل پوسٹ آفس کیس کی روشنی میں مسترد کر دی تھی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ملازمت سے متعلق سپریم کورٹ نے
پڑھیں:
اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ، مرکزی بینک کے ذخائر 17.25 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں گزشتہ ہفتے کے دوران اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے بعد مرکزی بینک کے پاس موجود غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 17 ارب 25 کروڑ 86 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئے ہیں۔ ماہرین نے اس پیش رفت کو ملکی مالیاتی استحکام اور بیرونی ادائیگیوں کی صلاحیت کے لیے مثبت اشارہ قرار دیا ہے۔
اسٹیٹ بینک کے ترجمان کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق 18 جولائی کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران مرکزی بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا اضافہ ہوا۔ ترجمان کے مطابق یہ اضافہ بیرونی ادائیگیوں کے مؤثر انتظام اور مالیاتی استحکام کے تناظر میں اہم پیش رفت ہے۔
اگرچہ اسٹیٹ بینک کے ذخائر میں اضافہ ہوا، تاہم ملک کے مجموعی زرمبادلہ ذخائر معمولی کمی کے بعد 22 ارب 66 کروڑ 96 لاکھ ڈالر کی سطح پر آ گئے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق کمرشل بینکوں کے پاس موجود غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 5 ارب 41 کروڑ 10 لاکھ ڈالر ریکارڈ کیے گئے، جس کے باعث مجموعی ذخائر میں معمولی کمی دیکھنے میں آئی۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اسٹیٹ بینک کے ذخائر میں مسلسل اضافہ اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان کی بیرونی ادائیگیوں کی صلاحیت بہتر ہو رہی ہے، جبکہ درآمدی بل کی ادائیگی اور روپے کے استحکام کے لیے بھی یہ مثبت پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔
تاہم ماہرین نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ مجموعی زرمبادلہ ذخائر میں کمی ظاہر کرتی ہے کہ کمرشل بینکوں کے ذخائر میں اتار چڑھاؤ کا سلسلہ برقرار ہے، جس پر مسلسل نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔
اقتصادی ماہرین کے مطابق اگر آنے والے ہفتوں میں ترسیلاتِ زر، بیرونی سرمایہ کاری، برآمدات اور بین الاقوامی مالی معاونت کا سلسلہ برقرار رہا تو پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں مزید بہتری آنے کا امکان ہے، جس سے ملکی معیشت اور مالیاتی استحکام کو مزید تقویت مل سکتی ہے۔