Juraat:
2026-07-24@03:12:47 GMT

سندھ حکومت نے مینڈیٹ پر ڈاکاڈالا،،وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی

اشاعت کی تاریخ: 13th, January 2026 GMT

سندھ حکومت نے مینڈیٹ پر ڈاکاڈالا،،وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی

اپنے لیڈر عمران خان سے ملنا چاہتا ہوں کسی نے نہیں سنی،جب دیوار سے لگایا جاتا ہے تو احتجاج کا آپشن ہی بچتا ہے، آئین و قانون کے ساتھ کھلواڑ ہو رہا ہے، انصاف برائے فروخت نہیں ہونا چاہیے
سندھیوں کا دل بڑا ہے جو مہمانوں کو عزت دیتے ہیں لیکن سندھ حکومت نے مہمانوں کے ساتھ اچھا نہیں کیا،ہائیکورٹ میں خطاب، مزار قائد پر حاضری، کارکنوں سے ملاقاتوں کے بعددورہ اختتام پذیر

وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کے سندھ کے چار روزہ دورے کے آخری دن کا آغاز مزارِ قائد پر حاضری سے ہوا۔ وزیر اعلیٰ پی ٹی آئی کی مرکزی و صوبائی قیادت کے ہمراہ مزارِ قائد پہنچے جہاں انہوں نے فاتحہ خوانی کی اور پھولوں کی چادر چڑھائی۔ اس موقع پر پی ٹی آئی کے سیکریٹری جنرل بیریسٹر سلمان اکرم راجہ، پی ٹی آئی سندھ کے صدر حلیم عادل شیخ، عمر ڈار، ریحانہ ڈار، نعیم حیدر پنجوتہ، شفیع جان، شوکت بسرا، محمد علی بلوچ اور دیگر رہنما بھی موجود تھے۔مزارِ قائد پر تاثراتی نوٹ میں وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے کہا کہ بانی? پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کے افکار آج بھی پاکستان کے لیے مشعلِ راہ ہیں، ضرورت اس امر کی ہے کہ قوم اور ریاستی ادارے قائداعظم کے اصولوں پر عمل کریں تاکہ ملک آئینی راستے پر آگے بڑھے۔بعد ازاں وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا پی ٹی آئی قیادت کے ہمراہ سندھ ہائی کورٹ پہنچے جہاں سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کی جانب سے ان کا پرتپاک استقبال کیا گیا۔ تقریب کا آغاز تلاوتِ قرآن پاک کے بعد قومی ترانے سے ہوا۔ صدر سندھ ہائی کورٹ بار ایڈووکیٹ محمد حسیب جمالی نے وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کو اجرک، سندھی ٹوپی اور اعزازی شیلڈ پیش کی۔سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے کہا کہ انہیں خوشی ہے کہ وہ وکلاء برادری سے براہِ راست گفتگو کر رہے ہیں۔ انہوں نے سندھ کے عوام کو بہادر، جرئتمند اور مہمان نواز قرار دیتے ہوئے کہا کہ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ موجودہ سندھ حکومت نے مہمانوں کے ساتھ مناسب رویہ اختیار نہیں کیا اور سندھی ثقافت کی علامت اجرک اور ٹوپی کی بھی عزت نہیں رکھی۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ آج ملک میں آئین و قانون کے ساتھ کھلواڑ ہو رہا ہے، اداروں کو کمزور کیا جا رہا ہے اور اس کا خمیازہ پورا پاکستان بھگت رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی آئی اے جیسے قومی ادارے نیلام کر دیے گئے جبکہ انصاف کو بھی خرید و فروخت کی شے بنا دیا گیا ہے، حالانکہ انصاف کبھی برائے فروخت نہیں ہونا چاہیے۔انہوں نے انکشاف کیا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے تین ججز نے انہیں عمران خان سے ملاقات کی اجازت دی، مگر ایک جیل سپرنٹنڈنٹ نے عدالتی حکم کو ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا۔ وزیر اعلیٰ کے مطابق یہ ان کی ذاتی توہین نہیں بلکہ عدلیہ اور وکلاء کے مقدس پیشے کی بے توقیری ہے۔سہیل آفریدی نے کہا کہ آئین پاکستان شہری کو تمام حقوق دیتا ہے، مگر جب تمام راستے بند کر دیے جائیں تو احتجاج کے سوا کوئی راستہ نہیں بچتا۔ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے بطور وزیر اعلیٰ وزیر اعظم، پنجاب کے وزیر اعلیٰ، سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کو بھی خط لکھا، مگر نہ ملاقات ممکن ہو سکی اور نہ ہی جواب دیا گیا۔وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا نے کہا کہ عمران خان پاکستان کے مقبول ترین لیڈر ہیں اور حقیقی آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ جب تک وکلاء کھڑے نہیں ہوں گے، عدلیہ آزاد نہیں ہو سکتی۔ انہوں نے سندھ ہائی کورٹ بار کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ ملک کی ہر بڑی آئینی تحریک میں سندھ ہائیکورٹ کے وکلاء صفِ اول میں رہے ہیں۔انہوں نے وکلاء کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر آئین و قانون کی بالادستی کے لیے تحریک شروع کی گئی تو وہ خود سب سے آگے کھڑے ہوں گے، اور اگر وکلاء پر گولی چلائی گئی تو پہلے ان پر گولی چلانا پڑے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ زندگی اور موت اللہ کے ہاتھ میں ہے، اس لیے حق کے لیے ڈرنے کی کوئی گنجائش نہیں۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ان کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جا رہا ہے، حتیٰ کہ ان کا سرکاری پاسپورٹ بھی بلاک کیا گیا، جو ساڑھے چار کروڑ عوام کے ساتھ زیادتی کے مترادف ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پی ٹی آئی کی جدوجہد ہمیشہ پرامن رہی ہے، بندوق نہیں اٹھانی، قلم اور آئین کا ساتھ دینا ہے۔ملک کی معاشی صورتحال پر بات کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے کہا کہ پاکستان شدید معاشی بحران کا شکار ہے، نوجوان ملک چھوڑ کر جا رہے ہیں، 45 فیصد سے زائد آبادی غربت کی لکیر سے نیچے ہے اور بے روزگاری کی شرح خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے، مگر حکمرانوں کو صرف اپنی حکومت بچانے کی فکر ہے، عوام کی نہیں۔انہوں نے کہا کہ عمران خان کی جانب سے اسٹریٹ موومنٹ کا پیغام آیا ہے اور وہ یہ پیغام لے کر عوام اور بالخصوص وکلاء کے پاس آئے ہیں تاکہ آئین و قانون کی بحالی کے لیے متحد ہو کر جدوجہد کی جائے۔وکلاء سے پی ٹی آئی کے سیکریٹری جنرل بیریسٹر سلمان اکرم راجہ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج وہ خود کو سندھ ہائی کورٹ بار میں اپنے گھر میں محسوس کر رہے ہیں اور وہ زندگی بھر کالے کوٹ کی حرمت کو برقرار رکھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی آئین و قانون کی بات کرتی ہے، ہم انسان ہیں اور اس دھرتی پر ہمارے آئینی حقوق ہیں، مگر آج ملک بھر میں اظہارِ رائے سمیت تمام آئینی حقوق پر حملہ ہو رہا ہے۔بیریسٹر سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ سپریم کورٹ کوئی مقبرہ نہیں کہ ہم مجاور بن جائیں۔ انہوں نے کہا کہ کراچی سمیت پورے ملک میں عوام کے ووٹ پر ڈاکا ڈالا گیا، مگر آج عوام کی آواز اٹھ رہی ہے اور کوئی طاقت اسے دبا نہیں سکتی۔انہوں نے بتایا کہ جب وہ حیدرآباد گئے تو ان کے راستے روکے گئے، مگر تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی آئین پاکستان پر حملہ ہوا ہے تو سب سے پہلی مضبوط آواز سندھ ہائی کورٹ بار نے بلند کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ محمد حسیب جمالی کا صدر منتخب ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ وکلاء بیدار ہیں۔بیریسٹر سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ ووٹ لوٹا جائے، عدلیہ پر حملہ ہو اور وکلاء خاموش رہیں۔ یہ روایت وکلاء کی نہیں۔ انہوں نے کہا کہ وکلاء کی سیاسی وابستگی کچھ بھی ہو، مگر آئین کے تقدس کے لیے سب کو کھڑا ہونا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ اس ملک میں پہلا حق غریب ہاری کا ہے، ہم بلوچستان اور خیبرپختونخوا کے مظلوم عوام کے ساتھ کھڑے ہیں اور پورے ملک کے عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں۔ بیریسٹر سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ ہم سب نے مل کر اس ملک کو جبر، ناانصافی اور آئین شکنی سے آزاد کرنا ہے۔صدر سندھ ہائی کورٹ بار محمد حسیب جمالی نے کہا کہ سندھ وکلاء کی دھرتی ہے، جہاں ہمیشہ آئین، قانون اور جمہوری اقدار کے لیے آواز بلند کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ وکلاء کسی فرد یا جماعت کے نہیں بلکہ رول آف لا کے ساتھ کھڑے ہیں، اور عدلیہ کو کمزور کرنے والی کسی بھی ترمیم کو قبول نہیں کیا جائے گا۔صدر کراچی بار ایسوسی ایشن عامر نواز وڑائچ نے کہا کہ بار ایسوسی ایشنز سیاسی وابستگی سے بالاتر ہو کر آئین کی بالادستی کے لیے جدوجہد کر رہی ہیں اور جب تک آئین اپنی اصل شکل میں بحال نہیں ہوتا، وکلاء کی تحریک جاری رہے گی۔تقریب کے بعد وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی پی ٹی آئی سندھ کے صدر حلیم عادل شیخ کے ہمراہ پی ٹی آئی کراچی ڈویژن کے سینئر نائب صدر فہیم خان کی رہائش گاہ پہنچے جہاں پی ٹی آئی کراچی کے صدر راجہ اظہر، جنرل سیکریٹری ارسلان خالد، ترجمان پی ٹی آئی سندھ محمد علی بلوچ اور دیگر رہنماؤں سے ملاقات کی۔ سیاسی مقدمات میں قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنے والے اسیرانِ تحریک انصاف، انصاف لائرز فورم اور وومن ونگ کی نمائندگان سے بھی ملاقاتیں کی گئیں۔بعد ازاں وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کراچی ایٔرپورٹ سے بذریعہ پرواز پشاور روانہ ہو گئے، یوں ان کا سندھ کا چار روزہ دورہ اختتام پذیر ہوا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: بیریسٹر سلمان اکرم راجہ نے خیبرپختونخوا سہیل ا فریدی سہیل ا فریدی نے کہا کہ سندھ ہائی کورٹ بار انہوں نے کہا کہ ہوئے کہا کہ نے کہا کہ ا بار ایسوسی وزیر اعلی پی ٹی ا ئی کرتے ہوئے وکلاء کی رہے ہیں ہیں اور نہیں ہو عوام کے کے ساتھ سندھ کے رہا ہے ہے اور کے لیے

پڑھیں:

کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری

پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔

انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔

متعلقہ مضامین

  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • اہم ٹیلیفونک رابطہ، پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کھڑا، سہیل آفریدی پر الزام، مریم نواز اور بلاول کے ایک دوسرے پر تابڑ توڑ حملے
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • حکومت مساجد و مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان بنائے، شاہ عبدالحق قادری
  • مریم نواز کا اربن فلڈنگ اور سیلاب سے نمٹنے کے لیے وسائل بروئے کار لانے کا حکم
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • مون سون کا طاقتورسپیل ، جھل تھل ایک ہوگیا،2 وکلاء کے چیمبر گرگئے
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
  • سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن