ملک بھر میں جعلی کال سینٹرز کے گرد گھیرا مزید تنگ کرنے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 12th, January 2026 GMT
سینیٹر پلوشہ خان کی زیر صدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی آئی ٹی کا اجلاس ہوا جس میں غیر قانونی کال سینٹرز کی جانب سے وصول کردہ ماہانہ 1.5 کروڑ روپے کی خوردبرد کا معاملہ زیر غور آیا۔
ایف آئی اے حکام کے مطابق یہ اینٹی کرپشن ونگ کا کیس ہے۔ اس کیس میں تیرہ ملزمان کے خلاف ایف ائی آر ہیں۔ انھوں نے خوردبرد کی۔ یہ غیر قانونی کال سینٹرز کا معاملہ ہے۔
ایف آئی اے نے بتایا کہ کال سینٹرز پر تین سو ملین کی خوردبرد کا الزام ہے۔ ابھی تک کیس میں پندرہ لاکھ روپے کی ایک سب انسپیکٹر سے وصولی کی گئی ہے۔ تین افراد کا علم نہیں کہاں ہیں۔ پانچ لوگ ضمانت پر ہیں۔ تین لوگ ہمارے پاس ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ ایف آئی آر میں تحقیق آگے بڑھے تو دوسرے محکموں کے لوگ بھی آ سکتے ہیں۔ کال سینٹرز کافی عرصے سے پاکستان میں کام کر رہے ہیں۔ اس سال 271 ایف ائی اے افسران کو penalize کیا گیا۔ یہ ایف ائی اے کیسز کا 5.
سینیٹر پرویز رشید کا کہنا تھا کہ کال سینٹرز کا معاملہ سالہ سال سے ہے۔ وزیر رحمان ملک نے بتایا تھا کہ گاڑی کی ڈگی میں سامان رکھ کر کال سینٹرز چل رہے ہیں ، ان میں سرکاری افسران شامل ہیں جن کی گاڑی میں کال سینٹرز بنے ہوئے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ آپ ان مجرموں کو کارروائی سے پہلے کیسے پکڑ سکتے ہیں۔ یہ بتائیں کہ یہ کال سینٹرز امریکا برطانیہ میں ہیں؟ دنیا اپنے ملکوں میں ان کال سینٹرز کو ختم کر سکتی ہے تو ہم کیوں نہیں۔ ہمارے کال سینٹرز سے ساری دنیا کو شکایت ہے۔
ایف ائی اے حکام کا کہنا تھا کہ این سی سی ائی اب ایک علیحدہ بن چکا ہے جو پہلے ایف آئی اے کا حصہ تھا۔ اس کیس کو ہم وفاق کی اینٹی کرپشن ایجنسی کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔
دوسری جانب وزارت آئی ٹی سیکریٹری کا کہنا تھا کہ کال سینٹرز غیر قانونی نہیں ، انکی رجسٹریشن ہوتی ہے۔ جو کال سینٹرز ایسی سرگرمیوں میں ملوث ہوتے ہیں وہ غیر قانونی ہوتے ہیں۔ تین ہزار رجسٹرڈ کال سینیٹرز ہیں۔
این سی سی آئی اے نے مزید بتایا کہ گزشتہ سال ایک لاکھ پچاس ہزار شکایات ہمیں سائبر سے متعلق موصول ہوئیں۔ کراچی میں ایک بہت بڑے ریڈ میں کال سینٹرز پکڑے گئے ہیں۔ گرفتار کرنے کا عمل جاری ہے۔
ایڈیشنل سیکریٹری داخلہ کا کہنا تھا کہ ایف آئی اے نے بہت اچھا کام کیا تھا اور ریڈ کئے۔ اس میں ٹیکنالوجی بہت اہم ہے کیونکہ وہ بہت جلدی تبدیل ہوتی ہے۔ جب ٹیکنالوجی تبدیل ہوتی ہے تو ایجنسی ایک اسٹیپ پیچھے ہوتی ہے۔ سائبر کرائم کی شکل بدل گئی ہے ، اب صرف کال سینٹر نہیں رہا بلکہ سوشل میڈیا بھی آگیا ہے۔
این سی سی آئی اے کو سائبر کرائمز کے لئے بنایا گیا ہے۔ ہمیں وقت دیا جائے تحقیقات چل رہی ہیں، اس کے مکمل ہونے کے لئے کچھ مزید مہلت دی جائے۔
ذیلی ادارے پاک ڈیٹا کام کے سی ای او بریگیڈیئر ریٹائرڈ ذوالفقار کی کمیٹی میں شکایت
وزارت آئی ٹی کے ذیلی ادارے پاک ڈیٹا کام کے سی ای او بریگیڈیئر ریٹائرڈ ذوالفقار نے کمیٹی میں شکایت درج کرائی کہ بطور سی ای او میرے خلاف بورڈ اور وزارت آئی ٹی نے زیادتی کی ہے۔ مجھے کمیٹی انصاف فراہم کرے۔
بریگیڈیئر ریٹائرڈ ذوالفقار نے کہا کہ پاکستان میں 16 آئی ٹی کمپنیاں ہیں جو اس وقت لسٹڈ ہیں میں پاک ڈیٹا کام کو محنت سے دوسرے نمبر پر لایا۔ میرے ساتھ اس وقت زیادتی ہوئی ہے، میں نے کچھ شرپسند عناصر کو کمپنی سے نکالا تھا۔
پی ٹی سی ایل بورڈ ممبرز کی تنخواہ اور مرعات کا معاملہ
لاء ایڈوائزر پی ٹی سی ایل زاہدہ اعوان کا اجلاس میں کہنا تھا کہ پی ٹی سی ایل بورڈ ممبر کے perks نہیں۔ پی ٹی سی ایل میں حکومت کے چار بورڈ ممبرز ہوتے ہیں، تین سیکریٹری ہیں اور ایک وزیر اکنامک افئیر پی ٹی سی ایل کے بورڈ ممبر ہیں جس پر سعدیہ عباسی کا کہنا تھا کہ وفاقی وزیر کون ہیں؟ پی ٹی ایس ایل نے جواب دیا کہ احد چیمہ ہیں۔
سعدیہ عباسی کا کہنا تھا کہ ہمیں وفاقی وزیر قانون نے کہا تھا کہ وزیر اعظم نے اس کا سختی سے نوٹس لیا ہے کہ یہ پیسے بند کر دیے جائیں۔
چئیرمین پی ٹی اے میجرجنرل ر حفیظ الرحمان کا اظہار خیال
چئیرمین پی ٹی اے کا کہنا تھا کہ ڈسٹرکٹ لیول پر انٹرنیٹ فراہم کرنے کیلئے ہم لائسنس دینے جارہے ہیں۔ جب لوگ ڈیجیٹلی کمیونیکیٹ کرتے ہیں تو حکومت کے اخراجات کم ہوتے ہیں۔ تو جس چیز سے حکومت کے اخراجات کم ہوتے ہیں وہ تو فری ہونی چاہئے۔
انہوں نے کہا کہ سالہا سال سے یوایس ایف فنڈ اربوں میں جمع ہوا۔ وہ فنڈ استعمال نہیں ہوسکا۔بینکوں میں پیسے رکھ کر بھی کچھ لوگوں نے پیسے کمالیئے ہوں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کا کہنا تھا کہ پی ٹی سی ایل کال سینٹرز کا معاملہ ایف آئی ا ایف ائی ا بتایا کہ ہوتے ہیں نے بتایا ہوتی ہے آئی ٹی آئی اے
پڑھیں:
مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
مظفرآباد: مہاجرین کی نشستیں آزاد جموں و کشمیر کی سیاست میں ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہیں، جہاں ان نشستوں کے مستقبل سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے اس معاملے پر نرم رویہ اختیار کرتے ہوئے مکمل خاتمے کے بجائے نشستوں کی تعداد میں کمی کی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کی چھ نشستیں کم کرنے کی ابتدائی تجویز زیر غور ہے۔ اس پیش رفت کو انتخابی اصلاحات کے حوالے سے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس سے طویل عرصے سے جاری سیاسی بحث کو کسی نتیجے تک پہنچانے میں مدد مل سکتی ہے۔
اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت جلد آزاد کشمیر کی قیادت کو اپنے مؤقف سے آگاہ کرے گی۔ اس سلسلے میں وزیراعظم آزاد کشمیر کی جانب سے جوائنٹ پبلک ایکشن کمیٹی سے رابطے کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے تاکہ مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں کو اعتماد میں لیا جا سکے۔
دوسری جانب آزاد کشمیر میں انتخابی اصلاحات کے موضوع پر کل ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مہاجرین کی نشستیں کم کرنے کی تجویز پر اتفاق رائے پیدا ہونے سے انتخابی نظام میں اصلاحات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس معاملے پر مختلف سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مشاورت جاری ہے، جبکہ وفاقی حکومت بھی ایسا حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو تمام فریقوں کے لیے قابل قبول ہو۔
سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر اس معاملے پر اتفاق رائے پیدا ہو جاتا ہے تو یہ آزاد کشمیر کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔