عدالت نے درختوں کی کٹائی اور تراش خراش پر پابندی عاید لگا دی
اشاعت کی تاریخ: 13th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) لاہور ہائیکورٹ نے درختوں کی کٹائی پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ضلع بھر میں درختوں کی کٹائی اور تراش خراش پر فوری طور پر پابندی عائد کر دی۔لاہورہائیکورٹ نے غیر مجاز طور پر کسی بھی درخت کی کٹائی پر مکمل پابندی عائد کی، عدالت کی طرف سے پی ایچ اے کے تمام ڈائریکٹرز کو احکامات پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ایم ڈی پی ایچ اے لاہور نے پابندی سے متعلق مراسلہ جاری کر دیا، جس کے مطابق درختوں کی شاخوں کی معمولی کٹائی، تراش خراش یا پروننگ بھی پیشگی تحریری اجازت کے بغیر نہیں کی جا سکتی۔مراسلے کے مطابق بجلی کے تاروں کی کلیئرنس، حفاظتی اقدامات یا خوبصورتی کی بحالی کے لیے بھی اجازت درکار ہوگی۔ماحولیاتی تحفظ اور شہری ہریالی کے فروغ کیلئے درختوں کا تحفظ ناگزیر ہے، کسی قسم کی خلاف ورزی پر متعلقہ قوانین کے تحت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔مراسلہ ہارٹیکلچر ایجنسی لاہور کے تمام ڈائریکٹرز، پراجیکٹ ڈائریکٹرز اور انچارج افسران کو جاری کیا گیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
لندن کے میئر سر صادق خان(sadiq khan) نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو آن لائن دنیا میں درپیش خطرات اور نقصانات سے بچانے کے لیے یہ ایک ضروری اقدام ہے۔
منگل کو لندن میں انجینئرز، کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں سے خطاب کے دوران صادق خان نے کہا کہ جس طرح خوراک اور ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی حفاظت ثابت کرنا پڑتی ہے، اسی طرح سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی اپنے پلیٹ فارمز کے بچوں کے لیے محفوظ ہونے کا ثبوت دینا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک سوشل میڈیا کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز کی حفاظت ثابت نہیں کرتیں، اس وقت تک کم عمر بچوں کے لیے ان پر پابندی عائد کرنا ہی نقصانات کو روکنے کا مؤثر طریقہ ہے۔
میئر نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ آن لائن مینوسفیئر نامی رجحان نوجوان لڑکوں اور مردوں پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے، جس سے ایک کھوئی ہوئی نسل پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔
یہ مؤقف برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر کے مؤقف سے زیادہ سخت سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ وزیر اعظم نے بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے اہم اقدامات کا وعدہ کیا ہے، تاہم انہوں نے ابھی تک سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی حمایت نہیں کی۔
برطانوی حکومت نے حال ہی میں بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق ایک مشاورتی عمل مکمل کیا ہے، جس میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر مقرر کرنے، ایپس کے استعمال کے اوقات محدود کرنے، لا محدود اسکرولنگ اور آٹو پلے جیسی عادت ساز خصوصیات پر پابندی لگانے اور عمر کی تصدیق کے سخت نظام متعارف کرانے جیسے اقدامات پر رائے طلب کی گئی تھی۔
مزید پڑھیں:نیشنل ہیلتھ سروسز کیلئے 22 ارب روپے کا بجٹ مختص، اہم تفصیلات سامنے آگئیں
مشاورت کے نتائج کی بنیاد پر حکومت بچوں کے تحفظ کے لیے آئندہ پالیسی اور قانون سازی کے حوالے سے فیصلے کرے گی۔