جھارکھنڈ: جنگلی ہاتھی نے نو دنوں میں 20 افراد کو ہلاک کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 12th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
جھارکھنڈ: بھارتی ریاست جھارکھنڈ کے مغربی ضلع میں ایک جنگلی ہاتھی نے نو دنوں کے اندر 20 افراد کی جان لے کر علاقے میں خوف و ہراس پھیلا دیا ہے۔
بین لاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ خوفناک واقعات یکم جنوری سے 9 جنوری کے درمیان پیش آئے ہیں، جس دوران ہاتھی نے مختلف دیہاتوں میں شہریوں کو کچل کر مار ڈالا۔
جھارکھنڈ کا یہ علاقہ گھنے جنگلات سے گھرا ہوا ہے جہاں ایشیائی ہاتھی انسانی آبادکاری کے ساتھ مل جل کر رہتے ہیں۔ اس علاقے میں کھیت کھلیان اور آبادیاں بھی ہیں، اور لوگوں کا جنگل میں آنا جانا معمول کا حصہ ہے، تاہم اس بار ایک نر ہاتھی بدمست ہو کر انسانوں کو اپنا نشانہ بنا رہا ہے، جس کے باعث پورے علاقے میں خوف کی لہر دوڑ گئی ہے۔
حکام کے مطابق اس نر ہاتھی کی نوعیت غیر معمولی ہے کیونکہ یہ نوجوان اور انتہائی پھرتیلا ہے اور زیادہ تر رات کے وقت اپنے مقام بدلتا رہتا ہے، جس کی وجہ سے اس کا پتہ لگانا اور اسے پکڑنا بہت مشکل ہوگیا ہے، اس وقت 100 سے زائد فاریسٹ اہلکار، ٹریکرز اور ریسکیو ٹیمیں اس ہاتھی کی تلاش میں مصروف ہیں اور پورے علاقے کو ہائی الرٹ پر رکھا گیا ہے۔
ڈویژنل فارسٹ آفیسر کلدیپ مینا نے اس واقعے کو انتہائی غیر معمولی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ پہلی بار ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں ہلاکتوں میں صرف ایک ہی نر ہاتھی ملوث ہو۔
سب سے دل دہلا دینے والا واقعہ 5 جنوری کو پیش آیا جب ہاتھی کے حملے میں ایک خاندان کے تین افراد جان کی بازی ہار گئے۔ کندرا نامی ایک شخص اور ان کے دو بچے، 6 اور 8 سالہ، ہاتھی کی زد میں آ کر مارے گئے، جبکہ کندرا کی اہلیہ اور دو سالہ بچی خوش قسمتی سے جان بچانے میں کامیاب ہو گئیں۔
ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ چندن کمار نے بتایا کہ زیادہ تر اموات رات کے وقت ہوئیں جب لوگ چاول کی فصل کی حفاظت کے لیے کھیتوں میں یا اپنے گھروں کے باہر سو رہے تھے، اس دوران ہاتھی ان پر حملہ آور ہو گیا اور انھیں کچل دیا۔
اس خوفناک صورتحال کے بعد علاقے میں جنگل میں جانے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے اور حکام عوام کو ہدایات دے رہے ہیں کہ وہ اس علاقے میں سفر کرنے سے اجتناب کریں تاکہ مزید جانی نقصان سے بچا جا سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: علاقے میں
پڑھیں:
فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک، آئی ایس پی آر
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) سے جاری بیان کے مطابق سیکیورٹی فورسز(security forces) نے 24 مئی 2026 کو پیش آنے والے ریل حادثے کے بعد خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر بلوچستان کے اضلاع مستونگ، نوشکی، زہری، خضدار اور کیچ میں کارروائیاں کیں۔
بیان میں کہا گیا کہ ان کارروائیوں کے دوران سیکیورٹی اہلکاروں نے دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا اور شدید فائرنگ کے تبادلوں کے دوران بھارتی اسپانسرڈ فتنۃ الہندوستان کے 17 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا اور ان علاقوں میں سرگرم دہشت گردی کے نیٹ ورکس کو بڑا دھچکا پہنچایا ہے۔
آئی ایس پی آر نے بتایا کہ بھارتی اسپانسرڈ ہلاک دہشت گردوں کے زیرقبضہ ہتھیار، باردو اور بڑے پیمانے دھماکا خیز مواد اور مواد تیار کرنے کی ڈیوائسز برآمد کرلی گئیں۔
بیان میں بتایا گیا کہ ہلاک دہشت گرد بلوچستان کے ان علاقوں میں دہشت گردی کے کئی اہم واقعات میں ملوث رہے تھے۔
مزید پڑھیں:پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی کھپت میں 23 فیصد کمی
آئی ایس پی آر نے مزید بتایا کہ علاقے سے دہشت گردوں کے صفایا کرنے کے لیے سینیٹائزیشن آپریشن جاری ہے، سیکیورٹی فورسز اور پاکستان کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی عزم استحکام وژن کے تحت دہشت گردی کے خاتمہ کی مہم پوری رفتار سے جاری رہے گی تاکہ ملک سے بیرونی اسپانسرڈ اور تعاون سے جاری دہشت گردی کے ناسور کا مکمل خاتمہ ہو۔