سندھ حکومت نے مینڈیٹ پر ڈاکاڈالا،،وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی
اشاعت کی تاریخ: 13th, January 2026 GMT
اپنے لیڈر عمران خان سے ملنا چاہتا ہوں کسی نے نہیں سنی،جب دیوار سے لگایا جاتا ہے تو احتجاج کا آپشن ہی بچتا ہے، آئین و قانون کے ساتھ کھلواڑ ہو رہا ہے، انصاف برائے فروخت نہیں ہونا چاہیے
سندھیوں کا دل بڑا ہے جو مہمانوں کو عزت دیتے ہیں لیکن سندھ حکومت نے مہمانوں کے ساتھ اچھا نہیں کیا،ہائیکورٹ میں خطاب، مزار قائد پر حاضری، کارکنوں سے ملاقاتوں کے بعددورہ اختتام پذیر
وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کے سندھ کے چار روزہ دورے کے آخری دن کا آغاز مزارِ قائد پر حاضری سے ہوا۔ وزیر اعلیٰ پی ٹی آئی کی مرکزی و صوبائی قیادت کے ہمراہ مزارِ قائد پہنچے جہاں انہوں نے فاتحہ خوانی کی اور پھولوں کی چادر چڑھائی۔ اس موقع پر پی ٹی آئی کے سیکریٹری جنرل بیریسٹر سلمان اکرم راجہ، پی ٹی آئی سندھ کے صدر حلیم عادل شیخ، عمر ڈار، ریحانہ ڈار، نعیم حیدر پنجوتہ، شفیع جان، شوکت بسرا، محمد علی بلوچ اور دیگر رہنما بھی موجود تھے۔مزارِ قائد پر تاثراتی نوٹ میں وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے کہا کہ بانی? پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کے افکار آج بھی پاکستان کے لیے مشعلِ راہ ہیں، ضرورت اس امر کی ہے کہ قوم اور ریاستی ادارے قائداعظم کے اصولوں پر عمل کریں تاکہ ملک آئینی راستے پر آگے بڑھے۔بعد ازاں وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا پی ٹی آئی قیادت کے ہمراہ سندھ ہائی کورٹ پہنچے جہاں سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کی جانب سے ان کا پرتپاک استقبال کیا گیا۔ تقریب کا آغاز تلاوتِ قرآن پاک کے بعد قومی ترانے سے ہوا۔ صدر سندھ ہائی کورٹ بار ایڈووکیٹ محمد حسیب جمالی نے وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کو اجرک، سندھی ٹوپی اور اعزازی شیلڈ پیش کی۔سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے کہا کہ انہیں خوشی ہے کہ وہ وکلاء برادری سے براہِ راست گفتگو کر رہے ہیں۔ انہوں نے سندھ کے عوام کو بہادر، جرئتمند اور مہمان نواز قرار دیتے ہوئے کہا کہ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ موجودہ سندھ حکومت نے مہمانوں کے ساتھ مناسب رویہ اختیار نہیں کیا اور سندھی ثقافت کی علامت اجرک اور ٹوپی کی بھی عزت نہیں رکھی۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ آج ملک میں آئین و قانون کے ساتھ کھلواڑ ہو رہا ہے، اداروں کو کمزور کیا جا رہا ہے اور اس کا خمیازہ پورا پاکستان بھگت رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی آئی اے جیسے قومی ادارے نیلام کر دیے گئے جبکہ انصاف کو بھی خرید و فروخت کی شے بنا دیا گیا ہے، حالانکہ انصاف کبھی برائے فروخت نہیں ہونا چاہیے۔انہوں نے انکشاف کیا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے تین ججز نے انہیں عمران خان سے ملاقات کی اجازت دی، مگر ایک جیل سپرنٹنڈنٹ نے عدالتی حکم کو ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا۔ وزیر اعلیٰ کے مطابق یہ ان کی ذاتی توہین نہیں بلکہ عدلیہ اور وکلاء کے مقدس پیشے کی بے توقیری ہے۔سہیل آفریدی نے کہا کہ آئین پاکستان شہری کو تمام حقوق دیتا ہے، مگر جب تمام راستے بند کر دیے جائیں تو احتجاج کے سوا کوئی راستہ نہیں بچتا۔ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے بطور وزیر اعلیٰ وزیر اعظم، پنجاب کے وزیر اعلیٰ، سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کو بھی خط لکھا، مگر نہ ملاقات ممکن ہو سکی اور نہ ہی جواب دیا گیا۔وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا نے کہا کہ عمران خان پاکستان کے مقبول ترین لیڈر ہیں اور حقیقی آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ جب تک وکلاء کھڑے نہیں ہوں گے، عدلیہ آزاد نہیں ہو سکتی۔ انہوں نے سندھ ہائی کورٹ بار کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ ملک کی ہر بڑی آئینی تحریک میں سندھ ہائیکورٹ کے وکلاء صفِ اول میں رہے ہیں۔انہوں نے وکلاء کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر آئین و قانون کی بالادستی کے لیے تحریک شروع کی گئی تو وہ خود سب سے آگے کھڑے ہوں گے، اور اگر وکلاء پر گولی چلائی گئی تو پہلے ان پر گولی چلانا پڑے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ زندگی اور موت اللہ کے ہاتھ میں ہے، اس لیے حق کے لیے ڈرنے کی کوئی گنجائش نہیں۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ان کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جا رہا ہے، حتیٰ کہ ان کا سرکاری پاسپورٹ بھی بلاک کیا گیا، جو ساڑھے چار کروڑ عوام کے ساتھ زیادتی کے مترادف ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پی ٹی آئی کی جدوجہد ہمیشہ پرامن رہی ہے، بندوق نہیں اٹھانی، قلم اور آئین کا ساتھ دینا ہے۔ملک کی معاشی صورتحال پر بات کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے کہا کہ پاکستان شدید معاشی بحران کا شکار ہے، نوجوان ملک چھوڑ کر جا رہے ہیں، 45 فیصد سے زائد آبادی غربت کی لکیر سے نیچے ہے اور بے روزگاری کی شرح خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے، مگر حکمرانوں کو صرف اپنی حکومت بچانے کی فکر ہے، عوام کی نہیں۔انہوں نے کہا کہ عمران خان کی جانب سے اسٹریٹ موومنٹ کا پیغام آیا ہے اور وہ یہ پیغام لے کر عوام اور بالخصوص وکلاء کے پاس آئے ہیں تاکہ آئین و قانون کی بحالی کے لیے متحد ہو کر جدوجہد کی جائے۔وکلاء سے پی ٹی آئی کے سیکریٹری جنرل بیریسٹر سلمان اکرم راجہ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج وہ خود کو سندھ ہائی کورٹ بار میں اپنے گھر میں محسوس کر رہے ہیں اور وہ زندگی بھر کالے کوٹ کی حرمت کو برقرار رکھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی آئین و قانون کی بات کرتی ہے، ہم انسان ہیں اور اس دھرتی پر ہمارے آئینی حقوق ہیں، مگر آج ملک بھر میں اظہارِ رائے سمیت تمام آئینی حقوق پر حملہ ہو رہا ہے۔بیریسٹر سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ سپریم کورٹ کوئی مقبرہ نہیں کہ ہم مجاور بن جائیں۔ انہوں نے کہا کہ کراچی سمیت پورے ملک میں عوام کے ووٹ پر ڈاکا ڈالا گیا، مگر آج عوام کی آواز اٹھ رہی ہے اور کوئی طاقت اسے دبا نہیں سکتی۔انہوں نے بتایا کہ جب وہ حیدرآباد گئے تو ان کے راستے روکے گئے، مگر تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی آئین پاکستان پر حملہ ہوا ہے تو سب سے پہلی مضبوط آواز سندھ ہائی کورٹ بار نے بلند کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ محمد حسیب جمالی کا صدر منتخب ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ وکلاء بیدار ہیں۔بیریسٹر سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ ووٹ لوٹا جائے، عدلیہ پر حملہ ہو اور وکلاء خاموش رہیں۔ یہ روایت وکلاء کی نہیں۔ انہوں نے کہا کہ وکلاء کی سیاسی وابستگی کچھ بھی ہو، مگر آئین کے تقدس کے لیے سب کو کھڑا ہونا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ اس ملک میں پہلا حق غریب ہاری کا ہے، ہم بلوچستان اور خیبرپختونخوا کے مظلوم عوام کے ساتھ کھڑے ہیں اور پورے ملک کے عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں۔ بیریسٹر سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ ہم سب نے مل کر اس ملک کو جبر، ناانصافی اور آئین شکنی سے آزاد کرنا ہے۔صدر سندھ ہائی کورٹ بار محمد حسیب جمالی نے کہا کہ سندھ وکلاء کی دھرتی ہے، جہاں ہمیشہ آئین، قانون اور جمہوری اقدار کے لیے آواز بلند کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ وکلاء کسی فرد یا جماعت کے نہیں بلکہ رول آف لا کے ساتھ کھڑے ہیں، اور عدلیہ کو کمزور کرنے والی کسی بھی ترمیم کو قبول نہیں کیا جائے گا۔صدر کراچی بار ایسوسی ایشن عامر نواز وڑائچ نے کہا کہ بار ایسوسی ایشنز سیاسی وابستگی سے بالاتر ہو کر آئین کی بالادستی کے لیے جدوجہد کر رہی ہیں اور جب تک آئین اپنی اصل شکل میں بحال نہیں ہوتا، وکلاء کی تحریک جاری رہے گی۔تقریب کے بعد وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی پی ٹی آئی سندھ کے صدر حلیم عادل شیخ کے ہمراہ پی ٹی آئی کراچی ڈویژن کے سینئر نائب صدر فہیم خان کی رہائش گاہ پہنچے جہاں پی ٹی آئی کراچی کے صدر راجہ اظہر، جنرل سیکریٹری ارسلان خالد، ترجمان پی ٹی آئی سندھ محمد علی بلوچ اور دیگر رہنماؤں سے ملاقات کی۔ سیاسی مقدمات میں قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنے والے اسیرانِ تحریک انصاف، انصاف لائرز فورم اور وومن ونگ کی نمائندگان سے بھی ملاقاتیں کی گئیں۔بعد ازاں وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کراچی ایٔرپورٹ سے بذریعہ پرواز پشاور روانہ ہو گئے، یوں ان کا سندھ کا چار روزہ دورہ اختتام پذیر ہوا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: بیریسٹر سلمان اکرم راجہ نے خیبرپختونخوا سہیل ا فریدی سہیل ا فریدی نے کہا کہ سندھ ہائی کورٹ بار انہوں نے کہا کہ ہوئے کہا کہ نے کہا کہ ا بار ایسوسی وزیر اعلی پی ٹی ا ئی کرتے ہوئے وکلاء کی رہے ہیں ہیں اور نہیں ہو عوام کے کے ساتھ سندھ کے رہا ہے ہے اور کے لیے
پڑھیں:
سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو
راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) علیمہ خان کا سہیل آفریدی کو مشورہ، کہا سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔(جاری ہے)
علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔ علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔