نوجوان اداکار سمجھتے ہیں ہمیں سب کچھ آتا ہے، صبا فیصل کی تنقید
اشاعت کی تاریخ: 13th, January 2026 GMT
معروف پاکستانی ٹیلی ویژن اداکارہ صبا فیصل نے حال ہی میں نوجوان اداکاروں کے سیٹ پر پیشہ ورانہ رویے میں کمی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
اداکارہ نے ایک حالیہ ٹی وی پروگرام میں شرکت کے دوران مختلف موضوعات پر بات کی اور نوجوان اداکاروں کے رویے کے حوالے سے بھی اپنے خیالات شیئر کیے۔
یہ بھی پڑھیں: نصیب سے بڑھ کر شہرت ملتی ہے نہ فالوورز، صبا فیصل نے تنقید پر خاموشی توڑ دی
اداکار کا کہنا تھا کہ میں نے اپنے سینیئرز سے بہت کچھ سیکھا ہے لیکن آج کل جونیئرز کو سکھانے کی روایت ختم ہو گئی ہے اور خود جونیئرز میں سیکھنے کی خواہش کم نظر آتی ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ہم عقل قل ہیں ہمیں سب آتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ جب نئے اداکار سیٹ پر آتے ہیں ہم زیادہ بات چیت نہیں کرتے اور فاصلہ رکھتے ہیں کیونکہ اگر ہم نے انہیں کچھ بتایا تو شاید وہ کہیں کہ معاف کیجیے گا آپ کون ہیں؟۔
صبا فیصل نے کہا کہ آج کل کے نوجوان اداکار بہت ذہین ہیں اور بہت اچھا کام کر رہے ہیں لیکن اب فٹ ورک کی اہمیت ختم ہو گئی ہے، پہلے بہت ریہرسل ہوتی تھی
یہ بھی پڑھیں: ’بہو کو کنٹرول کیسے کیا جائے؟‘، صبا فیصل کے مشوروں پر فضا علی اور مامیا شاہ جعفر کی سخت تنقید
آج کے اداکار تکنیکی طور پر تیار ہیں، لیکن کم از کم کچھ فنکار اپنے قدموں کے کام (فٹ ورک) کو سمجھیں۔ ہم اپنے سینیئرز کے ساتھ سارا وقت گزارتے اور ریہرسل کرتے تھے لیکن آج کل اکثر اداکار یہ بھی نہیں جانتے کہ فٹ ورک کیا ہوتا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اداکار پاکستانی ڈرامے صبا فیصل صبا فیصل بیان صبا فیصل ویڈیو وائرل.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اداکار پاکستانی ڈرامے صبا فیصل صبا فیصل بیان صبا فیصل ویڈیو وائرل نوجوان اداکار صبا فیصل
پڑھیں:
سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
فائل فوٹوسندھ کی تمام جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ صوبائی جیلوں میں 14 ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے لیکن 27 ہزار قیدی موجود ہیں۔
دستاویز کے مطابق کراچی کی سینٹرل جیل میں بھی قیدیوں کی تعداد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جہاں گنجائش 2400 قیدیوں کی ہے مگر 8 ہزار قیدی رہ رہے ہیں۔
اسی طرح ملیر جیل کی گنجائش 2200 قیدیوں کی ہے لیکن وہاں ساڑھے 5 ہزار قیدی موجود ہیں۔
جیو نیوز کو حاصل دستاویز کے مطابق صوبہ سندھ میں 23 جیلیں ہیں، جو نہ صرف بھری ہوئی ہیں بلکہ اب اوور پاپولیٹڈ ہوگئی ہیں۔
حیدرآباد سینٹرل جیل میں قیدیوں کی گنجائش ڈیڑھ ہزار کی ہے، جہاں 3 ہزار افراد قید کاٹ رہے ہیں۔
لاڑکانہ سینٹرل جیل ساڑھے 6 سو افراد کے لیے بنائی گئی لیکن یہاں 1 ہزار افراد قید ہیں، ٹھٹھہ کی جیل ڈھائی سو افراد کے لیے ڈیزائن کی گئی لیکن قیدی ساڑھے 9 سو ہیں۔
صوبے میں خواتین کی 3 جیلیں کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں قائم ہیں، جہاں موجود خواتین قیدیوں کی تعداد 438 تک پہنچ چکی ہے جبکہ ان میں سے صرف 68 خواتین سزا یافتہ ہیں۔
صوبے بھر کی جیلوں میں 27 ہزار قیدیوں میں سب سے زیادہ 22 ہزار 600 ایسے قیدی ہیں، جن کے کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جبکہ سزا یافتہ قیدیوں کی تعداد محض ساڑھے 3 ہزار ہے۔
جیلوں میں سزائے موت کے 459 افراد بھی اپنی زندگی کے دن گن رہے ہیں۔