گیس چوری کیخلاف بڑا اقدام:ملک بھر میں 7 ہزار 390 ٹی بی ایس سسٹمز نصب کرنےکا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 12th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: حکومت نے ملک بھر میں گیس چوری اور لیکیج کی مؤثر روک تھام کے لیے ایک بڑا اقدام اٹھاتے ہوئے 7 ہزار 390 ٹی بی ایس سسٹمز کی تنصیب کا فیصلہ کر لیا ہے۔
حکام کے مطابق ٹی بی ایس (TBS) سسٹم کے ذریعے یہ نشاندہی ممکن ہو سکے گی کہ کہاں سے گیس چوری ہو رہی ہے یا کہاں گیس لیک ہو رہی ہے۔ ایک ٹی بی ایس سسٹم 10 سے 15 ہزار میٹرز کے نیٹ ورک کو مانیٹر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جس سے گیس کی نگرانی کا نظام مزید مضبوط ہو جائے گا۔
اعلامیے کے مطابق سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ (ایس این جی پی ایل) کے سسٹم پر 6 ہزار 600 ٹی بی ایس سسٹمز نصب کیے جا رہے ہیں، جبکہ سوئی سدرن گیس کمپنی (ایس ایس جی سی) کے نیٹ ورک پر 790 ٹی بی ایس سسٹمز لگائے جا چکے ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس منصوبے سے گیس چوری میں نمایاں کمی آئے گی اور صارفین کو بہتر اور منصفانہ گیس فراہمی ممکن ہو سکے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ٹی بی ایس سسٹمز گیس چوری
پڑھیں:
وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی
اسلام آباد،وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال (mustafa kamal)نے کہا ہے کہ وفاقی کابینہ نے ملک بھر میں ادویات پر ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی باضابطہ منظوری دے دی ہے۔
اس سلسلے میں ڈرگ لیبلنگ اینڈ پیکنگ رولز 1978 میں ضروری ترامیم کی بھی منظوری دے دی گئی ہے۔منگل کو جاری بیان کے مطابق وفاقی وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ فیصلہ پاکستان میں جعلی ادویات کے خاتمے کی جانب ایک بڑا اور تاریخی قدم ہے۔
پہلی بار ملک میں ہر دوا کو ڈیجیٹل طریقے سے ٹریک اور ویریفائی کیا جا سکے گا، جس سے جعلی، غیر معیاری اور نقلی ادویات کی مؤثر نشاندہی اور ان کے خاتمے میں مدد ملے گی۔
انہوں نے کہا کہ نئے نظام کے نفاذ کے بعد عام صارفین باآسانی دوا کی میعادِ استعمال، قیمت اور دیگر اہم معلومات کی مستند تصدیق کر سکیں گے، جس سے عوام کا ادویات کے نظام پر اعتماد مزید مضبوط ہوگا۔
مصطفیٰ کمال نے بتایا کہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان اس جدید نظام کو ملک بھر میں نافذ کرے گی۔ نئے قواعد کے تحت تمام دوا ساز کمپنیوں اور درآمد کنندگان کے لیے لازم ہوگا کہ وہ ہر دوا کے پیک پر معیاری ٹو ڈی بارکوڈ اور سیریلائزیشن ڈیٹا درج کریں۔
وفاقی وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ اہم اقدام پاکستان میں ادویات کی سپلائی چین کو محفوظ، شفاف اور معیاری بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔
حکومت ادویات کے شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے اور ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ سے جعلی ادویات کے خلاف ایک مضبوط اور مؤثر دیوار قائم ہوگی۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان جدید ٹیکنالوجی کے استعمال میں خطے کے نمایاں ممالک میں شامل ہوگا۔ اس نظام کے ذریعے نگرانی کے روایتی طریقوں کی جگہ جدید ڈیجیٹل نظام لے گاجس سے عوام کی صحت، زندگی اور اعتماد کا مکمل تحفظ یقینی بنایا جا سکے گا۔
مزید پڑھیں:میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
وفاقی وزیرِ صحت کے مطابق ڈریپ کی جانب سے صنعت کو سہولت فراہم کرنے کے لیے جلد تکنیکی رہنما اصول جاری کیے جائیں گے، جبکہ متعلقہ فریقین کے ساتھ مشاورتی اجلاس بھی منعقد کیے جا چکے ہیں تاکہ نظام کے مؤثر اور مرحلہ وار نفاذ کو یقینی بنایا جا سکے۔