ایران کے خلاف امریکی سازش اور عالمی نتائج
اشاعت کی تاریخ: 12th, January 2026 GMT
اسلام ٹائمز: یہ بات تو واضح ہو چکی ہے کہ امریکہ کا ایران پر حملہ امریکی اور اسرائیلی اثاثوں پر جوابی کارروائی کو جنم دے گا، علاقائی اتحادیوں کو جنگ میں کھینچ لائے گا، توانائی کی منڈیوں کو متاثر کرے گا اور چین کے ساتھ کشیدگی بھی بڑھ جائے گی۔ امریکہ ہر جگہ متحرک دکھائی دیتا ہے، مگر کہیں بھی مکمل کنٹرول میں نہیں ہے یہی امریکہ کی کمزوری کی دلیل ہے۔ طاقت کا پیمانہ اب حملہ کرنے کی صلاحیت نہیں، بلکہ زنجیری ردِعمل کو روکنے کی اہلیت ہے اور یہی وہ صلاحیت ہے جو واشنگٹن تیزی سے کھو رہا ہے۔ تحریر: ڈاکٹر صابر ابومریم
سیکرٹری جنرل فلسطین فاؤنڈیشن پاکستان
ایران میں اسلامی انقلاب سنہ 1979ء میں کامیاب ہوا۔ تقریباً گذشتہ سینتالیس برس سے زائد عرصے میں امریکہ ایران کو مشرقِ وسطیٰ میں اپنی بالادستی کی راہ میں ایک مرکزی رکاوٹ سمجھتا آیا ہے۔ لہذا امریکہ نے اپنے لئے اس رکاوٹ کو دور کرنے کے لئے ایران کے خلاف سازشیں جاری رکھی ہیں۔ اگر میں محاورے کے طور پر کہہ دوں کہ سینتالیس برس میں امریکہ نے 470 مرتبہ سے زیادہ کوشش کی ہے کہ ایران میں اپنی من پسند حکومت لائی جائے تو یہ محاورہ غلط نہیں ہوگا۔
امریکہ نے ایران کے خلاف پابندیاں، خفیہ کارروائیاں، سائبر حملے اور فوجی دھمکیاں سب کچھ آزمایا ہے مگر کوئی بھی فیصلہ کن نتیجہ نہیں دے سکا۔ ہمیشہ امریکہ کو ناکامی کا سامنا رہا ہے۔ اس کے برعکس، ان اقدامات نے امریکہ کے لئے ہمیشہ نئے چیلنجز کو جنم دیا ہے۔ آج واشنگٹن صرف یہ نہیں سوچ رہا کہ ایران کو کیسے شکست دی جائے، بلکہ یہ بھی سوچنے پر مجبور ہے کہ آیا اس کوشش کے نتائج کو وہ خود برداشت کر سکے گا یا نہیں۔ یہئ ایران کے موجودہ نظام کی کامیابی کی دلیل ہے۔
اس وقت جب ایران میں چند سو افراد کی مدد سے امریکہ ملک کے نظام کو گرانے کی کھلم کھلا کوشش کر رہا ہے اور ایران پر حملوں کی دھمکیاں بھی دے رہا ہے تو ایسے ماحول میں یہ بات زیادہ سنگین ہے کہ کئی دباؤ ایک ساتھ جمع ہوگئے ہیں یعنی ایران میں اندرونی بے چینی کے بیانیہ اور دوسری طرف ایران سمیت خطے میں امریکی ایجنٹوں کی موجودگی کے خلاف بڑھتی ہوئی علاقائی مخالفت، پھر اسی طرح چین کا پھیلتا ہوا اثر و رسوخ، اور وینزویلا میں بگڑتی ہوئی صورتحال نے ان حالات کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ امریکہ نے اپنی طاقت کو بہت زیادہ محاذوں میں پھیلا دیا ہے۔ اس لئے سوال پیدا ہوا رہا ہے کہ امریکہ کی جانب سے ایران کے خلاف کی جانے والی سازشوں کے عالمی نتائج کیا ہوں گے؟
اب دیکھنا یہ ہے کہ امریکہ کے ہاتھ میں کیا ہے؟ کیا واقعی وہ ایران کے خلاف کامیاب ہوسکتا ہے؟ جیسا کہ امریکہ نے وینزویلا میں کوشش کی لیکن صدر مادورو کے اغوا کے بعد حکومت اور نظام کو تبدیل کرنے میں ناکام رہا۔ اب امریکہ کے پاس ایران میں ایک انتہائی آپشن یہ ہے کہ ایران پر براہِ راست فوجی حملہ کر دیا جائے، جس میں ممکنہ طور پر سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کا قتل اور اہم فوجی و شہری انفراسٹرکچر کی تباہی شامل ہو سکتی ہے۔ یہی امریکی اور اسرائیلی منصوبوں کا حصہ ہے۔
کیا آیت اللہ خامَنہ ای محض ایک سیاسی شخصیت ہیں؟ ہر گز نہیں، بلکہ وہ دنیا کے ایک بڑی مذہبی رہنما ہیں۔ ان کے دنیا بھر میں لاکھوں کروڑوں پیروکار موجود ہیں۔ اگر امریکہ ان کے قتل کا منصوبہ عملی کرنے کی کوشش کرتا ہے تو پھر ان کا قتل غالباً ایک تہذیبی حملے کے طور پر دیکھا جائے گا، جس کے نتیجے میں وسیع عوامی mobilization، غیر متوازن جنگ، اور عراق، لبنان، یمن، خلیج اور اس سے آگے تک امریکہ کے خلاف جوابی کارروائیاں ہوں گی۔ یہ سب کچھ امریکہ برداشت نہیں کر پائے گا۔
امریکہ کے ایران کے خلاف کسی بھی طرح کے اقدام جس میں ایران کو غیر موثر بنانے کی کوشش کی جائے گی سب ناکام ہو سکتی ہیں کیونکہ اس کے اثرات صرف ایران پر نہیں بلکہ عالمی اثرات ہوں گے۔ امریکی حکومت کا یہ احمقانہ اقدام ایک علاقائی جنگ کو جنم دے گا جس کے نتیجہ میں توانائی کی منڈیوں میں جھٹکے، بحری راستوں میں خلل، اور مالی عدم استحکام پیدا ہو جائے گا۔ یہ بھی امریکہ برداشت نہیں کر پائے گا۔
امریکہ کے پاس ایران کے خلاف ایک اور آپشن ایران کے شہری اور معاشی انفراسٹرکچر،تیل کی ریفائنریاں، بجلی کے گرڈز، بندرگاہیں، پائپ لائنز اور ٹرانسپورٹ نیٹ ورکس کو نشانہ بنانا اور اندرونی بے چینی کو ہوا دینا ہے۔ جہاں تک اندرونی بے چینی کا تعلق ہے تو امریکہ اس میں ناکامی کا سامنا کر رہا ہے۔ باقی اہم مقامات کو امریکہ گذشتہ 12 روزہ جنگ میں نشانہ بنا کر دیکھ چکا ہے لیکن ایران کو روکنے میں ناکام رہا ہے۔
اگر امریکہ نے اس مرتبہ بھی ایسے ہی حملوں کا سہارا لیا تو پھر یہ جارحیت نہ صرف ایران کے خلاف بلکہ پورے خطے میں امریکی اور اتحادی مفادات کے خلاف جوابی کارروائی کو جائز ہدف قرار دے گی۔ اس کے نتیجہ میں امریکی فوجی اڈے، سفارت خانے، لاجسٹک مراکز اور کارپوریٹ اثاثے کھلے اہداف بن جائیں گے۔ لہذا امریکی حکام ایران کے خلاف اس طرح کے اقدامات کرنے سے گریز کریں گے کیونکہ اس سے بحران صرف تہران تک نہیں رہے گا بلکہ آگے بحرانوں کا سلسلہ شروع ہو جائے گا جو امریکہ کے لئے مزید مشکلات کا باعث بن سکتا ہے۔
امریکہ کے پاس ایک اور راستہ جسے آج کل ایران میں استعمال کیا جا رہا ہے۔ یعنی خفیہ عدم استحکام۔ اس طریقہ میں امریکہ نے مسلح گروہوں کی حمایت کی ہے تاکہ وہ ایران کے شہروں میں تخریب کاری انجام دیں اور شہریوں سمیت سرکاری عہدیداروں کا قتل کریں تاکہ اس کے ذریعہ اندرونی تشدد کو بڑھاوا دیا جا سکے۔ یہ حکمتِ عملی بھی بڑی حد تک ناکام رہی ہے۔ ایسے گروہوں کو عوامی حمایت حاصل نہیں ہو سکی ہے۔
ایرانی عوام نے ان کالی بھیڑوں کو پہچان لیا ہے۔ اس کے برعکس، سکیورٹی فورسز اور شہریوں پر حملوں نے اکثر اندرونی یکجہتی کو مضبوط کیا اور ریاستی جواز کو تقویت دی۔ ایسا لگتا ہے کہ امریکہ کی اس حکمت عملی نے ایران کو ٹکڑوں میں بانٹنے کے بجائے، خفیہ عدم استحکام نے غیر ارادی طور پر انہی ڈھانچوں کو مضبوط کیا جنہیں کمزور کرنے کی کوشش کی جا رہی تھی۔ یعنی امریکہ اس طریقہ واردات میں بھی ناکام ہوگیا۔ امریکہ کی تمام تر جارحانہ کاروائیوں اور سازشوں کے جواب میں ایران نے بھی اپنی حکمت عملی واضح کر دی ہے یا یہ کہہ لیجئے کہ ایران نے اپنی ریڈ لائنز واضح کر دی ہیں کہ کسی بھی امریکی فوجی اقدام کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔
یہ ردِعمل صرف امریکی اڈوں تک محدود نہیں ہوگا۔ شاید اس سے زیادہ ہو۔ امکان ہے کہ اسرائیل کو سب سے زیادہ نقصان اٹھانا پڑے، جہاں امریکی افواج کے ساتھ ساتھ فوجی تنصیبات اور انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا جائے گا۔یاد رہے کہ تہرانکے نقطۂ نظر سے اسرائیل محض تماشائی نہیں بلکہ کسی بھی ایران مخالف مہم کا مرکزی فریق ہے۔ کوئی بھی امریکی حملہ کثیر محاذی جنگ کو چھیڑ سکتا ہے، جس سے کشیدگی کی قیمت کئی گنا بڑھ جائے گی۔ ایران کے ساتھ جنگ دو طرفہ نہیں، بلکہ ایک علاقائی اور نظامی تصادم کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔
جہاں تک عالمی نتائج کی بات ہے تو اس عنوان سے چین ایران کو جذباتی اتحادی سے زیادہ ایک اسٹریٹجک محور کے طور پر دیکھتا ہے۔ توانائی کی سلامتی، علاقائی استحکام، اور مشرقِ وسطیٰ کو وسطی ایشیا اور یورپ سے جوڑنے والے زمینی و بحری راستوں کی ایک اہم گرہ ایران ہے۔ چین اس حقیقت کو اچھی طرح سمجھتا ہے۔ بیجنگ کے لیے اصل تشویش تہران سے وفاداری نہیں بلکہ ایک غیر مستحکم ایران سے پیدا ہونے والا نظامی خطرہ ہے۔ یہ خطرہ توانائی کی ترسیل میں رکاوٹ ایجاد کرنے کے ساتھ ساتھ غیر یقینی بحری راستے اور عالمی تجارت کے مرکزی خطے میں جبر کے ذریعے ریاستی ٹوٹ پھوٹ کو معمول بنا دے گا۔ یہ صورتحال چین کو کسی بھی طرح قابل قبول نہیں ہے۔
اسی طرح عالمی نتائج میں ایران کے ساتھ جہاں چین متاثر ہوگا وہاں ساتھ ساتھ روس کو بھی جھٹکا لگے گا۔ اس صورتحال سے روس کمزور ہوگا اور ایک بڑا توازن کار ختم ہوجائے گا اور پورے یوریشیا میں مغربی دباؤ مرکوز ہو جائے گا۔ لہذا ایران اکیلا نہیں بلکہ عالمی سطح پر اثرات مرتب کرے گا۔ اس تمام صورتحال میں بیجنگ امریکی کامیابی کو اختتام نہیں بلکہ خود چین پر دباؤ بڑھانے کی ایک ریہرسل کے طور پر دیکھ رہا ہے۔ ایران کے خلاف جاری امریکی سازش کو چین اپنے لئے بھی سنگین سمجھتا ہے۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ چین خود بخود براہِ راست تصادم میں کود پڑے گا، بلکہ یہ کہ ایران کے انہدام کو روکنا بیجنگ کے لیے نظریاتی وابستگی کے بجائے خطرے کے تدارک اور خود بقا کا معاملہ بن سکتا ہے۔
دوسری طرف اب اسی دوران امریکہ کو وینزویلا میں بگڑتے ہوئے بحران کا سامنا ہے۔ اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے لیول 4 ٹریول وارننگ جاری کی ہے، جس میں اغوا، شہری بدامنی اور مسلح گروہوں کے باعث امریکی شہریوں کو ملک چھوڑنے کا کہا گیا ہے۔ بڑی امریکی توانائی کمپنیاں اب وینزویلا کو ناقابلِ سرمایہ کاری قرار دے رہی ہیں، ٹرمپ کے اقدامات نے سکیورٹی خطرات اور سیاسی عدم استحکام کو پروان چڑھایا ہے۔ یہ صورتحال واشنگٹن پر دباؤ ڈال رہی ہے کہ جان و مال کے تحفظ کے لیے براہِ راست، زمینی فوجی ردِعمل اختیار کیا جائے، جس سے امریکی فوجی اور سیاسی وسائل مزید کھنچ جاتے ہیں۔
وینزویلا اب ایک ضمنی مسئلہ نہیں رہا؛ یہ ایران، اسرائیل اور چین کے ساتھ ساتھ توجہ کا مطالبہ کرنے والا دلدل بن چکا ہے، جو واشنگٹن کو بیک وقت کئی بحرانوں میں دھکیل رہا ہے۔ ٹرمپ کے احمقانہ اقدمات کی وجہ سے اب امریکہ ایک ایسے راستے پر آ چکا ہے جہاں مشکلات ہی مشکلات ہیں جو خود امریکی صدر نے امریکہ کے لئے پیدا کر دی ہیں۔ امریکہ کا اصل چیلنج اب درست آپشن چننا نہیں، بلکہ بے شمار حل طلب تنازعات کے مجموعی نتائج کو سنبھالنا ہے۔ جو کہ انتہائی مشکل ہو چکا ہے۔
یہ بات تو واضح ہو چکی ہے کہ امریکہ کا ایران پر حملہ امریکی اور اسرائیلی اثاثوں پر جوابی کارروائی کو جنم دے گا، علاقائی اتحادیوں کو جنگ میں کھینچ لائے گا، توانائی کی منڈیوں کو متاثر کرے گا اور چین کے ساتھ کشیدگی بھی بڑھ جائے گی۔ امریکہ ہر جگہ متحرک دکھائی دیتا ہے، مگر کہیں بھی مکمل کنٹرول میں نہیں ہے یہی امریکہ کی کمزوری کی دلیل ہے۔ طاقت کا پیمانہ اب حملہ کرنے کی صلاحیت نہیں، بلکہ زنجیری ردِعمل کو روکنے کی اہلیت ہے اور یہی وہ صلاحیت ہے جو واشنگٹن تیزی سے کھو رہا ہے۔
اسٹریٹجک اوورسٹریچ اچانک نہیں آتا؛ یہ بے ربطی کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے: بہت زیادہ محاذ، بہت زیادہ دشمن، اور بہت کم آپشنز۔ ایران کا سامنا کرتے ہوئے، امریکہ محض ایک ریاست سے نہیں، بلکہ ایک باہم جڑے ہوئے نیٹ ورک سے ٹکرا رہا ہے، جسے بمباری کے ذریعے تابع نہیں کیا جا سکتا بغیر اس کے کہ پورا نظام آگ میں نہ جھونک دیا جائے۔ ایران میں امریکی مخمصہ طاقت کی ناکامی نہیں، بلکہ سیاق و سباق کی ناکامی ہے۔دنیا اب اتنی باہم مربوط، ردِعمل دینے والی اور مزاحم ہو چکی ہے کہ یک طرفہ طاقت ویسے کام نہیں کر سکتی جیسے ماضی میں کرتی تھی۔
خلاصہ یہ ہے کہ ایران پر امریکی حملہ صرف ایران تک محدود نہیں رہے گا۔ یہ اسرائیل، امریکی افواج، چین کے اسٹریٹجک حساب، توانائی کی منڈیوں اور عالمی استحکام تک پھیل جائے گا۔ سوال اب یہ نہیں کہ امریکہ ایران پر حملہ کر سکتا ہے یا نہیں؛ سوال یہ ہے کہ کیا وہ اس زنجیری ردِعمل سے بچ سکے گا جو اس کے خلاف ایسا حملہ بھڑکا دے گا جس سے امریکہ بری طرح متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ پائے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ایران کے خلاف ہے کہ امریکہ عالمی نتائج عدم استحکام امریکی اور میں امریکی ساتھ ساتھ امریکہ کے امریکہ نے ایران میں نہیں بلکہ امریکہ کی کے طور پر سے زیادہ ایران پر ایران کو کہ ایران کا سامنا کی ہے کہ یہ ہے کہ حملہ کر کوشش کی جائے گی کسی بھی کرنے کی جائے گا سکتا ہے کے ساتھ گا اور دیا جا کے لئے اور اس رہا ہے چین کے چکا ہے کو جنم
پڑھیں:
عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
بین الاقوامی سیاست کے افق پر بعض لمحات ایسے طلوع ہوتے ہیں جو محض روزمرہ سفارتی سرگرمیوں کا حصہ نہیں ہوتے بلکہ تاریخ کے دھارے میں ایک معنی خیز موڑ کی حیثیت اختیار کر لیتے ہیں۔ آج مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر اسی نوع کی بے یقینی، اضطراب اور کشمکش سے دوچار ہے۔
ایک طرف جنگ کے بادل ہیں جو لبنان، غزہ اور خطے کے دیگر حساس مقامات پر مسلسل گہرے ہوتے جا رہے ہیں، دوسری طرف سفارت کاری کی وہ نحیف مگر روشن کرن بھی موجود ہے جو انسانیت کو ایک بڑے تصادم سے بچانے کی جدوجہد کر رہی ہے۔ ایسے نازک ماحول میں پاکستان کے کردار کو عالمی سطح پر ملنے والی پذیرائی نہ صرف قومی سفارت کاری کی کامیابی کا اعتراف ہے بلکہ اس حقیقت کی علامت بھی ہے کہ بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے میں پاکستان کو ایک ذمے دار، متوازن اور قابلِ اعتماد ریاست کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کالاس کی جانب سے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہنا بظاہر ایک بیان ہے، مگر اس کے مضمرات کہیں زیادہ گہرے ہیں۔ عالمی سیاست میں تعریف کے الفاظ اکثر مفادات کے پردے میں لپٹے ہوتے ہیں، لیکن جب کسی ملک کی ثالثی کی صلاحیت، اس کی قائدانہ بصیرت اور امن کے لیے اس کی سنجیدہ کوششوں کا اعتراف مختلف بین الاقوامی حلقوں سے ہونے لگے تو یہ محض سفارتی آداب نہیں رہتے بلکہ ایک نئی حقیقت کا اظہار بن جاتے ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی گزشتہ نصف صدی سے عالمی سیاست کے حساس ترین موضوعات میں شمار ہوتی رہی ہے۔
ان دونوں ممالک کے درمیان محاذ آرائی صرف دو ریاستوں کا تنازع نہیں بلکہ اس کے اثرات توانائی کی عالمی منڈیوں، بین الاقوامی تجارت، علاقائی سلامتی اور عالمی اقتصادی استحکام تک پھیل جاتے ہیں۔ ایسی صورت میں اگر پاکستان نے متعدد مواقع پر دونوں فریقوں کو جنگ کے دہانے سے واپس لانے میں کردار ادا کیا ہے تو یہ ایک ایسی کامیابی ہے جسے محض رسمی تعریف کے پیمانے سے نہیں ناپا جا سکتا۔ یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ موجودہ عالمی نظام میں طاقت کی تعریف تبدیل ہو رہی ہے۔
ماضی میں عسکری قوت کو ریاستی برتری کی سب سے بڑی علامت سمجھا جاتا تھا، مگر آج دنیا بتدریج اس نتیجے پر پہنچ رہی ہے کہ مستقل اثر و رسوخ صرف وہی ریاست حاصل کر سکتی ہے جو تنازعات کے حل میں معاون ثابت ہو، جو پل تعمیر کرے، دیواریں نہیں؛ جو رابطے پیدا کرے، فاصلے نہیں۔ پاکستان کی حالیہ سفارتی سرگرمیاں اسی نئے تصور قوت کی عکاسی کرتی ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان براہِ راست یا بالواسطہ روابط کی راہیں ہموار کرنا، مختلف سطحوں پر اعتماد سازی کے عمل کو زندہ رکھنا اور کشیدگی کو جنگ میں تبدیل ہونے سے روکنے کی کوشش کرنا درحقیقت ایک ایسی ذمے داری ہے جس کے نتائج پوری دنیا پر مرتب ہوتے ہیں۔ دوسری طرف لبنان کی صورتحال عالمی ضمیر کے لیے ایک کڑا امتحان بن چکی ہے۔
اسرائیلی حملوں، حزب اللہ کے ساتھ جاری محاذ آرائی اور علاقائی طاقتوں کی مداخلت نے اس ملک کو ایک مرتبہ پھر عدم استحکام کے بھنور میں دھکیل دیا ہے۔ لبنان ایک ایسا معاشرہ ہے جو پہلے ہی معاشی بحران، سیاسی تقسیم اور سماجی مشکلات کا شکار ہے۔ ایسے میں مسلسل عسکری کارروائیاں نہ صرف اس کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا رہی ہیں بلکہ لاکھوں شہریوں کے مستقبل کو بھی تاریکی کی طرف دھکیل رہی ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو سے رابطہ اور بیروت میں ممکنہ کارروائی کو روکنے کی کوشش اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ واشنگٹن بھی اس بحران کے ممکنہ نتائج سے پوری طرح آگاہ ہے۔ تاہم مسئلہ یہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں سفارتی بیانات اور زمینی حقائق کے درمیان ہمیشہ ایک وسیع فاصلہ موجود رہا ہے۔ ایک جانب جنگ بندی کے اعلانات ہوتے ہیں، دوسری جانب گولہ باری، فضائی حملے اور عسکری پیش قدمی جاری رہتی ہے۔ یہی تضاد عالمی سفارت کاری کی ساکھ کو مجروح کرتا ہے اور متحارب فریقوں کے درمیان عدم اعتماد کو مزید گہرا کر دیتا ہے۔
نیتن یاہو کی جانب سے جنوبی لبنان میں کارروائیاں جاری رکھنے کے اعلانات دراصل اسی پیچیدہ حقیقت کی ترجمانی کرتے ہیں۔ اسرائیل اپنی سلامتی کے نام پر عسکری اقدامات کو ناگزیر قرار دیتا ہے، جب کہ لبنان اور خطے کی دیگر قوتیں انھیں جارحیت اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتی ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ جب ہر فریق اپنی کارروائی کو دفاع اور دوسرے کے عمل کو جارحیت قرار دینے لگے تو پھر امن کا راستہ مزید دشوار ہو جاتا ہے۔ یہی وہ مرحلہ ہے جہاں بین الاقوامی اداروں اور ثالث ریاستوں کا کردار فیصلہ کن اہمیت اختیار کر لیتا ہے۔
لبنان میں ہونے والی ہلاکتوں اور زخمیوں کے اعداد و شمار محض شماریاتی معلومات نہیں بلکہ انسانی المیوں کی ایک طویل داستان ہیں۔ ہزاروں جانوں کا ضیاع اور لاکھوں انسانوں کی بے یقینی اس بات کا ثبوت ہے کہ جنگ کبھی بھی صرف فوجیوں کے درمیان نہیں ہوتی، اس کا سب سے بھاری بوجھ ہمیشہ عام شہریوں کے کندھوں پر آتا ہے۔ ایک ماں کی آغوش اجڑتی ہے، ایک بچے کا مستقبل تاریک ہوتا ہے، ایک خاندان اپنے سہارے سے محروم ہو جاتا ہے۔ افسوس یہ ہے کہ عالمی سیاست میں اکثر انسانی دکھ کو جغرافیائی مفادات کے شور میں نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔
ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ جاری مذاکراتی عمل کو معطل کرنے کی اطلاعات اسی بگڑتی ہوئی صورتحال کا منطقی نتیجہ معلوم ہوتی ہیں، اگرچہ اس حوالے سے سرکاری سطح پر مکمل وضاحت سامنے نہیں آئی، تاہم ایرانی قیادت کے بیانات واضح کرتے ہیں کہ لبنان میں جاری کارروائیاں اعتماد کے ماحول کو شدید نقصان پہنچا رہی ہیں۔
سفارت کاری کا بنیادی اصول یہ ہے کہ مذاکرات طاقت کے استعمال کا متبادل ہوتے ہیں، لیکن جب میدانِ جنگ مسلسل گرم رہے تو مذاکراتی میز پر سنجیدہ پیش رفت تقریباً ناممکن ہو جاتی ہے۔ ایران کا یہ مؤقف کہ جنگ بندی کا اطلاق تمام محاذوں پر ہونا چاہیے، بین الاقوامی اصولوں کے تناظر میں خاصی اہمیت رکھتا ہے، اگر ایک معاہدہ صرف مخصوص علاقوں تک محدود رہے اور دوسرے مقامات پر عسکری کارروائیاں جاری رہیں تو اس کی حیثیت ایک عارضی سیاسی انتظام سے زیادہ نہیں رہتی۔ اس پورے بحران نے اقوام متحدہ کے کردار پر بھی کئی سوالات اٹھا دیے ہیں۔ سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس، تشویش کے بیانات اور قراردادوں کے مسودے اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن زمینی حقائق یہ ظاہر کرتے ہیں کہ عالمی ادارے اکثر طاقتور ریاستوں کے سیاسی مفادات کے سامنے بے بس دکھائی دیتے ہیں۔
بین الاقوامی قانون کی بالادستی کا تصور اسی وقت معتبر رہ سکتا ہے جب اس کا اطلاق سب پر یکساں ہو، اگر بعض ریاستوں کے لیے ایک معیار اور دوسروں کے لیے دوسرا معیار اختیار کیا جائے تو عالمی نظام کی اخلاقی بنیادیں کمزور پڑ جاتی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے سلامتی کونسل میں اختیار کیا گیا مؤقف خاص اہمیت رکھتا ہے۔ لبنان کی صورتحال کو ایک انسانی بحران قرار دینا دراصل اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ جنگوں کو محض عسکری زاویے سے نہیں دیکھا جا سکتا۔ انسانی جانوں کا تحفظ، بنیادی حقوق کی پاسداری اور شہری آبادی کا امن ہر قسم کی سیاسی مصلحت سے بالاتر ہونا چاہیے۔
پاکستان نے مسلسل یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ تنازعات کا حل طاقت کے استعمال کے بجائے مذاکرات، سفارت کاری اور بین الاقوامی قانون کے دائرے میں تلاش کیا جانا چاہیے۔ یہی مؤقف آج خطے کی ضرورت بھی ہے اور عالمی امن کا تقاضا بھی۔ اس پوری صورتحال کو اگر وسیع تر تناظر میں دیکھا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ اس وقت ایک تاریخی دوراہے پر کھڑا ہے۔ ایک راستہ مسلسل عسکری تصادم، انتقامی کارروائیوں اور بڑھتی ہوئی نفرت کی طرف جاتا ہے۔ دوسرا راستہ مکالمے، مفاہمت اور سیاسی حل کی جانب لے جاتا ہے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ جنگ کا راستہ ہمیشہ زیادہ شور پیدا کرتا ہے جب کہ امن کی کوششیں خاموشی سے آگے بڑھتی ہیں۔ میڈیا کی شہ سرخیوں میں بمباری کی آواز زیادہ سنائی دیتی ہے، مگر سفارت کاری کی خاموش محنت اکثر نظروں سے اوجھل رہتی ہے۔
تاریخ گواہ ہے کہ جنگیں بالآخر مذاکراتی میز پر ہی ختم ہوتی ہیں۔ کوئی بھی تنازع مستقل طور پر بارود کے ذریعے حل نہیں کیا جا سکا۔ انسانی تہذیب کی بقا، اقتصادی ترقی اور عالمی استحکام کا انحصار بالآخر مکالمے پر ہی ہوتا ہے۔ آج لبنان، ایران، امریکا اور اسرائیل کے گرد گھومتا بحران اسی ابدی حقیقت کی ایک نئی یاد دہانی ہے، اگر عالمی قیادت نے دانش کا راستہ اختیار کیا تو یہ خطہ ایک اور بڑے سانحے سے بچ سکتا ہے، لیکن اگر طاقت کے استعمال کو ہی واحد حل سمجھا گیا تو اس کے نتائج صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا کو عدم استحکام کی نئی لہر کا سامنا کرنا پڑے گا۔ایسے میں پاکستان کی آواز، جو جنگ کے شور میں امن، مفاہمت اور مذاکرات کی بات کر رہی ہے، محض ایک سفارتی مؤقف نہیں بلکہ ایک اخلاقی ضرورت اور بین الاقوامی ذمے داری کی علامت بن چکی ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو تباہی کے اندھیروں سے نکل کر امن، استحکام اور مشترکہ انسانی مستقبل کی طرف لے جا سکتا ہے۔