بچوں کی صحت کا سب سے بڑا دشمن ’جوس‘
اشاعت کی تاریخ: 13th, January 2026 GMT
زیادہ تر والدین بچوں کی خوراک کو لے کر خاصے فکرمند رہتے ہیں اور اکثر اس بات کی شکایت کرتے نظر آتے ہیں کہ بچے باہر کی چیزیں جیسے چپس، چاکلیٹ اور دیگر اسنیکس زیادہ کھاتے ہیں۔
تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ کئی بار والدین لاعلمی میں خود ہی بچوں کو ایسی غذائیں دے دیتے ہیں جو ان کی صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہیں۔ یہ اس لیے ہوتا ہے کہ بازار میں کچھ اشیا کو صحت بخش کہہ کر پیش کیا جاتا ہے، جبکہ حقیقت میں ان کا صحت سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں ہوتا۔
مشہور آرتھوپیڈک سرجن ڈاکٹر عبید الرحمٰن نے سوشل میڈیا پر جاری ایک ویڈیو میں خبردار کیا ہے کہ پیک شدہ فروٹ جوس بچوں کی صحت کے لیے خاموش نقصان کا باعث بن رہا ہے۔ ان کے مطابق، والدین روزانہ بچوں کو فروٹ جوس اس نیت سے دیتے ہیں کہ یہ غذائیت سے بھرپور ہے، جبکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔
View this post on InstagramA post shared by Obaidur Rahman (@drobaid_rahman)
ڈاکٹر کے مطابق مارکیٹ میں دستیاب فروٹ جوس میں قدرتی فائبر تقریباً ختم ہو چکا ہوتا ہے، جبکہ اس میں بڑی مقدار میں ریفائنڈ شوگر، صنعتی نشاستہ، مصنوعی رنگ اور فلیور شامل کیے جاتے ہیں۔ یہ اجزا بچوں کے جسم میں زیادہ مقدار میں فرکٹوز پہنچاتے ہیں، جو فیٹی لیور جیسی سنگین بیماری کا خطرہ بڑھا سکتا ہے۔
بین الاقوامی طبی تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ روزانہ فروٹ جوس یا دیگر میٹھے مشروبات پینے والے بچوں میں موٹاپے، انسولین ریزسٹنس اور ٹائپ 2 ذیابیطس کے امکانات نمایاں طور پر بڑھ جاتے ہیں۔
ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ بچوں میں فیٹی لیور جیسی بیماری ایک خاموش مسئلہ بنتی جا رہی ہے۔ خاص طور پر ایک سے پانچ سال کی عمر کے کئی بچوں میں جگر میں چربی جمع ہونے کے کیسز دیکھے گئے ہیں، جن کی ایک بڑی وجہ روزانہ فروٹ جوس کا استعمال بتایا جا رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق فرکٹوز جگر میں جا کر چربی میں تبدیل ہو جاتا ہے، جس سے آہستہ آہستہ جگر متاثر ہوتا ہے، جبکہ اس بیماری کی ابتدا میں کوئی واضح علامات بھی ظاہر نہیں ہوتیں۔
ماہرین غذائیت اس بات پر بھی زور دیتے ہیں کہ چاہے جوس پر ”100 فیصد فروٹ جوس“ ہی کیوں نہ لکھا ہو، پھر بھی یہ پورے پھل کا متبادل نہیں ہو سکتا۔ پورا پھل چبانے سے فائبر برقرار رہتا ہے، جو شکر کے جذب ہونے کی رفتار کو سست کرتا ہے، جبکہ جوس میں یہ حفاظتی عنصر موجود نہیں ہوتا۔
ڈاکٹر عبید الرحمٰن کے مطابق فروٹ جوس کی طرح کریم بسکٹ بھی بچوں کے لیے نقصان دہ ہیں، کیونکہ ان میں بھی ریفائنڈ شوگر، کاربوہائیڈریٹس اور مصنوعی اجزا کی مقدار زیادہ ہوتی ہے۔ یہ غذائیں وقتی طور پر توانائی ضرور دیتی ہیں، مگر بچوں کے جگر اور مجموعی صحت پر منفی اثر ڈالتی ہیں۔
ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ یہ سوچ غلط ہے کہ بچپن میں کھائی جانے والی ہر چیز جسم آسانی سے ہضم کر لیتا ہے۔ درحقیقت ابتدائی عمر میں دی جانے والی غلط غذا مستقبل کی بڑی بیماریوں کی بنیاد بن سکتی ہے۔
بچوں کی بہتر نشوونما کے لیے ضروری ہے کہ ان کی خوراک میں پورے پھل، سبزیاں، پروٹین، دالیں، دودھ اور پانی کو ترجیح دی جائے، تاکہ ان کی صحیح نشوونما ہو سکے۔ جبکہ پیک شدہ جوس اور میٹھے مشروبات کو محدود یا ترک کیا جائے۔
ماہرین کا واضح پیغام ہے کہ چپس اور جنک فوڈ جتنے نقصان دہ ہیں، پیک شدہ فروٹ جوس بھی اتنا ہی بڑا، بلکہ بعض صورتوں میں اس سے بھی زیادہ خطرناک ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ یہ صحت کے نام پر بچوں کو دیا جاتا ہے اور خاموشی سے جسم کو نقصان پہنچاتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: فروٹ جوس کے مطابق بچوں کی نہیں ہو کے لیے
پڑھیں:
لاہور میں موسلا دھار بارش، سڑکیں زیر آب، معمولات زندگی متاثر
لاہور میں مون سون کی شدید بارشوں نے معمولات زندگی متاثر کر دیے، کئی علاقوں میں سڑکیں، چوراہے اور انڈر پاسز پانی میں ڈوب گئے جبکہ ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہوئی۔ محکمہ موسمیات کے مطابق گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران شہر میں 343 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، جس کے باعث متعدد نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہوگیا۔
لاہور کے مختلف علاقوں میں بارش کا پانی جمع ہونے سے شہریوں کو آمدورفت میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ بعض سڑکوں اور گلیوں میں 3 سے 4 فٹ تک پانی کھڑا رہا، جبکہ کئی مقامات پر گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور میں بارش کے بعد کئی علاقے زیر آب، ’اب آفس جانےکے لیے کشتی کی ضرورت ہوگی‘
ڈیفنس کے فیز ون سے فیز فائیو تک مختلف مقامات پر پانی جمع ہونے سے ٹریفک متاثر ہوئی، جبکہ غازی انڈر پاس اور مسجد چوک انڈر پاس کو پانی بھرنے کے باعث بند کرنا پڑا اور ٹریفک کو متبادل راستوں پر منتقل کیا گیا۔
حربنس پورہ، مال روڈ، کوپر روڈ، لکشمی چوک اور چوبرجی چوک سمیت متعدد علاقوں میں بھی پانی جمع ہونے کی اطلاعات ملیں، جہاں واسا کی ٹیمیں نکاسی آب میں مصروف رہیں۔
شدید بارش کے باعث شہر کی کئی سڑکوں پر گڑھے بھی پڑ گئے۔ کینال روڈ، جوہر ٹاؤن مین بلیوارڈ اور بھیکے والا موڑ سمیت مختلف مقامات پر سڑکیں متاثر ہوئیں، جس کے بعد ٹریفک پولیس نے متاثرہ علاقوں کو بند کرکے متبادل راستے فراہم کیے۔
یہ بھی پڑھیں: مون سون سیزن: لاہور سے ایک گھنٹے میں بارش کا پانی نکالنا ہدف ہے، ڈی ایم ڈی واسا
صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق پنجاب میں حالیہ مون سون بارشوں کے دوران مختلف حادثات میں اب تک 21 افراد جاں بحق اور 154 زخمی ہو چکے ہیں۔ جاں بحق ہونے والوں میں 15 افراد مکانات گرنے، 2 آسمانی بجلی گرنے، 3 کرنٹ لگنے جبکہ ایک شخص ڈوبنے سے جاں بحق ہوا۔
واسا لاہور کے مطابق شہر میں ہنگامی بنیادوں پر نکاسی آب کا عمل جاری ہے، تمام ڈسپوزل اسٹیشن مکمل استعداد کے ساتھ کام کر رہے ہیں جبکہ متاثرہ مقامات پر اضافی مشینری اور عملہ تعینات کیا گیا ہے۔
ضلعی انتظامیہ اور واسا نے شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے، نشیبی علاقوں اور بجلی کے کھمبوں سے دور رہنے کی ہدایت کی ہے۔ شہریوں نے تاہم ہر سال بارشوں کے دوران پانی جمع ہونے کے مسئلے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے نکاسی آب کے نظام کو بہتر بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news بارش پانی زیر آب لاہور