پاکستان پیپلز پارٹی کی نائب صدر اور سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے موسمیاتی تبدیلی کی چیئرپرسن شہری رحمان کا کہنا تھا کہ دنیا بھر میں سیاست میں صنفی مساوات کے لیے 130 برس درکار ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: شیری رحمان کا سڈنی حملے میں بھارتی روابط پر اظہارِ تشویش، ایف اے ٹی ایف سے تحقیقات کا مطالبہ

برطانیہ کے ہاؤس آف لارڈز میں پیر کو منعقد ہونے والے یو کے فورم برائے ثقافتی سفارت کاری میں شیری رحمان نے خواتین کی سیاست میں شمولیت پر ایک مؤثر خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سیاسی نمائندگی کے حوالے سے حقائق مایوس کن ہیں۔

عالمی اعداد و شمار کی بنیاد پر ان کا کہنا تھا کہ دنیا بھر میں خواتین پارلیمانی نشستوں کا صرف 27.

2 فیصد رکھتی ہیں اور صرف 29 ممالک میں خواتین بطور سربراہ ریاست یا حکومت خدمات انجام دے رہی ہیں۔

شیری رحمان کا کہنا تھا کہ موجودہ رفتار کے مطابق سیاسی قیادت میں صنفی مساوات حاصل ہونے میں 130 سال سے زائد وقت لگے گا۔

انہوں نے عالمی سیاسی نظاموں پر زور دیا کہ وہ صرف جشن منانے سے آگے بڑھیں اور حقیقی ساختی تبدیلی لائیں۔

شیری رحمان کا کہنا تھا کہ سیاست میں خواتین 3 اہم کردار ادا کرتی ہیں جن میں موجودہ صورتحال کا جائزہ لینا، یہ سمجھنا کہ خواتین سیاست سے کیا توقع رکھتی ہیں اور معاشروں کو بدل سکنے والے اجتماعی ایجنڈے کی تشکیل شامل ہیں۔

کوویڈ 19 کی عالمی وبا کے دوران خواتین سربراہان مملکت کی شاندار کارکردگی

شیری رحمان نے کہا کہ جب خواتین قیادت کرتی ہیں وہ مختلف سوالات اٹھاتی ہیں، نئی ترجیحات مقرر کرتی ہیں اور تعاون، شمولیت اور عوام مرکوز حکمرانی کا ماڈل پیش کرتی ہیں۔

مزید پڑھیے: جانیں چرواہے نے بچائیں مگر تعریف وارننگ سسٹم کی، شیری رحمان تنقید کی زد میں کیوں ہیں؟

انہوں نے یاد دہانی کرائی کہ کوویڈ 19 کے دوران خواتین کی قیادت والے ممالک نے تیزی سے لاک ڈاؤن کیا، واضح پیغامات دیے اور مردوں کی قیادت والے ممالک کے مقابلے میں اوسطاً آدھا جانی نقصان بچالیا۔

شیری رحمان نے بینظیر بھٹو کی قیادت پر بھی روشنی ڈالتے ہوئے انہیں ’ایک آئیکونک لیڈر‘ قرار دیا جنہوں نے مسلمان اکثریتی ممالک میں پہلی خاتون وزیر اعظم بن کر خواتین کی قیادت کے لیے راہ ہموار کی۔

انہوں نے کہا کہ بیجنگ کانفرنس 1995 میں بینظیر بھٹو نے خواتین کے حقوق کے لیے ایک انقلابی پلیٹ فارم پر دستخط کیے۔

شیری رحمان نے خبردار کیا کہ جیسے جیسے تنازعات بڑھ رہے ہیں اور کثیرالطرفہ تعاون کمزور ہو رہا ہے، حقوق کی حفاظت دنیا بھر میں کمزور ہو رہی ہے۔

پاکستان میں خواتین کی قیادت کی شاندار کارکردگی

شیری رحمان نے پاکستان میں خواتین کی پارلیمانی قیادت اور چیلنجز پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ پاکستان کی پارلیمنٹ میں خواتین کی تعداد صرف 17 فیصد ہے لیکن گزشتہ سال خواتین پارلیمنٹیرین نے پارلیمانی کام کا تقریباً 50 فیصد حصہ مکمل کیا جسے انہوں نے خواتین کے غیر مرئی کیئر اکنامی اور عوامی محاذ پر اضافی محنت کی عکاسی قرار دیا۔

مزید پڑھیں: کیا ہمیں حق حاصل نہیں کہ شفاف قانون سازی کریں؟ شیری رحمان کا سینیٹ میں اظہار خیال

انہوں نے اپنی قانون سازی کی جدوجہد کا ذکر کیا سنہ 2002 سے اب تک 5 اہم بل منظور کرائے جن میں خواتین کی سیاسی جماعتوں میں شرکت کو لازمی بنانا، ورک پلیس ہراسمنٹ ایکٹ، کم عمری کی شادی کی روک تھام کا قانون (9 سال کی جدوجہد کے بعد) اور گھریلو تشدد قانون (21 سال کی کوشش کے بعد) شامل ہیں۔

انہوں نے پاکستان میں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ذریعے خواتین کے لیے کی جانے والی سماجی تحفظ کی کامیابیاں بھی بیان کیں جس میں نقد رقم براہِ راست خواتین کے اکاؤنٹس میں منتقل کر کے انہیں گھریلو اور کمیونٹی سطح پر بااختیار بنایا جاتا ہے۔

شیری رحمان نے خواتین قانون سازوں کے خلاف عالمی سطح پر ہراسگی میں اضافے پر بھی تشویش ظاہر کی کہ 5 خطوں میں 82 فیصد خواتین پارلیمنٹیرین ہراسگی کا شکار ہیں جن میں دھمکیاں، موبنگ اور ڈیجیٹل تشدد شامل ہے۔

انہوں نے کہا کہ تقریباً 44 فیصد کو آن لائن جان یا حملے کی دھمکیاں ملتی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ میری فکر نوجوان خواتین کے لیے ہے جو اس ڈیجیٹل دشمنی کا وارث بن رہی ہیں۔

شیری رحمان نے کہا کہ ساختی استثنیٰ اور نسوانیت مخالف رویے کو ختم کرنے کا کوئی جادوئی حل نہیں ہے تاہم ہمیں سنا جانا لازمی ہے۔

یہ بھی پڑھیے: شیری رحمان کا ترقی پذیر ممالک کے لیے عالمی برادری سے اہم مطالبہ

انہوں نے کہا کہ تبدیلی کی ایک قیمت ہے اور ہم سیاسی استقامت اور یکجہتی کے ساتھ اسے ادا کرنے کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہماری بہنیں اور بہت سے بھائی ہمارے ساتھ ہیں اور یہ یکجہتی ہماری سب سے بڑی طاقت ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمان شیری رحمان شیری رحمان کا ہاؤس آف لارڈز میں خطاب

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمان شیری رحمان کا ہاؤس ا ف لارڈز میں خطاب انہوں نے کہا کہ کا کہنا تھا کہ شیری رحمان کا میں خواتین کی خواتین کے سیاست میں نے خواتین کی قیادت کرتی ہیں ہیں اور کے لیے

پڑھیں:

بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی

اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔

علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔

علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • نواز شریف کل میرپور میں انتخابی جلسے سے خطاب کریں گے
  • فرانس؛ جیفری ایپسٹین کا قریبی ساتھی بھی پراسرار حالت میں مردہ پایا گیا
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • 25 جولائی کو گریٹر اقبال پارک میں پیپلز پارٹی کے جلسہ ؛ بلاول بھٹو ویڈیو لنک سے خطاب کریں گے ؛فیصل میر
  • جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • مستونگ میں فتنہ الہندوستان کے 6 دہشتگرد مارے گئے، مرد و خواتین خودکش بمبار گرفتار