امریکا نے اپنے تمام شہریوں سے ایران چھوڑنے کی ہدایت کر دی
اشاعت کی تاریخ: 13th, January 2026 GMT
امریکا نے اپنے شہریوں کو ایران چھوڑنے کی ہدایت کر دی۔
ایران میں امریکا کے ورچوئل سفارت خانے نے اپنے شہریوں کو ایران چھوڑنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک بھر میں ہونے والے احتجاج شدت اختیار کر رہے ہیں اور یہ تشدد میں بدل سکتے ہیں۔
سفارت خانے نے امریکی شہریوں کو مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر ممکن ہو تو زمینی راستے سے آرمینیا یا ترکیہ کے ذریعے ایران چھوڑ دیں اور ایسے انتظامات کریں جن میں امریکی حکومت کی مدد پر انحصار نہ ہو۔
امریکی سفارت خانے کی جانب سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ جو افراد ایران چھوڑنا نہیں چاہتے وہ کسی محفوظ جگہ پر گھر کے اندر رہیں اور احتجاجی سرگرمیوں سے دور رہیں۔ خوراک، پانی، ادویات اور دیگر ضروری اشیاء کا ذخیرہ کر لیں۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی زیرِ قیادت سینئر معاونین نے ڈونلڈ ٹرمپ پر زور دیا ہے کہ ایران کے خلاف حملے سے پہلے سفارت کاری کو موقع دینا چاہیے۔
امریکی میڈیا کا دعویٰ ہے کہ وائٹ ہاؤس ایران کی جانب سے اپنے جوہری پروگرام کے حوالے سے مذاکرات کی پیشکش پر غور کر رہا تھا جبکہ ٹرمپ ایران کے خلاف فوجی کارروائی کی منظوری دینے پر غور کرتے دکھائی دے رہے تھے۔
دوسری جانب امریکی صدر ٹرمپ نے ایران سے تجارت کرنے پر نئی پابندیاں عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ تجارت کرنے والے کسی بھی ملک پر امریکا میں 25 فیصد ٹیرف عائد ہوگا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
امریکی سیکریٹری خارجہ مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں ایرانی ’جوہری پروگرام (Irani atomic programme)کے وہ پہلو بھی شامل ہیں، جس کا وہ (ایران) ایک مہینے یا سال قبل تک ذکر کرنے سے بھی انکار کر رہا تھا۔‘
امریکی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ اسلامی جمہوریہ کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نہ صرف زندہ ہیں بلکہ بظاہر تیزی سے سرگرم بھی ہو رہے ہیں۔
مارکو روبیو نے سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کو بتایا کہ ’میرے خیال میں اس بات کے آثار ہیں کہ وہ کسی نہ کسی سطح پر بڑھتا ہوا کردار ادا کر رہے ہیں۔
ایرانی ٹیلی ویژن کے مطابق، مجتبیٰ خامنہ ای کو 20 مارچ کے بعد سے عوامی سطح پر نہیں دیکھا گیا۔
وہ امریکی اور اسرائیلی حملوں کی پہلی لہر میں زخمی ہوئے تھے۔ ان کے والد علی خامنہ ای بھی اسی حملے میں مارے گئے تھے۔
مزید پڑھیں:عید تعطیلات کے بعد کاروباری اوقات کار پھر تبدیل کردئیے گئے
اسلامی جمہوریہ کے سپریم لیڈر کے دفتر میں بین الاقوامی امور کے نائب نے ایک ماہ قبل کہا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ ای کی صحت بالکل ٹھیک ہے اور وہ ’معاملات کے انتظام میں مصروف‘ ہیں۔