Islam Times:
2026-07-24@03:09:16 GMT

ایران کے خلاف امریکی سازش اور عالمی نتائج

اشاعت کی تاریخ: 12th, January 2026 GMT

ایران کے خلاف امریکی سازش اور عالمی نتائج

اسلام ٹائمز: یہ بات تو واضح ہو چکی ہے کہ امریکہ کا ایران پر حملہ امریکی اور اسرائیلی اثاثوں پر جوابی کارروائی کو جنم دے گا، علاقائی اتحادیوں کو جنگ میں کھینچ لائے گا، توانائی کی منڈیوں کو متاثر کرے گا اور چین کے ساتھ کشیدگی بھی بڑھ جائے گی۔ امریکہ ہر جگہ متحرک دکھائی دیتا ہے، مگر کہیں بھی مکمل کنٹرول میں نہیں ہے یہی امریکہ کی کمزوری کی دلیل ہے۔ طاقت کا پیمانہ اب حملہ کرنے کی صلاحیت نہیں، بلکہ زنجیری ردِعمل کو روکنے کی اہلیت ہے اور یہی وہ صلاحیت ہے جو واشنگٹن تیزی سے کھو رہا ہے۔ تحریر: ڈاکٹر صابر ابومریم 
سیکرٹری جنرل فلسطین فاؤنڈیشن پاکستان  

ایران میں اسلامی انقلاب سنہ 1979ء میں کامیاب ہوا۔ تقریباً گذشتہ سینتالیس برس سے زائد عرصے میں امریکہ ایران کو مشرقِ وسطیٰ میں اپنی بالادستی کی راہ میں ایک مرکزی رکاوٹ سمجھتا آیا ہے۔ لہذا امریکہ نے اپنے لئے اس رکاوٹ کو دور کرنے کے لئے ایران کے خلاف سازشیں جاری رکھی ہیں۔ اگر میں محاورے کے طور پر کہہ دوں کہ سینتالیس برس میں امریکہ نے 470 مرتبہ سے زیادہ کوشش کی ہے کہ ایران میں اپنی من پسند حکومت لائی جائے تو یہ محاورہ غلط نہیں ہوگا۔

امریکہ نے ایران کے خلاف پابندیاں، خفیہ کارروائیاں، سائبر حملے اور فوجی دھمکیاں سب کچھ آزمایا ہے مگر کوئی بھی فیصلہ کن نتیجہ نہیں دے سکا۔ ہمیشہ امریکہ کو ناکامی کا سامنا رہا ہے۔ اس کے برعکس، ان اقدامات نے امریکہ کے لئے ہمیشہ نئے چیلنجز کو جنم دیا ہے۔ آج واشنگٹن صرف یہ نہیں سوچ رہا کہ ایران کو کیسے شکست دی جائے، بلکہ یہ بھی سوچنے پر مجبور ہے  کہ آیا اس کوشش کے نتائج کو وہ خود برداشت کر سکے گا یا نہیں۔ یہئ ایران کے موجودہ نظام کی کامیابی کی دلیل ہے۔ 

اس وقت جب ایران میں چند سو افراد کی مدد سے امریکہ ملک کے نظام کو گرانے کی کھلم کھلا کوشش کر رہا ہے اور ایران پر حملوں کی دھمکیاں بھی دے رہا ہے تو ایسے ماحول میں یہ بات زیادہ سنگین ہے کہ کئی دباؤ ایک ساتھ جمع ہوگئے ہیں یعنی ایران میں اندرونی بے چینی کے بیانیہ اور دوسری طرف ایران سمیت خطے میں امریکی ایجنٹوں کی موجودگی کے خلاف بڑھتی ہوئی علاقائی مخالفت، پھر اسی طرح چین کا پھیلتا ہوا اثر و رسوخ، اور وینزویلا میں بگڑتی ہوئی صورتحال نے ان حالات کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ امریکہ نے اپنی طاقت کو بہت زیادہ محاذوں میں پھیلا دیا ہے۔ اس لئے سوال پیدا ہوا رہا ہے کہ امریکہ کی جانب سے ایران کے خلاف کی جانے والی سازشوں کے عالمی نتائج کیا ہوں گے؟

اب دیکھنا یہ ہے کہ امریکہ کے ہاتھ میں کیا ہے؟ کیا واقعی وہ ایران کے خلاف کامیاب ہوسکتا ہے؟ جیسا کہ امریکہ نے وینزویلا میں کوشش کی لیکن صدر مادورو کے اغوا کے بعد حکومت اور نظام کو تبدیل کرنے میں ناکام رہا۔ اب امریکہ کے پاس ایران میں ایک انتہائی آپشن یہ ہے کہ ایران پر براہِ راست فوجی حملہ کر دیا جائے، جس میں ممکنہ طور پر سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کا قتل اور اہم فوجی و شہری انفراسٹرکچر کی تباہی شامل ہو سکتی ہے۔ یہی امریکی اور اسرائیلی منصوبوں کا حصہ ہے۔

کیا آیت اللہ خامَنہ ای محض ایک سیاسی شخصیت ہیں؟ ہر گز نہیں، بلکہ وہ دنیا کے ایک بڑی مذہبی رہنما ہیں۔ ان کے دنیا بھر میں لاکھوں کروڑوں پیروکار موجود ہیں۔ اگر امریکہ ان کے قتل کا منصوبہ عملی کرنے کی کوشش کرتا ہے تو پھر ان کا قتل غالباً ایک تہذیبی حملے کے طور پر دیکھا جائے گا، جس کے نتیجے میں وسیع عوامی mobilization، غیر متوازن جنگ، اور عراق، لبنان، یمن، خلیج اور اس سے آگے تک امریکہ کے خلاف جوابی کارروائیاں ہوں گی۔ یہ سب کچھ امریکہ برداشت نہیں کر پائے گا۔ 

امریکہ کے ایران کے خلاف کسی بھی طرح کے اقدام جس میں ایران کو غیر موثر بنانے کی کوشش کی جائے گی سب ناکام ہو سکتی ہیں کیونکہ اس کے اثرات صرف ایران پر نہیں بلکہ عالمی اثرات ہوں گے۔ امریکی حکومت کا یہ احمقانہ اقدام ایک علاقائی جنگ کو جنم دے گا جس کے نتیجہ میں توانائی کی منڈیوں میں جھٹکے، بحری راستوں میں خلل، اور مالی عدم استحکام پیدا ہو جائے گا۔ یہ بھی امریکہ برداشت نہیں کر پائے گا۔ 

امریکہ کے پاس ایران کے خلاف ایک اور آپشن ایران کے شہری اور معاشی انفراسٹرکچر،تیل کی ریفائنریاں، بجلی کے گرڈز، بندرگاہیں، پائپ لائنز اور ٹرانسپورٹ نیٹ ورکس کو نشانہ بنانا اور اندرونی بے چینی کو ہوا دینا ہے۔ جہاں تک اندرونی بے چینی کا تعلق ہے تو امریکہ اس میں ناکامی کا سامنا کر رہا ہے۔ باقی اہم مقامات کو امریکہ گذشتہ 12 روزہ جنگ میں نشانہ بنا کر دیکھ چکا ہے لیکن ایران کو روکنے میں ناکام رہا ہے۔

اگر امریکہ نے اس مرتبہ بھی ایسے ہی حملوں کا سہارا لیا تو پھر یہ جارحیت  نہ صرف ایران کے خلاف بلکہ پورے خطے میں امریکی اور اتحادی مفادات کے خلاف جوابی کارروائی کو جائز ہدف قرار دے گی۔ اس کے نتیجہ میں امریکی فوجی اڈے، سفارت خانے، لاجسٹک مراکز اور کارپوریٹ اثاثے کھلے اہداف بن جائیں گے۔ لہذا امریکی حکام ایران کے خلاف اس طرح کے اقدامات کرنے سے گریز کریں گے کیونکہ اس سے بحران صرف تہران تک نہیں رہے گا بلکہ آگے بحرانوں کا سلسلہ شروع ہو جائے گا جو امریکہ کے لئے مزید مشکلات کا باعث بن سکتا ہے۔ 

امریکہ کے پاس ایک اور راستہ جسے آج کل ایران میں استعمال کیا جا رہا ہے۔ یعنی خفیہ عدم استحکام۔ اس طریقہ میں امریکہ نے مسلح گروہوں کی حمایت کی ہے تاکہ وہ ایران کے شہروں میں تخریب کاری انجام دیں اور شہریوں سمیت سرکاری عہدیداروں کا قتل کریں تاکہ اس کے ذریعہ اندرونی تشدد کو بڑھاوا دیا جا سکے۔ یہ حکمتِ عملی بھی بڑی حد تک ناکام رہی ہے۔ ایسے گروہوں کو عوامی حمایت حاصل نہیں ہو سکی ہے۔

ایرانی عوام نے ان کالی بھیڑوں کو پہچان لیا ہے۔ اس کے برعکس، سکیورٹی فورسز اور شہریوں پر حملوں نے اکثر اندرونی یکجہتی کو مضبوط کیا اور ریاستی جواز کو تقویت دی۔ ایسا لگتا ہے کہ امریکہ کی اس حکمت عملی نے ایران کو ٹکڑوں میں بانٹنے کے بجائے، خفیہ عدم استحکام نے غیر ارادی طور پر انہی ڈھانچوں کو مضبوط کیا جنہیں کمزور کرنے کی کوشش کی جا رہی تھی۔ یعنی امریکہ اس طریقہ واردات میں بھی ناکام ہوگیا۔ امریکہ کی تمام تر جارحانہ کاروائیوں اور سازشوں کے جواب میں ایران نے بھی اپنی حکمت عملی واضح کر دی ہے یا یہ کہہ لیجئے کہ ایران نے اپنی ریڈ لائنز واضح کر دی ہیں کہ کسی بھی امریکی فوجی اقدام کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔

یہ ردِعمل صرف امریکی اڈوں تک محدود نہیں ہوگا۔ شاید اس سے زیادہ ہو۔ امکان ہے کہ اسرائیل کو سب سے زیادہ نقصان اٹھانا پڑے، جہاں امریکی افواج کے ساتھ ساتھ فوجی تنصیبات اور انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا جائے گا۔یاد رہے کہ تہرانکے نقطۂ نظر سے اسرائیل محض تماشائی نہیں بلکہ کسی بھی ایران مخالف مہم کا مرکزی فریق ہے۔ کوئی بھی امریکی حملہ کثیر محاذی جنگ کو چھیڑ سکتا ہے، جس سے کشیدگی کی قیمت کئی گنا بڑھ جائے گی۔ ایران کے ساتھ جنگ دو طرفہ نہیں، بلکہ ایک علاقائی اور نظامی تصادم کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔

جہاں تک عالمی نتائج کی بات ہے تو اس عنوان سے چین ایران کو جذباتی اتحادی سے زیادہ ایک اسٹریٹجک محور کے طور پر دیکھتا ہے۔ توانائی کی سلامتی، علاقائی استحکام، اور مشرقِ وسطیٰ کو وسطی ایشیا اور یورپ سے جوڑنے والے زمینی و بحری راستوں کی ایک اہم گرہ ایران ہے۔ چین اس حقیقت کو اچھی طرح سمجھتا ہے۔ بیجنگ کے لیے اصل تشویش تہران سے وفاداری نہیں بلکہ ایک غیر مستحکم ایران سے پیدا ہونے والا نظامی خطرہ ہے۔ یہ خطرہ توانائی کی ترسیل میں رکاوٹ ایجاد کرنے کے ساتھ ساتھ غیر یقینی بحری راستے اور عالمی تجارت کے مرکزی خطے میں جبر کے ذریعے ریاستی ٹوٹ پھوٹ کو معمول بنا دے گا۔ یہ صورتحال چین کو کسی بھی طرح قابل قبول نہیں ہے۔ 

اسی طرح عالمی نتائج میں ایران کے ساتھ جہاں چین متاثر ہوگا وہاں ساتھ ساتھ روس کو بھی جھٹکا لگے گا۔ اس صورتحال سے روس کمزور ہوگا اور ایک بڑا توازن کار ختم ہوجائے گا اور پورے یوریشیا میں مغربی دباؤ مرکوز ہو جائے گا۔ لہذا ایران اکیلا نہیں بلکہ عالمی سطح پر اثرات مرتب کرے گا۔ اس تمام صورتحال میں بیجنگ امریکی کامیابی کو اختتام نہیں بلکہ خود چین پر دباؤ بڑھانے کی ایک ریہرسل کے طور پر دیکھ رہا ہے۔ ایران کے خلاف جاری امریکی سازش کو چین اپنے لئے بھی سنگین سمجھتا ہے۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ چین خود بخود براہِ راست تصادم میں کود پڑے گا، بلکہ یہ کہ ایران کے انہدام کو روکنا بیجنگ کے لیے نظریاتی وابستگی کے بجائے خطرے کے تدارک اور خود بقا کا معاملہ بن سکتا ہے۔

دوسری طرف اب اسی دوران امریکہ کو وینزویلا میں بگڑتے ہوئے بحران کا سامنا ہے۔ اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے لیول 4 ٹریول وارننگ جاری کی ہے، جس میں اغوا، شہری بدامنی اور مسلح گروہوں کے باعث امریکی شہریوں کو ملک چھوڑنے کا کہا گیا ہے۔ بڑی امریکی توانائی کمپنیاں اب وینزویلا کو ناقابلِ سرمایہ کاری قرار دے رہی ہیں، ٹرمپ کے اقدامات نے سکیورٹی خطرات اور سیاسی عدم استحکام کو پروان چڑھایا ہے۔ یہ صورتحال واشنگٹن پر دباؤ ڈال رہی ہے کہ جان و مال کے تحفظ کے لیے براہِ راست، زمینی فوجی ردِعمل اختیار کیا جائے، جس سے امریکی فوجی اور سیاسی وسائل مزید کھنچ جاتے ہیں۔

وینزویلا اب ایک ضمنی مسئلہ نہیں رہا؛ یہ ایران، اسرائیل اور چین کے ساتھ ساتھ توجہ کا مطالبہ کرنے والا دلدل بن چکا ہے، جو واشنگٹن کو بیک وقت کئی بحرانوں میں دھکیل رہا ہے۔ ٹرمپ کے احمقانہ اقدمات کی وجہ سے اب امریکہ ایک ایسے راستے پر آ چکا ہے جہاں مشکلات ہی مشکلات ہیں جو خود امریکی صدر نے امریکہ کے لئے پیدا کر دی ہیں۔ امریکہ کا اصل چیلنج اب درست آپشن چننا نہیں، بلکہ بے شمار حل طلب تنازعات کے مجموعی نتائج کو سنبھالنا ہے۔ جو کہ انتہائی مشکل ہو چکا ہے۔

یہ بات تو واضح ہو چکی ہے کہ امریکہ کا ایران پر حملہ امریکی اور اسرائیلی اثاثوں پر جوابی کارروائی کو جنم دے گا، علاقائی اتحادیوں کو جنگ میں کھینچ لائے گا، توانائی کی منڈیوں کو متاثر کرے گا اور چین کے ساتھ کشیدگی بھی بڑھ جائے گی۔ امریکہ ہر جگہ متحرک دکھائی دیتا ہے، مگر کہیں بھی مکمل کنٹرول میں نہیں ہے یہی امریکہ کی کمزوری کی دلیل ہے۔ طاقت کا پیمانہ اب حملہ کرنے کی صلاحیت نہیں، بلکہ زنجیری ردِعمل کو روکنے کی اہلیت ہے اور یہی وہ صلاحیت ہے جو واشنگٹن تیزی سے کھو رہا ہے۔

اسٹریٹجک اوورسٹریچ اچانک نہیں آتا؛ یہ بے ربطی کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے: بہت زیادہ محاذ، بہت زیادہ دشمن، اور بہت کم آپشنز۔ ایران کا سامنا کرتے ہوئے، امریکہ محض ایک ریاست سے نہیں، بلکہ ایک باہم جڑے ہوئے نیٹ ورک سے ٹکرا رہا ہے، جسے بمباری کے ذریعے تابع نہیں کیا جا سکتا بغیر اس کے کہ پورا نظام آگ میں نہ جھونک دیا جائے۔ ایران میں امریکی مخمصہ طاقت کی ناکامی نہیں، بلکہ سیاق و سباق کی ناکامی ہے۔دنیا اب اتنی باہم مربوط، ردِعمل دینے والی اور مزاحم ہو چکی ہے کہ یک طرفہ طاقت ویسے کام نہیں کر سکتی جیسے ماضی میں کرتی تھی۔

خلاصہ یہ ہے کہ ایران پر امریکی حملہ صرف ایران تک محدود نہیں رہے گا۔ یہ اسرائیل، امریکی افواج، چین کے اسٹریٹجک حساب، توانائی کی منڈیوں اور عالمی استحکام تک پھیل جائے گا۔ سوال اب یہ نہیں کہ امریکہ ایران پر حملہ کر سکتا ہے یا نہیں؛ سوال یہ ہے کہ کیا وہ اس زنجیری ردِعمل سے بچ سکے گا جو اس کے خلاف ایسا حملہ بھڑکا دے گا جس سے امریکہ بری طرح متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ پائے گا۔ 

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: ایران کے خلاف ہے کہ امریکہ عالمی نتائج عدم استحکام امریکی اور میں امریکی ساتھ ساتھ امریکہ کے امریکہ نے ایران میں نہیں بلکہ امریکہ کی کے طور پر سے زیادہ ایران پر ایران کو کہ ایران کا سامنا کی ہے کہ یہ ہے کہ حملہ کر کوشش کی جائے گی کسی بھی کرنے کی جائے گا سکتا ہے کے ساتھ گا اور دیا جا کے لئے اور اس رہا ہے چین کے چکا ہے کو جنم

پڑھیں:

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی

امریکا ایران جنگ، آبنائے ہرمز کی بندش، مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت نے سابقہ ریکارڈ توڑ دیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ مئی کے بعد پہلی مرتبہ ہے کہ برینٹ خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل کی نفسیاتی حد بھی عبور کر کی گئی جس سے عالمی معیشت، مہنگائی اور توانائی کی فراہمی کے حوالے سے نئے خدشات جنم لے رہے ہیں۔

عالمی معیار کے خام تیل برینٹ کروڈ کی قیمت میں جمعرات کو چھ فیصد سے زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کے بعد یہ 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر چلی گئی کیوں کہ سرمایہ کاروں نے اس خدشے سے خریداری بڑھا دی کہ اگر خطے میں جنگ مزید پھیلی تو عالمی تیل کی سپلائی شدید متاثر ہو سکتی ہے۔

قیمتوں میں اس غیرمعمولی اضافے کی بڑی وجہ یمن کے ایران نواز حوثی گروپ کی جانب سے بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی پر حملے ہیں۔ حوثیوں نے حالیہ دنوں میں سعودی آئل ٹینکروں اور دیگر تجارتی جہازوں کو نشانہ بنایا۔

بحیرہ احمر اور باب المندب عالمی تجارت کے اہم ترین بحری راستوں میں شمار ہوتے ہیں جہاں سے یورپ، ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے درمیان بڑی مقدار میں تیل اور تجارتی سامان کی ترسیل ہوتی ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حملوں کے بعد سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ امریکا حوثیوں کے ساتھ ساتھ ایران کو بھی ان حملوں کا ذمہ دار سمجھتا ہے کیونکہ ان کے بقول حوثی تہران کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔

صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں خبردار کیا ہے کہ اگر بحیرہ احمر میں جہاز رانی پر حملے جاری رہے تو امریکا جواب میں حوثیوں اور ایران دونوں کے خلاف بڑی فوجی سزا دینے سے گریز نہیں کرے گا۔

توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر سے اوپر برقرار رہتی ہیں تو دنیا بھر میں ایندھن، بجلی اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے جس سے مہنگائی کی نئی لہر پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔

اگر کشیدگی بحیرہ احمر سے بڑھ کر آبنائے ہرمز تک پھیل گئی جہاں سے دنیا کی تقریباً پانچواں حصہ خام تیل کی ترسیل ہوتی ہے تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں مزید بلند ہو سکتی ہیں۔

 

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بے قابو، فی بیرل 100 ڈالر سے متجاوز
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی