والدین کی دیکھ بھال نہ کرنے پر بھاری قیمت چکانی پڑے گی، سرکاری ملازمین کی تنخواہ سے بڑی کٹوتی کا انتباہ
اشاعت کی تاریخ: 13th, January 2026 GMT
بزرگ والدین جو اپنی زندگی کے سنہری لمحات بچوں کے ساتھ گزارنے کے خواب دیکھتے ہیں، بعض اوقات انہی بچوں کی لاپرواہی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ایسے بزرگ شہریوں کے تحفظ اور عزتِ نفس کو یقینی بنانے کے لیے تلنگانہ حکومت ایک اہم قانون سازی کرنے جا رہی ہے۔
بھارتی ریاست تلنگانہ کے چیف منسٹر ریونت ریڈی نے اعلان کیا ہے کہ حکومت ایسے سرکاری ملازمین کے خلاف قانون متعارف کرائے گی جو اپنے والدین کی دیکھ بھال میں ناکام رہیں۔ ان کی تنخواہ سے 10 سے 15 فیصد کٹوتی کی جائے گی اور یہ رقم والدین کے بینک اکاؤنٹس میں منتقل کی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں: اولڈ ایج ہوم کی تنہایوں میں مِسٹری مووی کا جنم، معمر افراد نے کمال کردکھایا
چیف منسٹر ریڈی نے کہا کہ جو لوگ اپنے والدین کی دیکھ بھال نہیں کرتے، وہ سماج کے تئیں اپنی ذمہ داری پوری نہیں کر رہے۔ یہ ایک انسانی اقدام ہے تاکہ ہمارے بزرگ عزت و وقار کے ساتھ زندگی گزار سکیں۔
مزید برآں، حکومت بزرگ شہریوں کے لیے ڈے کیئر سینٹرز قائم کر رہی ہے، جہاں ان کی شکایات کو سنجیدگی سے سنا جائے گا اور ضرورت پڑنے پر فوری کارروائی کی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں: اولڈ ایج ہوم میں بزرگ کیسے عید مناتے ہیں؟
ریڈی نے ٹرانس جینڈر کمیونٹی کو مزید نمائندگی دینے کا بھی اعلان کیا اور بتایا کہ اگلے مقامی انتخابات میں ہر میونسپل کارپوریشن میں ایک کو-آپشن ممبر کی پوسٹ اس کمیونٹی کے لیے مخصوص ہوگی۔
چیف منسٹر نے کہا کہ ’ہمارا مقصد ایک پرواہ کرنے والا اور منصفانہ تلنگانہ بنانا ہے جہاں کوئی پیچھے نہ رہ جائے۔‘ انہوں نے یہ بھی کہا کہ حکومت بجٹ اجلاس کے دوران ایک جامع صحت پالیسی کا اعلان کرے گی جس کے تحت ریاست کے تمام شہریوں کو طبی سہولتیں فراہم کی جائیں گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اولڈ ایج ہوم والدین کے لیے عدالت.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اولڈ ایج ہوم والدین کے لیے عدالت کے لیے
پڑھیں:
بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رکن قومی اسمبلی نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہا ہے کہ پاکستان کے خلاف ایک خاموش جنگ لڑی جا رہی ہے جو بارود سے زیادہ نوجوانوں کے ذہنوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔ بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
صوبائی وزرا علی مدد جتک اور عاصم کرد گیلو کے ہمراہ کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہاکہ دشمن پاکستان اور بلوچستان کو توڑنے کی کوشش کر رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ 2018 میں بشیر زیب نے جب ایک کالعدم تنظیم کی کمان سنبھالی تو حالات مزید خراب ہوئے، جبکہ جنید بشیر زیب کا رائٹ ہینڈ ہے۔
انہوں نے کہاکہ آج کی جنگ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر لڑی جا رہی ہے اور کالعدم تنظیموں کے کارندے زنگی ایپ کے ذریعے ایک دوسرے سے رابطے میں رہتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ کالعدم تنظیمیں سنگل ایپ کے ذریعے آپریشنل منصوبہ بندی جبکہ ڈیلٹا چیٹ کے ذریعے خفیہ بھرتیاں کرتی ہیں۔
نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہاکہ آج دشمن صرف گولی کا استعمال نہیں کر رہا بلکہ سوشل میڈیا پر ٹرینڈز چلا کر بھی اپنا ایجنڈا آگے بڑھا رہا ہے۔ ہم نہیں چاہتے کہ نوجوان پہاڑوں کا رخ کریں۔
انہوں نے دعویٰ کیاکہ کالعدم تنظیموں نے اپنی سرگرمیوں میں خواتین کا استعمال بھی شروع کر دیا ہے۔ شہناز بلوچ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے جلسوں میں شرکت کرتی تھیں اور ان کا باہوٹ کے ذریعے کالعدم تنظیم سے رابطہ ہوا۔
نوابزادہ جمال رئیسانی نے مزید کہاکہ بلوچ یکجہتی کمیٹی بلوچستان کی قیادت ڈاکٹر صبیحہ کر رہی ہیں اور ان کا بھائی ایک کالعدم تنظیم کا حصہ ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے کراچی سیل کی قیادت فوزیہ شاہوانی کررہی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews بلوچستان سیاست خاموش جنگ نوابزادہ جمال رئیسانی وی نیوز