ایران نے داخلی امور میں بیرونی مداخلت کو مسترد کردیا، برطانوی، فرانسیسی، اٹلی اور جرمنی کے سفیروں طلب
اشاعت کی تاریخ: 12th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
تہران: ایران نے اپنے داخلی امور میں کسی بھی بیرونی مداخلت کو مسترد کرتے ہوئے حالیہ داخلی صورتحال پر فیکٹ شیٹ جاری کی ہے، ایرانی سفارتخانے کی جانب سے جاری کی گئی فیکٹ شیٹ میں حالیہ واقعات کو صرف اندرونی معاملہ قرار دیا گیا ہے۔
ایرانی سفارتخانے کے مطابق عوام کے جان و مال کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح ہےاور بعض واقعات کو جان بوجھ کر غلط انداز میں پیش کیا جا رہا ہے، سکیورٹی ادارے صورتحال پر مکمل نظر رکھے ہوئے ہیں اور قانون کی عملداری کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
ایران نے اس کے علاوہ برطانیہ، فرانس، اٹلی اور جرمنی کے سفیروں کو وزارت خارجہ طلب کیا، جہاں انہیں ایرانی مظاہروں کے دوران مسلح فسادیوں کی ویڈیوز دکھائی گئیں، ایرانی حکام نے ان ممالک کے سفیروں سے کہا کہ وہ ایرانی مظاہرین کی حمایت کرنا بند کریں اور ایران کے داخلی معاملات میں مداخلت سے گریز کریں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق غیر ملکی سفیروں کو ایک اور ویڈیو بھی دکھائی گئی، جس میں امریکی ریاست منی سوٹا میں امریکی امیگریشن اہلکار کی خاتون پر فائرنگ اور صدر ٹرمپ کے اس پر حمایت کے بیان کو شامل کیا گیا، ایران نے اس ویڈیو کے ذریعے بھی امریکی پالیسیوں کی تنقید کی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ایران نے
پڑھیں:
’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران پر اب تک کے سب سے بڑے فوجی حملے کی منظوری دینے کے قریب ہیں۔
امریکی خبر رساں ادارے سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں ایران پر ایک بہت بڑے حملے پر غور کر رہا ہوں جو پہلے ہونے والے تمام حملوں سے کہیں بڑا ہوگا۔
انھوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ تمام عسکری آپشنز زیر غور ہیں۔ میں فیصلہ کرنے کے بہت قریب ہوں اور اس کی تمام تیاریاں بھی مکمل ہیں۔
امریکی صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اگر وہ چاہیں تو اسرائیل دو منٹ میں اس کارروائی میں شامل ہو جائے گا تاہم ہمیں کسی کی ضرورت نہیں۔
قبل ازیں ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کے بحیرہ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں پر حملے کے بعد امریکی صدر نے ایران اور حوثیوں دونوں کو بڑی فوجی سزا دینے کی دھمکی بھی دی تھی۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ اگر حوثیوں نے دوبارہ ایسے حملے کیے تو امریکا انھیں ایران کی کارروائی تصور کرے گا کیونکہ حوثی اس کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔
دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہے۔
بحیرہ احمر اور باب المندب میں جہاز رانی کو لاحق خطرات نے عالمی توانائی منڈی میں تشویش بڑھا دی ہے۔
ادھر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ خطہ مسلسل وسیع ہوتے تصادم کی لپیٹ میں آ رہا ہے۔ ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے اور ہر نئی کشیدگی اگلی کشیدگی کا سبب بن رہی ہے۔