ملک کے پسماندہ علاقوں میں پاک فوج عوامی خدمت میں پیش پیش
اشاعت کی تاریخ: 13th, January 2026 GMT
پاک فوج کے بھرپور تعاون سےمستوج، شمالی وزیرستان اور آزاد کشمیر میں فری میڈیکل کیمپس کا انعقاد کیا گیا۔
انکے علاوہ کریلا سیکٹر، کوٹلی، باغ اور دتہ خیل میں بھی منعقدہ فری میڈیکل کیمپس میں پاک فوج کے قابل اور ماہر ڈاکٹرز موجود تھے۔
میڈیکل کیمپس میں مستند اور ماہر ڈاکٹرز نے مردوں، خواتین اور بچوں کا تفصیلی اور مفت طبی معائنہ کیا۔
موسمِ سرما کی شدت کے باعث علاقے میں پھیلنے والی موسمی بیماریوں کے تدارک کیلئے ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل اسٹاف نے بھرپور خدمات انجام دیں۔ پاک فوج کے زیرِ اہتمام قائم میڈیکل کیمپس سے بڑی تعداد میں علاقہ مکینوں نے استفادہ حاصل کیا
پاک فوج کی معاونت سے منعقدہ میڈیکل کیمپس میں مریضوں کو مفت ادویات بھی فراہم کی گئیں۔ مقامی آبادیوں نے پاک فوج کے اس فلاحی اقدام کو سراہتے ہوئے عوامی صحت کے فروغ کیلئے احسن کاوش قرار دیا۔
فری میڈیکل کیمپ پاک فوج کی عوامی خدمت اورصحت مند معاشرے کے قیام کے عزم کا مظہر ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: میڈیکل کیمپس پاک فوج کے
پڑھیں:
سندھ میں مٹی کے طوفان نے تباہی مچا دی، 46 گرڈ اسٹیشن بند، درجنوں شہر اندھیرے میں ڈوب گئے
سکھر:سندھ کے مختلف اضلاع میں آنے والی شدید آندھی، مٹی کے طوفان اور موسلا دھار بارش نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی۔
مورو میں طوفانی ہواؤں کے باعث گھروں، دکانوں، ہوٹلوں اور سرکاری و نیم سرکاری عمارتوں کی چھتوں پر نصب سولر پلیٹیں اور سائن بورڈ اکھڑ کر دور جا گرے جبکہ متعدد مقامات پر درخت اور بجلی کی تاریں بھی زمین بوس ہوگئیں۔
ریسکیو ذرائع کے مطابق مختلف حادثات میں کم از کم پانچ افراد زخمی ہوئے جنہیں فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا۔
کئی علاقوں میں شہری خوف و ہراس کا شکار رہے جبکہ طوفان کے باعث معمولات زندگی شدید متاثر ہوئے۔
دوسری جانب لاڑکانہ، شکارپور، دادو اور گرد و نواح میں خراب موسمی صورتحال کے باعث بجلی کا ترسیلی نظام بھی بری طرح متاثر ہوا۔
سیپکو حکام کے مطابق شدید آندھی اور بارش کے نتیجے میں 220 کے وی گرڈ اسٹیشن لوڈرا، شکارپور اور دادو سے آنے والی 132 کے وی مین سپلائی متاثر ہوگئی جس کے باعث لاڑکانہ سرکل کے متعدد فیڈرز بند ہوگئے۔
سیپکو کنٹرول سینٹر کے مطابق طوفانی موسم سے 220 کے وی اور 132 کے وی کی متعدد اہم ٹرانسمیشن لائنیں ٹرپ کر گئیں جبکہ کئی مقامات پر ٹاورز، پولز اور بجلی کی لائنوں کو نقصان پہنچا ہے۔
صورتحال کے باعث مجموعی طور پر 46 گرڈ اسٹیشنز متاثر ہوئے جس سے لاڑکانہ، قمبر، شہدادکوٹ، کشمور، کندھکوٹ، گھوٹکی، خیرپور، نوشہروفیروز، مورو اور دیگر علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل یا شدید متاثر ہوگئی۔
سیپکو کے چیف ایگزیکٹو آفیسر انجینئر اعجاز احمد چنہ کی ہدایات پر آپریشن، کنسٹرکشن، جی ایس او اور فیلڈ ٹیموں کو ہنگامی بنیادوں پر متحرک کر دیا گیا ہے۔
انجینئرز اور تکنیکی عملہ متاثرہ علاقوں میں مرمتی کاموں میں مصروف ہے اور خراب ہونے والے پولز، ٹاورز اور ٹرانسمیشن لائنوں کی بحالی کا عمل جاری ہے۔
سیپکو حکام کا کہنا ہے کہ ادارہ اپنے تمام دستیاب وسائل استعمال کرتے ہوئے بجلی کی جلد بحالی کے لیے کام کر رہا ہے تاہم شدید موسمی حالات کے باعث مرمتی سرگرمیوں میں مشکلات کا سامنا ہے۔
متاثرہ علاقوں کے صارفین سے صبر و تحمل کی اپیل کرتے ہوئے یقین دلایا گیا ہے کہ بجلی کی فراہمی جلد از جلد بحال کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے۔