معروف پاکستانی ٹیلی ویژن اداکارہ صبا فیصل نے حال ہی میں نوجوان اداکاروں کے سیٹ پر پیشہ ورانہ رویے میں کمی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

اداکارہ نے ایک حالیہ ٹی وی پروگرام میں شرکت کے دوران مختلف موضوعات پر بات کی اور نوجوان اداکاروں کے رویے کے حوالے سے بھی اپنے خیالات شیئر کیے۔

یہ بھی پڑھیں: نصیب سے بڑھ کر شہرت ملتی ہے نہ فالوورز، صبا فیصل نے تنقید پر خاموشی توڑ دی

اداکار کا کہنا تھا کہ میں نے اپنے سینیئرز سے بہت کچھ سیکھا ہے لیکن آج کل جونیئرز کو سکھانے کی روایت ختم ہو گئی ہے اور خود جونیئرز میں سیکھنے کی خواہش کم نظر آتی ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ہم عقل قل ہیں ہمیں سب آتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ جب نئے اداکار سیٹ پر آتے ہیں ہم زیادہ بات چیت نہیں کرتے اور فاصلہ رکھتے ہیں کیونکہ اگر ہم نے انہیں کچھ بتایا تو شاید وہ کہیں کہ معاف کیجیے گا آپ کون ہیں؟۔

صبا فیصل نے کہا کہ آج کل کے نوجوان اداکار بہت ذہین ہیں اور بہت اچھا کام کر رہے ہیں لیکن اب فٹ ورک کی اہمیت ختم ہو گئی ہے، پہلے بہت ریہرسل ہوتی تھی

یہ بھی پڑھیں: ’بہو کو کنٹرول کیسے کیا جائے؟‘، صبا فیصل کے مشوروں پر فضا علی اور مامیا شاہ جعفر کی سخت تنقید

آج کے اداکار تکنیکی طور پر تیار ہیں، لیکن کم از کم کچھ فنکار اپنے قدموں کے کام (فٹ ورک) کو سمجھیں۔ ہم اپنے سینیئرز کے ساتھ سارا وقت گزارتے اور ریہرسل کرتے تھے لیکن آج کل اکثر اداکار یہ بھی نہیں جانتے کہ فٹ ورک کیا ہوتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اداکار پاکستانی ڈرامے صبا فیصل صبا فیصل بیان صبا فیصل ویڈیو وائرل.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اداکار پاکستانی ڈرامے صبا فیصل صبا فیصل بیان صبا فیصل ویڈیو وائرل نوجوان اداکار صبا فیصل

پڑھیں:

سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود

فائل فوٹو

سندھ کی تمام جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ صوبائی جیلوں میں 14 ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے لیکن 27 ہزار قیدی موجود ہیں۔

دستاویز کے مطابق کراچی کی سینٹرل جیل میں بھی قیدیوں کی تعداد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جہاں گنجائش 2400 قیدیوں کی ہے مگر 8 ہزار قیدی رہ رہے ہیں۔

اسی طرح ملیر جیل کی گنجائش 2200 قیدیوں کی ہے لیکن وہاں ساڑھے 5 ہزار قیدی موجود ہیں۔

جیو نیوز کو حاصل دستاویز کے مطابق صوبہ سندھ میں 23 جیلیں ہیں، جو نہ صرف بھری ہوئی ہیں بلکہ اب اوور پاپولیٹڈ ہوگئی ہیں۔

حیدرآباد سینٹرل جیل میں قیدیوں کی گنجائش ڈیڑھ ہزار کی ہے، جہاں 3 ہزار افراد قید کاٹ رہے ہیں۔

لاڑکانہ سینٹرل جیل ساڑھے 6 سو افراد کے لیے بنائی گئی لیکن یہاں 1 ہزار افراد قید ہیں، ٹھٹھہ کی جیل ڈھائی سو افراد کے لیے ڈیزائن کی گئی لیکن قیدی ساڑھے 9 سو ہیں۔

صوبے میں خواتین کی 3 جیلیں کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں قائم ہیں، جہاں موجود خواتین قیدیوں کی تعداد 438 تک پہنچ چکی ہے جبکہ ان میں سے صرف 68 خواتین سزا یافتہ ہیں۔

صوبے بھر کی جیلوں میں 27 ہزار قیدیوں میں سب سے زیادہ 22 ہزار 600 ایسے قیدی ہیں، جن کے کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جبکہ سزا یافتہ قیدیوں کی تعداد محض ساڑھے 3 ہزار ہے۔

جیلوں میں سزائے موت کے 459 افراد بھی اپنی زندگی کے دن گن رہے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
  • فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
  • کراچی میں فائرنگ سے باپ اور نوجوان بیٹا جاں بحق
  • عشق پاکستانی نوجوان کو ایل او سی کے پار لے گیا
  • وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
  • ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
  • ہمیں پتہ ہے یہ ڈرے ہوئے ہیں، ہمارا فوکس بانی پی ٹی آئی کی رہائی ہے، علیمہ خان
  • کراچی: شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی پر پہلے روز کتنے چالان ہوئے؟
  • راولپنڈی: 1300 روپے کیلئے 2 نوجوان قتل، 7 ملزمان گرفتار
  • سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود