پنجاب یونیورسٹی نے نکالے گئے طلبہ کا حکم امتناع ہائیکورٹ میں چیلنج کردیا
اشاعت کی تاریخ: 13th, January 2026 GMT
عدالت نے ریمارکس دیئے کہ بچوں کے مستقبل کا معاملہ ہے، عدالت معاملے کو انتہائی سنجیدگی سے لے گی، جو طلباء لڑائی جھگڑے پر نکالے گئے، آپ چاہتے ہیں کہ کیا وہ پکے ہی کریمنل بن جائیں؟ جسٹس راحیل کامران شیخ نے پنجاب یونیورسٹی کی درخواستوں پر سماعت کی۔ پنجاب یونیورسٹی کی جانب سے شہزاد شوکت ایڈووکیٹ پیش ہوئے اور موقف اختیار کیا کہ لڑائی جھگڑے پر یونیورسٹی نے 22 طلباء کو نکالا، طلباء نے سول کورٹ سے رجوع کیا۔ اسلام ٹائمز۔ لڑائی جھگڑے کے دوران پنجاب یونیورسٹی سے نکالے گئے طلباء کی جانب سے حکم امتناعی کا معاملہ، پنجاب یونیورسٹی نے سول کورٹ سے طلباء کو ملنے والے ریلیف کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کردیا۔ ہائیکورٹ نے سول کورٹ کے حکم امتناع کو فوری طور پر معطل کرنے کی یونیورسٹی کی استدعا مسترد کر دی اور فریقین طلباء کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب کرلیا۔ عدالت نے ریمارکس دیئے کہ بچوں کے مستقبل کا معاملہ ہے، عدالت معاملے کو انتہائی سنجیدگی سے لے گی، جو طلباء لڑائی جھگڑے پر نکالے گئے، آپ چاہتے ہیں کہ کیا وہ پکے ہی کریمنل بن جائیں؟ جسٹس راحیل کامران شیخ نے پنجاب یونیورسٹی کی درخواستوں پر سماعت کی۔ پنجاب یونیورسٹی کی جانب سے شہزاد شوکت ایڈووکیٹ پیش ہوئے اور موقف اختیار کیا کہ لڑائی جھگڑے پر یونیورسٹی نے 22 طلباء کو نکالا، طلباء نے سول کورٹ سے رجوع کیا، سول کورٹ نے حکم امتناعی جاری کرتے ہوئے طلباء کو تعلیم جاری رکھنے کا حکم دیدیا، جن طلبا و طالبات کو انہوں نے مارا وہ بھی اس کیمپس میں ہیں۔
فاضل جج نے پنجاب یونیورسٹی کے وکیل سے کہا کہ آپ نے کورٹ کی صرف دو نکات پر معاونت کرنی ہے، کیا طلباء کو قانون کے مطابق ڈیل کیا گیا، اور کیا طلباء کو دی جانیوالی سزاء ان کی غلطی سے مطابقت رکھتی ہے؟ یونیورسٹی نے آپ کو تو وکیل کرلیا، بچوں کے پاس آپ جیسا وکیل کرنے کی استطاعت نہیں ہوگی، عدالت اپنی معاونت کیلئے کیس میں عدالتی معاون بھی مقرر ک ررہی ہے۔ وکیل شہزاد شوکت نے کہا کہ یونیورسٹی کا لیگل ایڈوائزر ہوں، اتنی فیس نہیں ملی جتنی عام طور پر لیتا ہوں، استدعا ہے کہ تعلیمی اداروں کے معاملات میں عدالتیں مداخلت نہیں کرتیں۔ جسٹس راحیل کامران نے ریمارکس دیئے آپ کے تمام دلائل سنیں گے، پہلے آپ عدالت کے پوچھے گئے دو سوالات کے جواب دینے ہونگے۔ عدالت نے کیس کی مزید سماعت آئندہ ہفتے تک ملتوی کر دی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: پنجاب یونیورسٹی کی لڑائی جھگڑے پر یونیورسٹی نے نے سول کورٹ نکالے گئے طلباء کو
پڑھیں:
برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
برطانیہ کے 70 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ نے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن کے نتائج کو باضابطہ طور پر تسلیم کریں اور اسرائیل کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ گزشتہ ماہ جاری ہونے والی اقوامِ متحدہ کی آزاد تحقیقاتی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں نسل کشی کے زمرے میں آتی ہیں اور رپورٹ میں خاص طور پر اسرائیلی حملوں میں بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کی تصدیق بھی تھی۔
ارکان پارلیمان نے کھلے خط میں نو منتخب وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی جولائی 2024 کی مشاورتی رائے پر بھی عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔
برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ کے بقول عالمی عدالت نے اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ فوری طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اپنی موجودگی ختم کرے، تمام اسرائیلی بستیاں ختم کرے، متاثرہ فلسطینیوں کو معاوضہ ادا کرے اور بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی واپسی میں تعاون کرے۔
عدالت نے اپنی رائے میں یہ بھی کہا تھا کہ دنیا کے تمام ممالک پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو اسرائیلی قبضے کو برقرار رکھنے یا اس میں معاونت کا سبب بنیں۔
خط میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل پر مکمل اسلحہ پابندی عائد کی جائے، اسرائیلی حکام کے خلاف پابندیاں لگائی جائیں اور ایسی ہر قسم کی تجارت پر پابندی عائد کی جائے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں کو فائدہ پہنچاتی ہو۔
ارکانِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے واضح اور مؤثر پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔
I'm one of 80 MPs & Peers calling on the PM to:
- Recognise the UN’s findings on genocide & implement the ICJ ruling in full
- Impose sanctions including a full arms embargo
- Ban trade that supports Israel’s illegal settlements
End Britain’s complicity in genocide, now. pic.twitter.com/TjtJ0yj2Qq
فلسطین سالیڈیرٹی کمپین کے نائب ڈائریکٹر پیٹر لیری نے ارکانِ پارلیمنٹ کے خط کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ برطانوی حکومت نے طویل عرصے سے نسل کشی کنونشن اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے مؤقف کو نظر انداز کیا ہے۔
انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ برطانیہ مسلسل ایسی پالیسیاں اپناتا رہا ہے جن سے فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کو عملی یا سفارتی حمایت ملتی رہی۔
خیال رہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتا ہے اور مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے خلاف ہیں جبکہ شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔
واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ اور متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیلی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے غزہ میں بڑے پیمانے پر شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کے جانی نقصان پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔