بزرگ والدین جو اپنی زندگی کے سنہری لمحات بچوں کے ساتھ گزارنے کے خواب دیکھتے ہیں، بعض اوقات انہی بچوں کی لاپرواہی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ایسے بزرگ شہریوں کے تحفظ اور عزتِ نفس کو یقینی بنانے کے لیے تلنگانہ حکومت ایک اہم قانون سازی کرنے جا رہی ہے۔

بھارتی ریاست تلنگانہ کے چیف منسٹر ریونت ریڈی نے اعلان کیا ہے کہ حکومت ایسے سرکاری ملازمین کے خلاف قانون متعارف کرائے گی جو اپنے والدین کی دیکھ بھال میں ناکام رہیں۔ ان کی تنخواہ سے 10 سے 15 فیصد کٹوتی کی جائے گی اور یہ رقم والدین کے بینک اکاؤنٹس میں منتقل کی جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں: اولڈ ایج ہوم کی تنہایوں میں مِسٹری مووی کا جنم، معمر افراد نے کمال کردکھایا

چیف منسٹر ریڈی نے کہا کہ جو لوگ اپنے والدین کی دیکھ بھال نہیں کرتے، وہ سماج کے تئیں اپنی ذمہ داری پوری نہیں کر رہے۔ یہ ایک انسانی اقدام ہے تاکہ ہمارے بزرگ عزت و وقار کے ساتھ زندگی گزار سکیں۔

مزید برآں، حکومت بزرگ شہریوں کے لیے ڈے کیئر سینٹرز قائم کر رہی ہے، جہاں ان کی شکایات کو سنجیدگی سے سنا جائے گا اور ضرورت پڑنے پر فوری کارروائی کی جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں: اولڈ ایج ہوم میں بزرگ کیسے عید مناتے ہیں؟

ریڈی نے ٹرانس جینڈر کمیونٹی کو مزید نمائندگی دینے کا بھی اعلان کیا اور بتایا کہ اگلے مقامی انتخابات میں ہر میونسپل کارپوریشن میں ایک کو-آپشن ممبر کی پوسٹ اس کمیونٹی کے لیے مخصوص ہوگی۔

چیف منسٹر نے کہا کہ ’ہمارا مقصد ایک پرواہ کرنے والا اور منصفانہ تلنگانہ بنانا ہے جہاں کوئی پیچھے نہ رہ جائے۔‘ انہوں نے یہ بھی کہا کہ حکومت بجٹ اجلاس کے دوران ایک جامع صحت پالیسی کا اعلان کرے گی جس کے تحت ریاست کے تمام شہریوں کو طبی سہولتیں فراہم کی جائیں گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اولڈ ایج ہوم والدین کے لیے عدالت.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اولڈ ایج ہوم والدین کے لیے عدالت کے لیے

پڑھیں:

گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست

فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔

انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔

گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • حکومت کا مسلسل تین دنوں میں پیٹرولیم مصنوعات مہنگی کرنے کا نیا ریکارڈ
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • سرکاری ملازمین کے سفری اور تفریقی الاؤنس میں اضافے کی منظوری، نئی شرحیں جاری
  • صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ
  • پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ، خیبرپختونخوا حکومت کا بڑا ریلیف اعلان
  • حیسکو میں گھوسٹ، ریٹائرڈ ملازمین کی تنخواہ کے نام پر 1 ارب 6 کروڑ روپے کی خرد برد کا انکشاف
  • پی اے سی کی تمام ڈسکوز کے ملازمین کی تصدیق کی سفارش
  • سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن