کھرمنگ کی خوبصورت وادی کَتی شو کا ایک پرخطر مگر یادگار سفر
اشاعت کی تاریخ: 12th, January 2026 GMT
اسلام ٹائمز: سچ تو یہ ہے کہ ان کی ہمت کو سلام پیش کرنا بنتا ہے۔ اس عمر میں، اس سردی میں، اس قدر دشوار اور تھکا دینے والا سفر۔ اور وہ بھی مسکراتے چہرے کے ساتھ۔ واقعی قابلِ تحسین تھا۔ ہم آگے بڑھے تو گاڑی ایک بار پھر گفتگو کی محفل بن گئی۔ نذیر شگری صاحب، مولانا شیخ ذوالفقار انصاری اور ایڈووکیٹ شاکر ریحان کی باتوں سے ہم محظوظ ہوتے رہے۔ خاص طور پر نذیر شگری صاحب کی گفتگو سے اندازہ ہوا کہ وہ ادب کے گہرے ذوق کے حامل ہیں۔ قدیم بلتی رسم و رواج، بلتی لوک کہانیاں، روایتیں اور قصے۔ سب انہیں آج بھی اسی تازگی کے ساتھ یاد تھے جیسے کل ہی کی بات ہو۔ تحریر: آغا زمانی
صبح کے ٹھیک 8 بج کر 45 منٹ تھے کہ موبائل فون نے سردی میں ٹھٹھرے کمرے کی خاموشی توڑی۔ اسکرین پر نام جگمگا رہا تھا۔ محمد نذیر شگری صاحب۔ سلام دعا کے بعد بغیر کسی تمہید کے فرمان جاری ہوا۔ ''آغا صاحب، تیار ہو جائیں، ہم کھرمنگ جا رہے ہیں۔'' میں نے لحاف کے اندر سے ہی ایک محتاط سا سوال اچھالا۔ خیریت؟ جواب آیا۔ ''کتی شو، طورغون اور کمنگو کے سیلاب متاثرین کے لیے امدادی رقوم پہنچانی ہیں۔'' بس پھر کیا تھا۔ سیلاب زدگان کی امداد کا ذکر سن کر لحاف کی ساری محبت دم توڑ گئی۔
بلتستان میں ان دنوں سردی منفی 10 سے منفی 18 کے درمیان جھولے لے رہی تھی مگر نیت گرم ہو تو موسم کی سختی بھی ہتھیار ڈال دیتی ہے۔ میں نے فوراً کہا ''نذیر صاحب، بس بیس منٹ دیں میں حاضر ہوتا ہوں۔'' بیس منٹ میں تیاری کا عالم یہ تھا کہ لگتا تھا جیسے کوئی مہم سر کرنے جا رہا ہوں، نہ کہ سفر پر۔ گرم کپڑوں کی تہیں، مفلر، دستانے اور آخر میں خود کو آئینے میں دیکھ کر اطمینان ہوا کہ اگر راستے میں برفانی طوفان بھی آ گیا تو کم از کم سردی سے تو محفوظ رہ پاؤنگا۔
میں اسکردو اولڈینگ رنگا کے نزدیک والی مین سڑک کنارے کھڑا انتظار کر رہا تھا۔ سردی ایسی کہ سانس بھی سوچ سمجھ کر لینا پڑتا تھا۔ کچھ ہی دیر گزری تھی کہ ایک فائیو ڈور لینڈ کروزر آکر رکی، ایسی شان سے جیسے کہہ رہی ہو۔ ''بیٹھو، سفر آسان نہیں مگر یادگار ضرور ہوگا۔'' گاڑی میں موجود تھے: محمد نذیر شگری صاحب (سابق ڈپٹی ڈائریکٹر ایجوکیشن، موجودہ سیکریٹری جنرل انجمنِ امامیہ بلتستان)، مولانا شیخ ذوالفقار انصاری (نائب صدر انجمنِ امامیہ بلتستان)، شاکر ریحان ایڈووکیٹ (ایڈیشنل سیکریٹری جنرل انجمنِ امامیہ بلتستان)۔
سلام دعا کے بعد گاڑی نے رفتار پکڑی اور یوں ہمارا قافلہ حسین آباد، تھورگو، گول اور سرمیک کے مناظر سمیٹتا ہوا آگے بڑھنے لگا۔ پہاڑوں پر برف کی سفید چادر بچھی تھی، موسم بھی بہت سرد تھا اور اندر گفتگو کا موسم خاصا گرم تھا۔ کہیں تعلیمی نظام پر تبصرہ، کہیں سماجی ذمہ داریوں کا ذکر اور کہیں ہلکے پھلکے جملے جو سفر کی سختی کو قابلِ برداشت بنا رہے تھے۔ راستہ جیسے جیسے آگے بڑھتا گیا، بلتستان اپنی خوبصورتی کے نئے نئے زاویے دکھاتی گئی۔ پہاڑ خاموش تھے مگر اپنی خاموشی میں بہت کچھ کہہ رہے تھے اور دریا یوں بہہ رہا تھا جیسے ہمیں خوش آمدید کہہ رہا ہو۔
بالآخر صبح 10 بج کر 40 منٹ پر ہم مہدی آباد پہنچ گئے۔ یہاں ہماری آمد سے پہلے ہی ایک نورانی مسکراہٹ ہمارا استقبال کر رہی تھی۔ بزرگ عالمِ دین، میر واعظ ہلال آباد، صدر انجمنِ امامیہ کھرمنگ حجۃالاسلام آغا سید علی موسوی منتظر تھے۔ یوں محسوس ہوا جیسے سفر کی پہلی منزل نہیں بلکہ دعاؤں کی دہلیز پر قدم رکھ دیا ہو۔ مہدی آباد میں مختصر سی ملاقات، گرم جوشی بھری دعاؤں اور چند رسمی جملوں کے بعد قافلے میں آغا سید علی موسوی بھی ہمارے ساتھ گاڑی میں سوار ہوئے اور یوں سفر نے نہ صرف افراد بلکہ رنگ بھی بڑھا لیے۔ گاڑی نے کتی شو سے آگے کا رخ کیا اور ہم ایک ایسی دنیا کی طرف بڑھنے لگے جہاں راستے کم اور مناظر زیادہ ہوتے ہیں۔
لینڈ کروزر اب گبلونگ (جسے اب بڑے پیار سے غدیر ٹاؤن کہا جاتا ہے) سے گزرتی ہوئی اوپر کی طرف چڑھنے لگی۔ سڑک کچی تھی مگر مناظر اتنے پکے کہ دل وہیں کا وہیں رہ جائے۔ دائیں جانب ایک صاف شفاف نالہ ہمارے ساتھ ساتھ چل رہا تھا جیسے کوئی وفادار دوست ہو جو یہ کہہ رہا ہو۔۔ ''فکر نہ کریں، میں ہوں نا''۔ سفر نہایت خوشگوار انداز میں گزر رہا تھا۔ محترم نذیر شگری صاحب کو دیکھ کر یوں محسوس ہوتا تھا جیسے وہ انسان نہیں بلکہ واقعات کی چلتی پھرتی انسائیکلوپیڈیا ہوں۔
ایک واقعہ ختم نہیں ہوتا تھا کہ دوسرا حاضر اور کمال یہ کہ ہر واقعے میں کہیں نہ کہیں ایسا مزاح چھپا ہوتا کہ ہنسی خود بخود راستہ بنا لیتی۔ ان کی اس برجستگی نے مولانا شیخ ذوالفقار انصاری کو بھی گفتگو پر آمادہ کر لیا۔ یوں دینی بصیرت میں ہلکی سی ظرافت شامل ہو گئی۔ وہی مزاح جو مسکرا کر سوچنے پر مجبور کر دے۔ پھر ایڈووکیٹ شاکر ریحان بھی میدان میں اتر آئے اور قانونی نکتوں کو ایسے پیرائے میں بیان کیا کہ گاڑی میں موجود ہر شخص خود کو کسی فکری محفل کا حصہ سمجھنے لگا۔
ان سب کے درمیان قبلہ آغا سید علی موسوی کی حکیمانہ گفتگو ایسی تھی جیسے شور میں سکون۔ ان کے الفاظ میں دانائی تھی، لہجے میں ٹھہراؤ اور باتوں میں وہ روحانیت جو سفر کو عبادت کا رنگ دے دے۔ یوں محسوس ہو رہا تھا کہ ہم صرف کتی شو نہیں جا رہے بلکہ خود کو بھی کسی اندرونی سفر پر لیے جا رہے ہیں۔ جوں جوں گاڑی بلندی کی طرف بڑھتی جا رہی تھی، ساتھ بہنے والا شفاف نالہ اور زیادہ حسین ہوتا جا رہا تھا۔ صاف شفاف پانی دھوپ میں یوں چمک رہا تھا جیسے کسی نے پہاڑوں کے درمیان دودھ کی ندی بہا دی ہو۔ کبھی یوں لگتا کہ نالہ ہمیں راستہ دکھا رہا ہے اور کبھی یوں کہ وہ خود اس سفر سے لطف اندوز ہو رہا ہے۔
کتی شو وادی کو یونین کا درجہ حاصل ہے۔ یہ کوئی ایک گاؤں نہیں بلکہ پندرہ، سولہ چھوٹے بڑے دیہات کا حسین مجموعہ ہے۔ یہاں کے اہم محلے اور گاؤں شموئیل، دپہ، طولتی بروق، کتی شو خاص اور دیگر بستیاں اس وادی کے جسم میں دھڑکتے دل کی مانند ہیں۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق یہاں ڈھائی ہزار کے قریب ووٹرز ہیں، جو اس وادی کی سماجی اور سیاسی اہمیت کو واضح کرتے ہیں۔ یہاں کی آبادی کی ایک بڑی تعداد روزگار کے سلسلے میں ملک سے باہر ہے۔ کوئی مشرقِ وسطیٰ میں، کوئی یورپ میں۔ سب حلال رزق کی تلاش میں۔ جبکہ کئی افراد سکردو، لاہور اور دیگر شہروں میں کاروبار سے وابستہ ہیں۔ گویا کتی شو کے لوگ جسمانی طور پر کہیں بھی ہوں، دل اب بھی اسی وادی کی مٹی میں دھڑکتا ہے۔
بلتستان وہ خطہ ہے جسے اللہ تعالیٰ نے حسن کے معاملے میں دل کھول کر نوازا ہے۔ پہاڑ، وادیاں، نالے، برف اور خاموشی۔ سب مل کر ایسا منظرنامہ رچاتے ہیں کہ انسان بار بار سبحان اللہ کہنے پر مجبور ہو جائے۔ ہمارے سفر کو ابھی کوئی آدھا گھنٹہ ہی گزرا تھا کہ چاروں طرف برف ہی برف نظر آنے لگی۔ ہر شے سفید چادر اوڑھے ایسے معلوم ہوتی تھی جیسے قدرت نے اس وادی کو خاص تقریب کے لیے سجا دیا ہو۔
منظر بے حد دلکش تھا اور گاڑی کے اندر گفتگو بھی پوری آب و تاب سے جاری تھی۔ کوئی واقعہ سنا رہا تھا، کوئی مسکرا رہا تھا اور کوئی خاموشی سے باہر کے حسن کو دل میں اتار رہا تھا۔ اچانک اس فکری محفل میں ایڈووکیٹ شاکر ریحان کی آواز بلند ہوئی، جس میں مزاح کم اور حقیقت زیادہ تھی۔ ''ہمیں آنے سے پہلے حالات کی خبر کرکے ہی آنا چاہیئے تھا''۔ یہ جملہ سن کر میں نے چونک کر سڑک کی طرف توجہ کی۔ ایک نظر میں ہی دل نے وہ حرکت کی جو عموماً امتحان کے نتیجے سے پہلے ہوتی ہے۔ سڑک پر جمی برف صرف برف نہیں رہی تھی بلکہ پتھر بن چکی تھی۔ ایسی برف جس پر گاڑی کا ذرا سا بھی عدم توازن، سفر کو خبر بنانے کے لیے کافی ہو سکتا تھا۔ اس لمحے میری بھی ہوائیاں اڑنے لگیں اور دل ہی دل میں دعا نے خود بخود زبان سنبھال لی۔
اسی اثنا میں ماحول کی سنجیدگی کو بھانپتے ہوئے مولانا شیخ ذوالفقار انصاری نے ایک واقعہ سنایا جو بظاہر ہنسانے کے لیے تھا مگر حقیقت میں ہمارے دل کی کیفیت کا آئینہ تھا۔ انہوں نے بتایا کہ ایک مرتبہ ان کا اور ایک اور عالمِ دین کا کھرمنگ کے آخری گاؤں جو محاذ ایریا کا بھی آخری کنارہ تھا ایک میلاد میں جانا ہوا۔ فرماتے تھے کہ کئی گھاٹیوں اور دشوار راستوں سے گزر کر جب وہ بالآخر اوپر کی آبادی میں پہنچے تو باری آئی اس عالم کے خطاب کی۔ خطاب شروع ہوا تو انہوں نے سامعین کی طرف دیکھ کر فرمایا۔ ''میرا اس گاؤں سے واپس جانے کا بالکل دل نہیں کر رہا، دل چاہتا ہے کہ یہیں رک جاؤں''۔
لوگ سمجھے شاید قدرتی حسن نے دل موہ لیا ہے مگر موصوف نے فوراً وضاحت کر دی۔ ''میں یہ بات اس علاقے کی خوبصورتی کی وجہ سے نہیں کہہ رہا بلکہ یہاں تک پہنچنے کا راستہ اتنا خطرناک تھا کہ مجھے واپس جانے سے خوف آ رہا ہے''۔ یہ واقعہ سنتے ہی گاڑی میں ایک لمحے کے لیے خاموشی چھا گئی، پھر ہلکی سی مسکراہٹ پھیل گئی۔۔ ایسی مسکراہٹ جس میں خوف بھی شامل تھا اور خود پر ہنسی بھی۔ حقیقت یہ تھی کہ ہم سب کی حالت بھی کتی شو جاتے ہوئے کچھ ایسی ہی ہو چکی تھی۔ دل کہتا تھا۔۔ اللہ خیر کرے اور آنکھیں کہتی تھیں۔۔ منظر کتنا حسین ہے۔ یوں بلتستان کا حسن ایک بار پھر اپنی پرانی عادت پر قائم تھا۔ خوبصورتی دکھا کر دل موہ لینا اور راستوں کی سختی سے حوصلے آزمانا۔
اس علاقے کے باسیوں نے ایک ایسا نیکی کا کام کر رکھا تھا جس کی قدر ہم جیسے مسافر ہی خوب سمجھ سکتے تھے۔ سڑک پر جہاں گاڑی کے ٹائر پڑتے ہیں وہاں مٹی بچھا دی گئی تھی تاکہ جمی ہوئی برف پر گاڑی پھسلنے نہ پائے۔ یہ چھوٹی سی تدبیر اس پرخطر راستے میں ہمارے لیے کسی بڑے معجزے سے کم نہ تھی۔ اللہ اللہ کرتے، دعاؤں کے سائے میں ہم بالآخر دن بارہ بجے گاؤں کتی شو خاص پہنچ ہی گئے۔ یہاں پہنچ کر اندازہ ہوا کہ سردی بھی درجوں میں تقسیم ہوتی ہے۔ سکردو میں ہم جس سردی کو شدید سمجھ رہے تھے، وہ یہاں آ کر گویا ہلکی سی خنکی بن گئی۔ ہم سب نے پوری تیاری کر رکھی تھی۔ کپڑوں کے نیچے تھرمل سوٹ، اوپر موٹی جیکٹس، پاؤں میں اونی جرابیں اور گرم جوتے۔ سکردو میں یہی سامان ہمیں کافی لگ رہا تھا مگر کتی شو خاص میں پہنچ کر حالت یہ ہو گئی کہ ہاتھ پاؤں سن ہوتے محسوس ہونے لگے۔ یوں لگا جیسے سردی سیدھی ہڈیوں سے بات کر رہی ہو۔
ہم تقریباً بارہ ہزار فٹ کی بلندی پر تھے اور درجہ حرارت منفی 24 ڈگری کے آس پاس۔ اتنی بلندی پر پہنچ کر احساس ہوا کہ ہم پہاڑوں کے درمیان نہیں بلکہ پہاڑوں کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔ بعض چوٹیاں تو یوں محسوس ہو رہی تھیں جیسے ہم سے بھی نیچے ہوں۔ چاروں طرف برف کی چاندنی پھیلی ہوئی تھی۔ خاموش، سفید اور پرہیبت۔ گاؤں کی گلیوں سے گزرنا بھی کسی مہم سے کم نہ تھا۔ زمین پر جمی برف ایسے چمک رہی تھی جیسے کسی نے برف کی ٹائلیں بچھا دی ہوں۔ قدم ذرا سا غلط پڑتا تو آدمی چلنے کے بجائے پھسلتا ہوا نظر آتا۔ اس وادی میں زندگی واقعی آسان نہیں۔
یہاں کے لوگوں نے ہمیں بتایا کہ ہم اتنی بلندی پر ہیں کہ جب برف باری ہوتی ہے تو یہ گاؤں شہر سے بالکل کٹ کر رہ جاتا ہے۔ بعض گھرانے تو احتیاطاً چھے چھے مہینے کا راشن جمع کر کے رکھتے ہیں کیونکہ یہاں موسم وعدہ نہیں کرتا، اچانک امتحان لے لیتا ہے۔ ہمارا وفد ایک کمیونٹی ہال میں مقامی سیلاب متاثرین کے ساتھ بیٹھا۔ ماحول سادہ تھا مگر آنکھوں میں بہت کچھ کہہ جانے والی کہانیاں تھیں۔ متاثرین میں امدادی رقوم تقسیم کی گئیں۔ یہ کوئی بڑی رقم نہ تھی مگر خلوص ایسا تھا جو سردی کی شدت کو بھی نرم کر دے۔ اس کے بعد ہم اس گھر گئے جہاں ایک خاتون پہاڑی تودے کی زد میں آکر جان بحق ہو گئی تھیں۔
وفد نے مرحومہ کے شوہر اور بیٹوں سے تعزیت کی، ان کے غم میں شریک ہوئے اور مرحومہ کی مغفرت کے لیے فاتحہ خوانی کی۔ اس لمحے وہاں موجود خاموشی بہت بامعنی تھی۔ ایسی خاموشی جس میں صبر، دکھ اور دعا سب شامل تھے۔ اسی کتی شو خاص میں ہمارے لیے کھانے کا بھی اہتمام کیا گیا تھا۔ مقامی روایت کے مطابق وفد کی بلتی مشہور ڈش ''مار زان'' سے تواضع کی گئی۔ شدید سردی، تھکن اور طویل سفر کے بعد یہ سادہ مگر محبت بھرا کھانا کسی نعمت سے کم نہ لگا۔ وقت نے اجازت مانگی اور دن ایک بجے ہم نے واپسی کے لیے مہدی آباد کا رخ کیا۔ پیچھے کتی شو خاص رہ گیا۔
کہتے ہیں چڑھائی مشکل ہوتی ہے، مگر ہمیں جلد ہی احساس ہو گیا کہ اترائی اس سے کہیں زیادہ خطرناک ہوتی ہے۔ واپسی کا سفر شروع ہوا تو برف جمی سڑکیں ہمیں پہلے سے زیادہ خوفناک نظر آنے لگیں۔ اترتے وقت پھسلن کا خطرہ دوچند ہو چکا تھا اور سڑک کی حالت یہ تھی کہ اگر سامنے سے کوئی گاڑی آجاتی تو فیصلہ سڑک نہیں بلکہ قسمت کرتی کہ کون پہلے گزرے گا۔ ایسے نازک موقع پر اللہ نے ہمیں ایک نعمت عطا کر رکھی تھی۔ برادر شاہد علی کی صورت میں۔ وہ واقعی ایک منجھے ہوئے اور بااعتماد ڈرائیور ثابت ہوئے۔
ہاتھ اسٹیئرنگ پر تھا، نگاہ راستے پر اور دل میں شاید ہر موڑ پر ایک خاموش دعا۔ خطرناک موڑ، تنگ راستے اور جمی برف۔ شاہد علی نے غیر معمولی احتیاط سے ہمیں سب آزمائشوں سے بحفاظت گزار لیا۔ اسی دوران نذیر شگری صاحب نے اپنے مخصوص طنزیہ اور فکری انداز میں فرمایا کہ ان سڑکوں کو رسکی اور پرخطر بنانے میں ہمارے بعض انجینئرز کی محنتِ شاقہ بھی شامل ہے۔ ان کے بقول اگر انجینئر حضرات ذرا سی مہارت اور دیانت سے کام لیتے تو یہ راستے بھی محفوظ ہو سکتے تھے۔ بات میں تلخی کم اور حقیقت زیادہ تھی جس پر سب نے خاموشی سے سر ہلا کر تائید کی۔
ابھی یہ گفتگو چل ہی رہی تھی کہ ایڈووکیٹ شاکر ریحان کی آواز گاڑی میں گونجی۔ ''آغا صاحب، شکر ہے ہم خیریت سے بحفاظت پرسکون جگہ پہنچ چکے ہیں۔'' یہ سنتے ہی جیسے دل کا بوجھ اتر گیا۔ سب نے مل کر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا۔ اسی لمحے مولانا شیخ ذوالفقار انصاری نے بڑے سادہ مگر گہرے انداز میں بات کہی جو دل کو لگ گئی۔ ''ہمارے اس سفر کا مقصد نیک تھا، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے بھی ہم پر رحم فرمایا۔'' یہ جملہ سن کر یوں محسوس ہوا جیسے اس پورے سفر کی تھکن اور دشواریوں کی ایک ہی سطر میں وضاحت ہوگئی ہو۔
واقعی اگر نیت صاف ہو تو راستے خود بخود آسان ہو جاتے ہیں۔ ہم سب خاموشی سے اس بات پر دل ہی دل میں آمین کہتے رہے اور گاڑی روک کر باہر نکل آئے۔ قریب ہی جو صاف شفاف ندی بہہ رہی تھی اس کے کنارے ایک ایسا مقام تھا جہاں پانی جم کر آئس ٹوپا کی صورت اختیار کر چکا تھا۔ ہم سب اس قدرتی حسن کے سامنے ٹھہر گئے۔ یہ جگہ واقعی کسی جنت کے ٹکڑے سے کم نہ لگ رہی تھی۔ وہیں کھڑے ہو کر گروپ فوٹوز بنوائے گئے۔ تصویریں جو بعد میں یادوں کی گرمی بننے والی تھیں۔ یہ خوبصورت مقام مہدی آباد کے سیرلنگ علاقے سے متصل ہے۔
اس کے بعد ہم مہدی آباد مدرسہ محمدیہ پہنچے جہاں نمازِ ظہرین ادا کی۔ روح کو ایک اور طرح کا سکون ملا۔ وہاں سے ہم کمنگو روانہ ہوئے جہاں طورغون کے سیلاب متاثرین پہلے ہی ہمارے منتظر تھے۔ انجمنِ امامیہ بلتستان کے رہنماؤں نے یہاں بھی متاثرین میں امدادی رقوم تقسیم کیں۔ چہروں پر شکرگزاری اور آنکھوں میں امید کی جھلک دیکھ کر سفر کی ساری تھکن کم محسوس ہونے لگی۔ یہاں سے واپسی کا سفر سکردو کی طرف شروع ہوا۔ قبلہ آغا سید علی موسوی ہلال آباد پر اتر گئے۔
سچ تو یہ ہے کہ ان کی ہمت کو سلام پیش کرنا بنتا ہے۔ اس عمر میں، اس سردی میں، اس قدر دشوار اور تھکا دینے والا سفر۔ اور وہ بھی مسکراتے چہرے کے ساتھ۔ واقعی قابلِ تحسین تھا۔ ہم آگے بڑھے تو گاڑی ایک بار پھر گفتگو کی محفل بن گئی۔ نذیر شگری صاحب، مولانا شیخ ذوالفقار انصاری اور ایڈووکیٹ شاکر ریحان کی باتوں سے ہم محظوظ ہوتے رہے۔ خاص طور پر نذیر شگری صاحب کی گفتگو سے اندازہ ہوا کہ وہ ادب کے گہرے ذوق کے حامل ہیں۔ قدیم بلتی رسم و رواج، بلتی لوک کہانیاں، روایتیں اور قصے۔ سب انہیں آج بھی اسی تازگی کے ساتھ یاد تھے جیسے کل ہی کی بات ہو۔ یوں لگتا تھا کہ ہم سفر نہیں کر رہے بلکہ بلتستان کی تاریخ کے اوراق پلٹ رہے ہیں۔ اسی گفتگو، یادوں اور شکر کے احساس کے ساتھ شام چھے بجے ہم سکردو پہنچ گئے۔ یہ سفر ختم ہوا مگر اس کی کہانی دل میں ہمیشہ کے لیے محفوظ ہو گئی۔ ایک خطرناک مگر یادگار سفرنامے کی صورت۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: مولانا شیخ ذوالفقار انصاری آغا سید علی موسوی امامیہ بلتستان یوں محسوس ہو کتی شو خاص نہیں بلکہ کے درمیان تھا جیسے گاڑی میں ہوتی ہے اس وادی دیکھ کر تھا اور رہی تھی کے ساتھ رہا تھا کے بعد کی طرف کی بات سفر کی تھی کہ تھا کہ کے لیے ہوا کہ ہو گئی
پڑھیں:
بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
بھارتی شہر کولکتہ کے علاقے لیک ٹاؤن میں نصب فٹبال لیجنڈ لیونل میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ مقامی رہائشیوں کی شکایات کے بعد ہٹا دیا گیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق شہریوں کا کہنا تھا کہ تیز ہواؤں کے دوران یہ دیوقامت ڈھانچہ ہلتا محسوس ہوتا تھا جس سے حفاظتی خطرات پیدا ہو رہے تھے۔
میسی کا یہ مجسمہ گزشتہ سال دسمبر میں نصب کیا گیا تھا اور اسے 2022 فیفا ورلڈ کپ کے فاتح کپتان کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے تیار کیا گیا تھا۔
مجسمے میں ارجنٹائن کے سپر اسٹار کو ورلڈ کپ ٹرافی تھامے ہوئے دکھایا گیا تھا جو ان کی تاریخی کامیابی کی یادگار کے طور پر بنایا گیا تھا۔
یہ یادگار میسی کے مداحوں کی جانب سے ان کے بھارت کے دورے کے موقع پر وی آئی پی روڈ کے کنارے قائم کی گئی تھی۔
View this post on Instagramتاہم حالیہ دنوں میں مقامی افراد نے انتظامیہ کو آگاہ کیا کہ تیز ہوا چلنے پر مجسمہ معمولی طور پر جھولتا نظر آتا ہے جس سے راہگیروں اور قریبی آبادی کے لیے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔
حکام نے عوامی تحفظ کو مدنظر رکھتے ہوئے مجسمے کو عارضی طور پر ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ اس کے مستقبل کے بارے میں تاحال کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا۔