ایران میں حالیہ مظاہروں سے متعلق ایرانی سفارتخانے کا وضاحتی اعلامیہ جاری
اشاعت کی تاریخ: 12th, January 2026 GMT
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) اسلامی جمہوریہ ایران کے سفارتخانے نے ایران میں حالیہ مظاہروں کے حوالے سے ایک تفصیلی پریس ریلیز جاری کی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ ایران کو پرامن احتجاج کے حق کا مکمل احترام ہے، تاہم تشدد، تخریب کاری اور غیر ملکی مداخلت کو ہرگز برداشت نہیں کیا جا سکتا۔
پریس ریلیز کے مطابق 28 دسمبر 2025 کو تہران بازار میں بعض تاجروں کی جانب سے غیر ملکی زرِ مبادلہ کی شرح میں اضافے کے باعث معاشی خدشات پر مبنی احتجاجی اجتماعات ہوئے، جنہیں آئین کے تحت جائز مطالبات قرار دیا گیا۔ ایران نے واضح کیا کہ پرامن مظاہرین کے حقوق کا تحفظ ریاست کی ذمہ داری ہے اور حکومت ان مطالبات کے حل کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا رہی ہے۔
آئندہ ماہ وسط ایشیائی ریاستوں قازقستان اور ازبکستان کے صدور کا الگ الگ دورہ پاکستان متوقع
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پرامن احتجاج اور تشدد پر مبنی سرگرمیوں میں واضح فرق کیا جانا چاہیے۔ ایران کے مطابق بعض پرامن مظاہروں کو غیر ملکی مداخلت کے ذریعے ایک محدود گروہ نے تشدد میں تبدیل کرنے کی کوشش کی، جس کے نتیجے میں قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملے، مولوتوف کاک ٹیلز کے استعمال اور بعض مقامات پر اسلحے کے استعمال جیسے واقعات پیش آئے۔
ایرانی حکام کے مطابق یہ اقدامات نہ صرف عوامی جان و مال کے لیے خطرہ ہیں بلکہ بین الاقوامی انسانی حقوق کے قوانین کے تحت پرامن احتجاج کے دائرہ کار سے بھی باہر ہیں۔ حکومت نے زور دیا کہ دہشت گرد گروہوں کی جانب سے اسلحے اور دستی ساختہ دھماکا خیز مواد کے استعمال سے عوامی سلامتی کو شدید خطرات لاحق ہوئے۔
وزیراعلیٰ مریم نواز کا ٹانک بم دھماکہ میں ایس ایچ او سمیت 6 پولیس اہلکاروں کی شہادت پر اظہار افسوس
پریس ریلیز میں کہا گیا کہ ایرانی قانون نافذ کرنے والے اداروں نے انتہائی ضبط اور تناسب کے اصولوں کے تحت کارروائی کی اور عوامی نظم و نسق بحال کرنے کی کوشش کی، جبکہ انسانی حقوق کے تقاضوں کو مدِنظر رکھا گیا۔
اعلامیے میں صیہونی حکومت اور بعض امریکی حکام کے بیانات پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انہیں ایران کے اندرونی معاملات میں کھلی مداخلت قرار دیا گیا۔ ایران نے الزام عائد کیا کہ ایسے بیانات تشدد اور دہشت گردی کو ہوا دینے کے مترادف ہیں اور اقوامِ متحدہ کے چارٹر کی صریح خلاف ورزی ہیں۔
ایران نے یہ بھی کہا کہ یکطرفہ امریکی پابندیوں نے ایرانی عوام کی معیشت اور روزمرہ زندگی پر منفی اثرات مرتب کیے ہیں، جن کے باعث مالی وسائل محدود، تجارت متاثر اور بنیادی اشیاء تک رسائی مشکل ہوئی، جس سے عام شہریوں پر معاشی دباؤ میں اضافہ ہوا۔
میں اپنے لیڈر سے ملنا چاہتا ہوں لیکن کسی نے نہیں سنی، جب دیوار سے لگایا جاتا ہے تو پھر احتجاج کا آپشن ہی بچتا ہے،وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی
آخر میں اسلامی جمہوریہ ایران نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ قومی خودمختاری، عوامی سلامتی اور پرامن احتجاج کے حق کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے، جبکہ غیر ملکی مداخلت اور تشدد کی ہر کوشش کو ناکام بنایا جائے گا۔
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
پڑھیں:
اسلام آباد میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری
دارالحکومت اسلام آباد میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری دے دی گئی۔
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈارکی زیر صدارت کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی و عملدرآمد کمیٹی کا اجلاس ہوا، جس میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری دی گئی۔
اعلامیہ کے مطابق دکانیں، مارکیٹیں، شاپنگ مالز اور جنرل ریٹیل رات 9 بجے تک کھلے رہ سکیں گے جبکہ ریسٹورنٹس رات 11 بجے تک کھلے رہیں گے، ٹیک اوے اور ڈلیوری سروسز مستثنیٰ ہوں گی۔
اعلامیہ کے مطابق شادی ہالز اور تقریباتی مقامات کے اوقات رات 10 بجے تک برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
اعلامیہ کے مطابق فارمیسی، اسپتال، پیٹرول پمپس، آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلق ضروری خدمات اوقات کار کی پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی۔
صوبائی حکومتوں کو وفاقی اداروں کے تعاون سے نئے اوقات کار پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔