جب دیوار سے لگایا جاتا ہے تو پھر احتجاج کا آپشن ہی بچتا ہے،سہیل آفریدی
اشاعت کی تاریخ: 12th, January 2026 GMT
جب دیوار سے لگایا جاتا ہے تو پھر احتجاج کا آپشن ہی بچتا ہے،سہیل آفریدی WhatsAppFacebookTwitter 0 12 January, 2026 سب نیوز
کراچی (آئی پی ایس )وزیر اعلی خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ میں اپنے لیڈر عمران خان سے ملنا چاہتا ہوں لیکن کسی نے نہیں سنی، جب دیوار سے لگایا جاتا ہے تو پھر احتجاج کا آپشن ہی بچتا ہے۔سندھ ہائیکورٹ میں تقریب سے خطاب کے دوران وزیراعلی سہیل آفریدی نے کہا کہ عمران خان حقیقی آزادی کی جنگ لڑ رہا ہے، میرا لیڈر جیل میں ہے اور وہ پاکستان کا مقبول ترین لیڈر ہے، چیف جسٹس بھی ملاقات کو تیار نہیں اور نہ لیٹر کا جواب دیا۔احتجاجی سیاست میں ہم تب جاتے ہیں جب کوئی راستہ نہیں بچتا جبکہ آئین و قانون اسکی اجازت دیتا ہے۔ وزیر اعلی بنا تو وزیر اعلی پنجاب اور چیف جسٹس کو خط لکھا۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججز حکم دیتے ہیں کہ میں عمران خان سے مل سکتا ہوں، تین ججز نے یہ حکم دیا لیکن اس حکم کو ردی کی ٹوکری میں ایک جیل سپرنٹنڈنٹ پھینک دیتا ہے۔ یہ میری بی عزتی نہیں بلکہ عدلیہ اور وکلا پیشے کی بے توقیری ہے۔آئین و قانون کے ساتھ کھلواڑ ہو رہا ہے، اداروں کا نہیں پورے پاکستان کا نقصان ہو رہا ہے، انصاف برائے فروخت نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے پی آئی اے کو بھی نیلام کر دیا۔انہوں نے کہا کہ سندھ ہائیکورٹ بار کے تمام وکلا کا مشکور ہوں اور مجھے خوشی ہے میں وکلا کے سامنے اپنی بات رکھ رہا ہوں، سندھ کی عوام بہادر، جرات مند اور دلیر ہے۔وزیر اعلی نے شکوہ کرتے ہوئے کہا کہ سندھیوں نے اپنے دارالخلافہ میں سب قوموں کو جگہ دی ہے، سندھیوں کا دل بڑا ہے جو مہمانوں کو عزت دیتے ہیں لیکن سندھ کی حکومت نے مہمانوں کے ساتھ اچھا نہیں کیا اور اجرک ٹوپی کے عزت نہیں کی۔جب تک وکلا کھڑے نہیں ہوں گے عدلیہ آزاد نہیں ہوگی، جتنی بھی تحریک چلی سندھ ہائیکورٹ بار کھڑا رہا۔ وکلا تحریک شروع کریں میں آئین و قانون کی بالادستی کے لیے کھڑا رہوں گا، وکلا پر گولی چلانے سے پہلے مجھ پر گولی چلانا پڑے گی۔وکلا بہادر ہیں، دلیر ہیں جبکہ زندگی و موت اللہ کے ہاتھ میں ہے تو پھر ہم کیوں ڈریں، ہم نے اپنے حقوق کے لیے کھڑا ہونا ہوگا اس کے بغیر ناممکن ہے۔ لوگ جتنا ڈریں گے یہ لوگ آپ کو اتنا دبائیں گے، قوم اور ہم وکلا کی طرف دیکھ رہے ہیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبراسپیکر قومی اسمبلی نے اپوزیشن لیڈر کے تقرر کے طریقہ کار کا اعلان کر دیا اسپیکر قومی اسمبلی نے اپوزیشن لیڈر کے تقرر کے طریقہ کار کا اعلان کر دیا ججوں کیخلاف سوشل میڈیا پر منفی پراپیگنڈا، این سی سی آئی میں درخواست جمع سہیل آفریدی کو دہشتگردوں سے اتنی ہمدردی ہے تو افغانستان چلے جائیں، طلال چودھری ترقی پانے کیلئے تمام اثاثے ڈکلیئر کریں،ایف بی آر کا افسران کو انتباہ وفاقی حکومت نے بلدیاتی الیکشن کے امیدواروں کو 85لاکھ کا نقصان پہنچادیا دہشتگردوں کے بیانیے کا ڈٹ کر مقابلہ، پیغام امن ہر گھر تک پہنچایا جائیگا، عطا تارڑCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: سہیل آفریدی وزیر اعلی ہے تو پھر
پڑھیں:
حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔
قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔
آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔
چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔
رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔
سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔
چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔
شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔