وزیر اعلیٰ ہو تو سہیل آفریدی جیسا
اشاعت کی تاریخ: 13th, January 2026 GMT
سہیل آفریدی صاحب نے کیا نصیب پایا ہے، سوچتا ہوں اور رشک آتا ہے۔ خدا شاہد ہے معلوم انسانی تاریخ میں ایسا ’حیرت ناک‘ حکمران کبھی نہیں آیا، نہ عثمان بزدار سے پہلے، نہ گنڈا پور کے بعد۔ یہ صرف قافلہ انقلاب کا نصیب ہے جس کی گود بھرائی میں قدرت نے ایسے جواں بخت ڈال دیے ہیں۔
ہر حکمران کی کوشش ہوتی ہے کہ کچھ نہ کچھ کارکردگی ضرور دکھائے تا کہ لوگ کسی حد تک مطمئن ہوں۔ یہ صرف قافلہ انقلاب کے سورما ہیں جو کارکردگی نام کے کسی بھی تکلف سے یکسر بے نیاز ہیں۔ کوئی یاد کروا دے تو وہ الہڑ عمر کی بے نیازی سے کہتے ہیں کہ ہمارے ووٹر تو ہم سے کارکردگی کا پوچھتے ہی نہیں۔ ہم تو صرف خان صاحب کو رہا کروانے آئے ہیں۔
خان صاحب کو رہا کروانے میں ان کی بصیرت کے کمالات یہ ہیں کہ رہائی تو دور کی بات ہے، صاحب ملاقات تک نہیں فرما سکے۔ گنڈا پور تھے تو اڈیالہ کے اسیر سے ان کی ملاقات ہو جایا کرتی تھی۔ آفریدی صاحب نے آتے ہی عثمانی سلطانوں کی طرح وہ رجز پڑھے کہ وہ ملاقاتیں بھی قصہ ماضی ہو گئیں۔ وہ غلیلیں ہی ٹوٹ گئیں جن سے خلیل خان فاختہ اڑایا کرتے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: جنریشن زی سوال ہی تو نہیں اٹھاتی
اب عالم یہ ہے کہ کے پی کی وزارت عالیہ اپنے صوبے میں کم دکھائی دیتی ہے اور اومنی بس کی طرح پشاور سے اڈیالہ، اڈیالہ سے لاہور اور لاہور سے کراچی کے روٹ پر دوڑتی پھرتی ہے اور اعلان عام کرتی جاتی ہے کہ : روٹ ہمراہ ہے۔
نہ کارکردگی کا کوئی چیلنج ہے نہ جواب دہی کا خطرہ، بانکے میاں عشق عمران میں سرسوں کی طرح لہلاتے ہوئے جاتے ہیں، گرجتے ہیں، کڑکتے ہیں، برستے ہیں اور رجز سنا کر دلوں کو گرماتے چلے جاتے ہیں۔ ان کے میمنہ و میسرہ پر کتنے ہی زباں بکف جنگجو ہیں، بولتے ہیں تو سماج آتش فشاں کی زد میں آ جاتا ہے۔
صوبے میں کیا ہو رہا ہے ان کی بلا سے۔ مقامی حکومتوں کے کیا شکوے ہیں ان کے دشمن جانیں۔ لوگ کس حال میں، ان کو پرواہ نہیں۔ 62 فی صد سکولوں میں ٹوائلٹس نہیں اور 58 فیصد اسکول پینے کے پانی سے محروم ہیں تو ان کی جانے بلا۔ بے روزگاری کی شرح سارے ملک سے زیادہ یہاں ہے تو انہیں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ صوبے پر بیرونی قرضہ 723 ارب تک جا پہنچے یہ مزے میں ہیں، اس قرض میں صرف ایک سال میں 28 فی صد اضافہ ہو جائے یہ ان کا درد سر ہی نہیں۔
وہ سب سے بے نیاز، اپنے بانکوں کے ہمراہ سرکاری پروٹوکول میں دوسرے صوبوں کے مطالعاتی دورے پر ہیں۔ جس حادثے نے انہیں مسند پر بٹھایا اس حادثے کو وہ حیرت کدے کی طرح دیکھتے ہیں، مسکراتے ہیں، آنکھیں ملتے ہیں اور پھر مسکرا دیتے ہیں۔ ان کا ہر روز، روز عید ہے اور ہر رات شب برات ۔ یہ قافلہ انقلاب کو لے کر پکنک پر نکلے ہوئے ہیں۔ اپنے صوبے میں یہ بیرونی دورے پر تشریف لاتے ہیں۔
ان کے کارکنان بھی انسانی تاریخ کا حیرت کدہ ہیں۔ وہ کوئی سوال ہی نہیں پوچھتے۔ وہ کوئی مطالبہ ہی نہیں کرتے۔ ان کی نظر میں گڈ گورننس بس ایک غیر ضروری تکلف ہے۔ سوشل میڈیا پر ان کی جبلتوں کی تسکین ہو جائے، وہ اسی ہنگامہ ہاؤ ہُو پر راضی ہیں۔ خوشی ہو یا غم ، می رقصم کی کیفیت ان پر ٹھہر گئی ہے۔ ایک وزیر اعلیٰ آتا ہے تو می رقصم صدا دیتا ہے دیکھا میرے کپتان کی بصیرت کو، رستم کو لے آیا۔ وہی وزیر اعلیٰ گھر بھیج دیا جاتا ہے تو قافلہ می رقصم سے صدا آتی ہے واہ میرے کپتان، تیرے ماسٹر اسٹروک پر قربان، تو نے اس کم ہمت کو گھر بھیج دیا۔ ان کا ہر وزیر اعلیٰ حیرت کی طرح آتا ہے اور برف کی مانند تحلیل ہو جاتا ہے۔ یہ اپنی حیرتوں میں بھی ‘ می رقصم’ ہوتے ہیں اور تحلیل ہوتی برف میں بھی۔
مزید پڑھیے: سہیل آفریدی لاہور کیا کرنے گئے تھے؟
پلاننگ اور ترقی ان کے نزدیک شاید ایک فضول چیز ہے۔ ان کے ابن خلدون نے اپنے تربیتی کورس میں انہیں بتا رکھا ہے کہ قومیں سڑکیں بنانے سے نہیں بنتیں۔ تعمیر میں وقت لگتا ہے اور وقت ان کے پاس نہیں ہے۔ محنت اور گڈ گورننس ان کے خیال میں پٹواریوں کا کام ہے۔ اسڑک بنانے سے بہتر ہے ایکس پر ٹرینڈ بنائے جائیں۔ ایک ایشو کھڑا کرو، اس جھوٹ کے ملبے کو رات تک سچائی کا تاج محل بنا کر سرخرو ہو جاؤ۔ پوسٹ ٹروتھ میں ان کے کمالات پر آئینہ بھی حیرتی ہے۔
مزید پڑھیں: بابر اعظم کو کنگ کیوں کہا جاتا ہے؟
اب آپ دل پر ہاتھ رکھیے اور بتائیے، پارلیمانی جمہوریت کی معلوم انسانی تاریخ میں ایسا جواں بخت وزیر اعلیٰ آپ نے پہلے کبھی دیکھا یا سنا جو کچھ نہ کر کے بھی معتبر ہو، جس کا صرف وزیر اعلیٰ بن جانا ہی رستم و سہراب سے بڑی شجاعت قرار دی جائے۔ جس کی آنیاں جانیاں دیکھ کر ہی کارکن ‘ یا قربان’ کے نعرے لگاتے ہوں، جو آدھی رات کو سیاہ چشمے لگا کر دوسرے صوبوں کے وزرائے اعلیٰ کو ان کے صوبے میں جا کر ہیڈ ماسٹروں کی طرح ڈانٹ پلاتا ہو اور انہیں سمجھاتا ہو کہ کیا ہوا تم نے بہت ترقی کر لی، ترقی کر لینے سے قومیں تھوڑی بنتی ہیں۔
ایسا کہاں سے لائیں کہ ان سا کہیں جسے؟
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آصف محمود انگریزی ادب اور قانون کے طالب علم ہیں۔ پیشے سے وکیل ہیں اور قانون پڑھاتے بھی ہیں۔ انٹر نیشنل لا، بین الاقوامی امور، سیاست اور سماج پر ان کی متعدد کتب شائع ہوچکی ہیں۔
سہیل آفریدی اور بانکے عثمان بزدار علی امین گنڈاپور عمران خان کالا چشمہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: سہیل ا فریدی اور بانکے علی امین گنڈاپور کالا چشمہ وزیراعلی خیبرپختونخوا سہیل ا فریدی وزیر اعلی ہیں اور ہی نہیں جاتا ہے کی طرح ہے اور
پڑھیں:
سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
پاکستان نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی آئل ٹینکر پر حملے اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی کو درپیش خطرات کی پرزور الفاظ میں مذمت کی ہے اور سعودی عرب کی سلامتی و خودمختاری کے لیے اپنی مکمل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے جمعرات کو سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ٹیلی فونک رابطہ کر کے بحرِ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حوثی ملیشیا کے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔وزیراعظم نے حملے کو بزدلانہ اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ ”ایسے اقدامات قطعی ناقابلِ قبول ہیں. یہ بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں، جہاز رانی اور تجارتی نقل و حمل کی آزادی کے لیے خطرہ ہیں اور علاقائی امن، سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچاتے ہیں“۔وزیراعظم نے سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں خود، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور پوری پاکستانی قوم اس نازک وقت میں سعودی قیادت اور مملکت کے برادر عوام کے ساتھ مضبوطی اور عزم کے ساتھ کھڑے ہیں۔انہوں نے مزید یقین دہانی کرائی کہ پاکستان مملکت سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت کرتا ہے اور بحرِ احمر، آبنائے ہرمز اور خطے میں سمندری تجارت کی روانی کو یقینی بنانے کے لیے عالمی برادری اور سعودی عرب کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا۔گفتگو کے دوران سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے پاکستان کی اس مستقل حمایت اور دونوں ممالک کے درمیان قائم قریبی برادرانہ تعلقات کی تعریف کی۔ اس موقع پر وزیراعظم پاکستان نے خادمِ حرمین شریفین، شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے لیے بھی نیک خواہشات اور خیر سگالی کے جذبات کا اظہار کیا۔
دوسری جانب، دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”گزشتہ ہفتے بھی حوثیوں کی جانب سے حملہ کیا گیا تھا. جس کی وزیراعظم پاکستان نے فوری مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا تھا“۔طاہر اندرابی نے کہا کہ ہمارے بحری جہازوں پر حملہ ریڈلائن ہوگی. ہم سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور سعودی عرب کے ساتھ تمام معاہدوں کی پاسداری کریں گے۔انہوں نے خبردار کیا کہ یمن کے مسلح گروہوں کی جانب سے سعودی عرب پر ایسے حملے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں، اس لیے پاکستان تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور مسائل کا پرامن حل سفارتی راستے سے نکالنے کی اپیل کرتا ہے۔خطے میں امن قائم کرنے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان نے اپنی سفارتی رفت و آمد میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔ترجمان کے مطابق حال ہی میں ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے پاکستان کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے وزیراعظم، فیلڈ مارشل اور وفاقی وزیر داخلہ سمیت اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کیں تاکہ علاقائی سیکیورٹی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔اس کے علاوہ پاکستان اور کویت کے وزرائے خارجہ کے درمیان رابطہ ہوا، جبکہ منیلا میں آسیان ریجنل فورم کے موقع پر نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے مصر، عمان، فلپائن، روس اور بنگلہ دیش کے وزرائے خارجہ سے الگ الگ اہم ملاقاتیں کیں۔ان ملاقاتوں کی تفصیل بتاتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ ”مصر کے وزیر خارجہ سے ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے تمام ممالک کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کے احترام پر زور دیا، جبکہ عمان کے وزیر خارجہ نے خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور امن و استحکام کے لیے پاکستان کے سفارتی کردار کو سراہا“۔اس کے ساتھ ساتھ روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ خلیل الرحمان سے بھی باہمی تعلقات اور تعاون کو آگے بڑھانے پر بات چیت کی گئی۔ترجمان دفترِ خارجہ نے مزید بتایا کہ پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اب شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے وزرائے خارجہ کونسل اجلاس میں شرکت کے لیے بشکیک پہنچیں گے. جہاں ان کی کرغزستان کے صدر اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں متوقع ہیں۔ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند نے بھی حال ہی میں پاکستان کا دورہ کیا ہے، جو گزشتہ بیس سالوں میں کسی کینیڈین وزیر خارجہ کا پہلا دورہ تھا اور اس دوران دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کی مضبوطی کے لیے اعلیٰ سطح پر بات چیت کی گئی۔